Shahid Kabir's Photo'

شاہد کبیر

1932 - 2001 | ناگپور, ہندوستان

شاہد کبیر

غزل 17

اشعار 16

زندگی اک آنسوؤں کا جام تھا

پی گئے کچھ اور کچھ چھلکا گئے

  • شیئر کیجیے

بے سبب بات بڑھانے کی ضرورت کیا ہے

ہم خفا کب تھے منانے کی ضرورت کیا ہے

تباہ کر گئی پکے مکان کی خواہش

میں اپنے گاؤں کے کچے مکان سے بھی گیا

آپ کے دم سے تو دنیا کا بھرم ہے قائم

آپ جب ہیں تو زمانے کی ضرورت کیا ہے

مے خانہ کی بات نہ کر واعظ مجھ سے

آنا جانا تیرا بھی ہے میرا بھی

کتاب 4

چاروں اور

 

1968

کچی دیواریں

 

1958

مٹی کا مکان

 

 

پہچان

 

1999

 

تصویری شاعری 5

زندگی اک آنسوؤں کا جام تھا پی گئے کچھ اور کچھ چھلکا گئے

غم کا خزانہ تیرا بھی ہے میرا بھی یہ نذرانہ تیرا بھی ہے میرا بھی اپنے غم کو گیت بنا کر گا لینا راگ پرانا تیرا بھی ہے میرا بھی کون ہے اپنا کون پرایا کیا سوچیں چھوڑ زمانہ تیرا بھی ہے میرا بھی شہر میں گلیوں گلیوں جس کا چرچا ہے وہ افسانہ تیرا بھی ہے میرا بھی تو مجھ کو اور میں تجھ کو سمجھاؤں کیا دل دیوانہ تیرا بھی ہے میرا بھی مے_خانہ کی بات نہ کر واعظ مجھ سے آنا جانا تیرا بھی ہے میرا بھی جیسا بھی ہے شاہدؔ کو اب کیا کہیے یار پرانا تیرا بھی ہے میرا بھی

زندگی اک آنسوؤں کا جام تھا پی گئے کچھ اور کچھ چھلکا گئے

 

آڈیو 13

اندر کا سکوت کہہ رہا ہے

بے_سبب بات بڑھانے کی ضرورت کیا ہے

پایا نہیں وہ جو کھو رہا ہوں

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

متعلقہ شعرا

  • الماس جاوید الماس جاوید بیٹی
  • ثمیر کبیر ثمیر کبیر بیٹا
  • الماس جاوید الماس جاوید بیٹی

"ناگپور" کے مزید شعرا

  • ناطق گلاوٹھی ناطق گلاوٹھی
  • شمشاد شاد شمشاد شاد
  • منشاء الرحمن خاں منشاء منشاء الرحمن خاں منشاء
  • شاداب انجم شاداب انجم
  • شاطرحکیمی شاطرحکیمی
  • شارق جمال ناگپوری شارق جمال ناگپوری
  • ثمیر کبیر ثمیر کبیر
  • محمد شرف الدین ساحل محمد شرف الدین ساحل
  • شریف احمد شریف شریف احمد شریف
  • اظہر بخش اظہر اظہر بخش اظہر