aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "jananii"
شکیب جلالی
1934 - 1966
شاعر
شکیل جمالی
born.1958
چراغ حسن حسرت
1904 - 1955
مصنف
مظہر مرزا جان جاناں
1699 - 1781
جاناں ملک
born.1987
شاعر جمالی
1943 - 2008
جانی لکھنوی
born.1998
عارف جلالی
1928 - 2009
عبدالباری عارف جمالی
مہیش جانب
born.1952
جانی شیدا
born.1950
بدر جمالی
فاروق جائسی
تمنا جمالی
وفا نیازی
born.1936
سارے رشتے ناتے تجھ سےرشتوں کی جننی ہے تو
ترے ہی حسن کا چرچا زمیں سے آسماں تک ہےمحافظ بھی ہے اور جننی بھی ہے
جیون جننیکو کیا ملا
بار بار اٹھنا اسی جانب نگاہ شوق کااور ترا غرفے سے وہ آنکھیں لڑانا یاد ہے
بزم جاناں میں نشستیں نہیں ہوتیں مخصوصجو بھی اک بار جہاں بیٹھ گیا بیٹھ گیا
معروف پاکستانی شاعر، کم عمری میں خود کشی کی
انسانی زندگی میں جو دور سب سے زیادہ امنگوں ، آرزؤں ، تمناؤں اور رنگینیوں سے بھرا ہوتا ہے وہ جوانی ہی ہے ۔ جوانی کو موضوع بنانے والی شاعری جوانی کی ان رنگینیوں کو بھی قید کرتی ہے اور جوانی کے گزرنے اور اس کی یاد سے چھا جانے والے گہرے ملال کو بھی ۔
जानानी جانانی
جاناں (رک) سے منسوب یا متعلق .
जानाँ جاناں
فارسی
محبوب، معشوق، پیارا
जहानी جَہانی
اہل دنیا، اہل جہاں، دنیا والے
जननी جَننی
سنسکرت
ملائمت، نرمی، محبت، شفقت، رحم دلی، ترس، دَیا، تلطف، رافت
مرأت جلالی
خلیل احمد
کلیات شکیب جلالی
کلیات
جوانی اور محبت
خلیل جبران
مضامین
بچپن لڑکپن جوانی
لیو ٹالسٹائی
سوانحی
جہان دانش
احسان دانش کاندھلوی
جہان رومی
مرزا مظہر جان جاناں
سید تبارک علی نقش بندی
تحقیق
جہان خسرو
فاروق ارگلی
مقالات/مضامین
جہان دیدہ
مفتی محمد تقی عثمانی
سفر نامہ
ذوالفقار احسن
تنقید
کلمات طیبات
قاضی ثناء اللہ پانی پتی
خطوط
نئی جوانی
پنڈت کرشن کنور دت
تذکرہ اولیائے راجستھان
شاہد احمد جمالی
تذکرہ
تاریخ خان جہانی و مخزن افغانی
خواجہ نعمت اللہ
ترجمہ
محمد حمید شاہد کی افسانہ نگاری
زوار طالب چودھری
فکشن تنقید
میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگرلوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
کتنا آساں تھا ترے ہجر میں مرنا جاناںپھر بھی اک عمر لگی جان سے جاتے جاتے
کس طرح چھوڑ دوں تمہیں جاناںتم مری زندگی کی عادت ہو
آشنا ہیں ترے قدموں سے وہ راہیں جن پراس کی مدہوش جوانی نے عنایت کی ہے
گزر رہا ہوں کچھ انجانی رہ گزاروں سےمہیب سائے مری سمت بڑھتے آتے ہیں
مجھ میں رہتا ہے کوئی دشمن جانی میراخود سے تنہائی میں ملتے ہوئے ڈر لگتا ہے
حسن کے سمجھنے کو عمر چاہیئے جاناںدو گھڑی کی چاہت میں لڑکیاں نہیں کھلتیں
اب کے تجدید وفا کا نہیں امکاں جاناںیاد کیا تجھ کو دلائیں ترا پیماں جاناں
حاصل کن ہے یہ جہان خرابیہی ممکن تھا اتنی عجلت میں
تمہارے ہجر کی شب ہائے کار میں جاناںکوئی چراغ جلا لوں اگر اجازت ہو
سیر کر دنیا کی غافل زندگانی پھر کہاںزندگی گر کچھ رہی تو یہ جوانی پھر کہاں
تم سے جاناں ملا ہوں جس دن سےبے طرح خود سے ڈر گیا ہوں میں
لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میںتم ترس نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں
نا شمع کو جلانے سےنا شمع کو بجھانے سے
جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کہ رات دنبیٹھے رہیں تصور جاناں کیے ہوئے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books