aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "jam.iyyat"
جمعیت شباب الاسلام ، لکھنؤ
ناشر
دفتر جمعیت دعوت وتبلیع اسلام، لاہور
اسلامی جمعیت طلبہ، پاکستان
جمعیۃ الاشرف، کچھوچھہ، فیض آباد
جمعیۃ اتحاد امداد باہمی، حیدرآباد
مدیر
شعبہ نشر و اشاعت جمعیۃ علماء، حیدرآباد
جمعیۃ الاصلاح، لکھنؤ
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند، دہلی
مصنف
مطبوعہ الجمعیۃ پریس، دہلی
انجمن اساتذہ اردوجامعات ہند
جمیعۃ الہلال الاحمر، مظفرپور
دفتر جمعیۃ خدام، کراچی
شعبۂ نشر و اشاعت مرکزی جمعیۃ المشائخ، لاہور
ادارہ اہل سنت و جماعت، حیدرآباد
جمالیات، لاہور
ہم کو جمعیت خاطر یہ پریشانی تھیورنہ امت ترے محبوب کی دیوانی تھی
کیونکے حاصل ہو مج کو جمعیتزلف تیری قرار کھوتی ہے
خواب جمعیت مخمل ہے پریشاں مجھ سےرگ بستر کو ملی شوخیٔ مژگاں مجھ سے
عرض ناز شوخیٔ دنداں برائے خندہ ہےدعواۓ جمعیت احباب جاۓ خندہ ہے
اسدؔ جمعیت دل در کنار بے خودی خوش تردو عالم آگہی سامان یک خواب پریشاں ہے
जम'इय्यती جَمْعِیَّتی
جمعیت (رک) سے منسوب یا متعلق .
ज़म्मियाती ضَمِّیاتی
(نفسیات) مشترک ، سماجی ، الحاقی .
जम'इय्यत جَمْعِیَّت
اطمینان، سکون قلب
عربی
जामि'इय्यत جامِعِیَّت
وسعت، اکملیت، ہمہ گیری
انتخاب خطبات جمعیۃ علماء ہند
ڈاکٹر شجاعت علی سندیلوی
خطبات
جمعیۃ العلماء کیا ہے؟
حسین احمد مدنی
جمعیۃ حیدرآباد
نامعلوم مصنف
ادارہ جاتی
لیگ آف نیشنز-جمیعت الاقوام
ایم ایچ بھٹی
011
اسرار الحق قاسمی
Mar 1991الجمعیۃ
اردو صحافت اوراخبار الجمعیتہ
ساجد علی
تاریخ و تنقید
جمعیۃ رعایائے نظام کے مسلک پر ایک تنقیدی نظر
احمد عبداللہ المسدوسی
تنقید
021
محمد عثمان فارقلیط
Mar 1937الجمعیۃ
036
محی الدین قائد
May 1937الجمعیۃ
026
Apr 1937الجمعیۃ
029
022
جمعیت العلماء ہند
پروین روزینہ
خواتین کی تحریریں
خطبۂ صدارت اجلاس پنجم جمعیت علماء بہار
مولوی محمد علی
007
ایم۔ کاظم
Jul 2000کردار جمعیۃ
برہم کرے جمعیت کونین جو پل میںلٹکا وہ تری زلف پریشان میں دیکھا
جمعیت اسلامیاںشاہنشہ ہندوستاں
یہ پریشانی مری سامان جمعيت نہ ہویہ جگر سوزی چراغ خانۂ حکمت نہ ہو
نہ ہم میں عقل و فراست نہ حکمت و تدبیرمگر ہے زعم کہ جمعیت مثالی ہیں
پانی بھی مسخر ہے ، ہوا بھی ہے مسخرکيا ہو جو نگاہ فلک پير بدل جائے
ڈھونڈنے نکلے تھے جمعیت خاطر لیکنشہر کا شہر پریشاں ہے یہ معلوم ہوا
بيچاری کئی روز سے دم توڑ رہی ہےڈر ہے خبر بد نہ مرے منہ سے نکل جائے
ہے باعث جمعیت دل ایک جہاں کیاے شوخ پریشانیٔ کاکل کی اشارت
میں تجھے آیا ہوں ایماں بوجھ کرباعث جمعیت جاں بوجھ کر
میری جمعیت خاطر کو پریشاں نہ کروزلف برہم کو ہٹاؤ نہ ابھی شانے سے
جمعیت حسن آپ کی سب پر ہوئی ظاہرجس بزم میں با حال پریشان گئے ہم
فکر جمعیت دل ہم کو کہاں آہ حسنؔخاطر آشفتۂ گیسوئے پریشاں ہیں ہم
خواب جمعیت مخمل ہے پریشاں مجھ سےرگ بستر کو ملی شوخی مژگاں مجھ سے
تو نے اے جمعیت دل کی ہوساور بھی مجھ کو پریشاں کر دیا
اس کے چہرے پہ دیکھتا تھا میںجامعیت جو اقتباس میں تھی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books