aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "kaakh"
شین کاف نظام
born.1947
شاعر
غوث خواہ مخواہ حیدرآبادی
1929 - 2017
جواہر لعل نہرو
1889 - 1964
مصنف
کاش قنوجی
born.1983
چرخ چنیوٹی
خواجہ قطب الدین بختیار کاکی
1173 - 1235
خاکی حیدرآبادی
کاش البرنی
عطاء الرحمان خاکی
born.1988
محمد اسامہ خاکی
شبیب احمد کاف
محمد حسین کاف
ملک فضل الدین ککےزئی
مترجم
ملک چنن الدین ککے زئی
مدیر
م ، ک ، مہتاب
اٹھو مری دنیا کے غریبوں کو جگا دوکاخ امرا کے در و دیوار ہلا دو
کیا نہیں ممکن کہ تیرا چاک دامن ہو رفوابلیس
میں خود میں حسن کوزہ گر پا بہ گل خاک بر سر برہنہسر چاک ژولیدہ مو سر بہ زانو
یزید موسم عصیاں کا لا علاج مرضحسین خاک سے خاک شفا بناتا ہے
عزت کی کنی ہماری زبان سے شروع ہوتی ہےکوئی رات ہمارا نمک چکھ لے
रख رَکھ
رکھنا (فعل متعدی) کا اسم مصدر (حسب ذیل ترکیبوں میں مستعمل)
سنسکرت
चख چکھ
چکھنا (رک) سے مشتق ، محاورات و ترکیبات میں مستعمل .
चख़ چَخ
چیخ کربولنے کی آواز، شوروغل، فضول بکواس، بک بک، جھک جھک، ہنسی مذاق چھیڑ
فارسی
लाख لاکھ
کتنا ہی، ہر چند ، بہتیرا.
کاخ بلند
حکیم عبد الکریم
نظم
کاخ غریباں
سید ساجد علی ٹونکی
فرہنگ ہر چہار کاخ داستان ترکتازان ہند
نامعلوم مصنف
داستان ترکتازان ہند
اپنا گریباں چاک
جاوید اقبال
خود نوشت
اردو زبان کی تاریخ کا خاکہ
مسعود حسین خاں
تاریخ
اردو کے بہترین شخصی خاکے
مبین مرزا
خاکے/ قلمی چہرے
ہندوستانی لسانیات کا خاکہ
جان بمیز
ترجمہ
قواعد عملیات
رجوع ہمزاد
نفسیات
آنگن میں ستارے
اسلم فرخی
اردو زبان اور ادب کا خاکہ
خوشحال زیدی
تحقیق
دیوان خواجہ قطب الدین بختیار کاکی
شاعری
اردو کی ادبی تاریخ کا خاکہ
ابواللیث صدیقی
آزادی کے بعد دہلی میں اردو خاکہ
شمیم حنفی
پہنچے ہوٹل میں تو پھر عید کی پروا نہ رہیکیک کو چکھ کے سوئیوں کا مزا بھول گئے
چکھ کے دیکھو اسے کبھی تم بھیاس اداسی میں ذائقہ ہے بہت
جھانکتا صورت خیل آوارگاںغرفہ غرفہ بہر کاخ و کو شہر میں
کاخ و کوئے اہل دولت کی بنا ہے ریت پراک دھماکے سے یہ سب زیر و زبر ہو جائیں گے
لات گھونسہ چھڑی چھری چاقولب لباہٹ لعاب کف بدبو
یہ درد خواب ہے اس کو بھی چکھ کے دیکھ ہی لوںپتہ کہیں تو چلے خواب میں مزا کیا ہے
میں خود کو چکھ نہیں پاتا کہ توڑ لیتی ہےمجھے ہوائے خزاں جب بھی پکنے لگتا ہوں
شہر میں اب ہمارے چرچے ہیںجگمگاتے ہیں کاخ و کو ہم سے
عمر تمام کاٹ دی حسرت کاخ و کو لیےمیرے تمہارے سامنے ارض و سما بھی کیوں کھلے
انگلیاں چاٹتے رہ جاؤ گےتم کبھی اپنا لہو چکھ دیکھو
چکھ لیا اس نے پیار تھوڑا سااور پھر زہر کر دیا ہے مجھے
چپ رہتے ہیں اس کے سامنے جا کر ہمیوں اس کو چکھ یاد دلایا کرتے ہیں
روز جھکتا ہے کوئے دل کی طرفکاخ صد بام کا کوئی زینا
جسے بہشت میں آدم نے چکھ لیا تھا اطیبؔمیں کھا رہا ہوں وہی پھل، مجھے یہاں سے نکال
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books