aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "kabiida"
کبیر
1440 - 1518
شاعر
شاہد کبیر
1932 - 2001
کالی داس گپتا رضا
1925 - 2001
مصنف
کبیر اجمل
1967 - 2020
خدیجہ مستور
1927 - 1982
خالدہ عظمی
خالدہ حسین
1938 - 2019
ثمیر کبیر
born.1973
کبیر اطہر
born.1962
ثمر کبیر
born.1957
انعام کبیر
born.1997
کبیر احمد جائسی
1934 - 2013
کالی داس
خدیجہ خان
born.1968
سریر کابری
1888 - 1963
غیروں کو اپنے ہاتھ سے ہنس کر کھلا دیامجھ سے کبیدہ ہو کے کہا پان لیجئے
جب شکایت کی کبیدہ خاطری حاصل ہوئیصبر محرومی مرا حرف دعا ثابت ہوا
مخالف ہیں پس دیوار میرےسر محفل جو پڑھتے ہیں قصیدہ
محراب میں رہو نہ سجدہ کیا کرو نہبے وقت کیا ہے طاعت قد اب ہوا خمیدہ
کیا وسوسہ ہے مجھ کو عزت سے جینے کا یاںنکلا نہ میرے دل سے یہ خار نا خلیدہ
قصیدہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کے لغوی معنی "نیت اور ارادے " کے ہیں۔ قصیدہ شاعری کی ایک ایسی شکل اور صنف ہے جس میں شاعر کسی کی تعریف کرتا ہے۔
قصیدے کی دس بہترین کتابیں یہاں پڑھیں۔ اس صفحہ پر اردو قصیدے کے بہترین مجموعے دستیاب ہیں، جن کو ریختہ نے ای بک قارئین کے لیے منتخب کیا ہے۔
اردو قصیدہ کی تنقید پر دس بہترین کتابیں یہاں پڑھیں۔ اس صفحہ پرقصیدہ تنقید کی معیاری کتابیں دستیاب ہیں، جن کو ریختہ نے ای بک قارئین کے لیے منتخب کیا ہے۔
कबीदा کَبِیدَہ
ملول، رنجید، ملول، آزردہ
فارسی
दरीदा دَرِیدَہ
پھٹا ہوا، چاک کیا ہوا (بطور سابقہ و لاحقہ مستعمل)
ख़बरिया خَبْرِیَہ
(قواعد) جملہ کی ایک قسم جس سے کوئی اِطّلاع یا اشارہ ملتا ہو
कमीना کَمِینَہ
ذلیل، بدخصلت، سفلہ، کمین ذات
اردو زبان کا قاعدہ
اسماعیل میرٹھی
سیکھنے کے وسائل/ قواعد
قصیدہ کا فن اور اردو قصیدہ نگاری
ایم کمال الدین
قصیدہ تنقید
اردو قصیدہ نگاری
ام ہانی اشرف
سپنا سا لگے
غزل
اردو میں قصیدہ نگاری
ابو محمد سحر
شاعری تنقید
غزل، قصیدہ اور رباعی
مغنی تبسم
نصاب
مصروف عورت
تذکرہ
قصائد سودا
محمد رفیع سودا
قصیدہ
آنگن
ناول
اردوقصیدہ نگاری کا تنقیدی جائزہ
محمود الٰہی
چکیدہ تاریخ ادبیات ایران
منظر امام
کلاسیکی شاعری (مثنوی، مرثیہ، قصیدہ)
نامعلوم مصنف
ٹھنڈا میٹھا پانی
کہانیاں/ افسانے
بچوں کے لئے اردو کا آسان قاعدہ
اظہار احمد تھانوی
خدیجہ مستور کی ناول نگاری پر ایک نظر
ڈاکٹر اشتیاق عالم اعظمی
تعلقات حمیراؔ کبیدہ ہونے میںنگاہ دوست کی آواز بھی کرخت ہوئی
کبیدہ مالی فسردہ غنچےحدوں سے اپنی گزر گئے ہیں
وہ دیکھے ہم کو آکر جن نے نہ دیکھے ہوویںآزردہ دل شکستہ خاطر کبیدہ مردم
خاک سے پا کر مفر کس کو نہ خوش آیا سفردل گرفتہ کون ہے خاطر کبیدہ کون ہے
کبیدہ لمحوں کو تازگی دےبریدہ لفظوں کو زندگی دے
غم شائستگی ہے اور میں ہوںکبیدہ خاطری ہے اور میں ہوں
نہ اذن آہ و فغاں ہے کہ نوحۂ ہستیکسے سنائیں جو الفاظ خوں چکیدہ ہیں
یہ شہر جسم میں نشتر سے کون توڑتا ہےیہ کس کے واسطے رہتا ہوں دل کبیدہ میں
ہم تھے لا سمت مسافت سے کبیدہ خاطروصل کے منظر شاداب منانے آئے
باپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہوپھر پسر قابل میراث پدر کیونکر ہو
ڈھل چکی رات بکھرنے لگا تاروں کا غبارلڑکھڑانے لگے ایوانوں میں خوابیدہ چراغ
کٹ مرے اپنے قبیلے کی حفاظت کے لیےمقتل شہر میں ٹھہرے رہے جنبش نہیں کی
قاصدا ہم فقیر لوگوں کااک ٹھکانہ نہیں کہ تجھ سے کہیں
کیا جانئے کیوں تیز ہوا سوچ میں گم ہےخوابیدہ پرندوں کو درختوں سے اڑا کر
بیا پیدا خریدا راست جان نا توانے راپس از مدت گزار افتاد برما کاروانے را
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books