Shahid Kabir's Photo'

شاہد کبیر

1932 - 2001 | ممبئی, ہندوستان

غزل 15

اشعار 16

زندگی اک آنسوؤں کا جام تھا

پی گئے کچھ اور کچھ چھلکا گئے

life was a cup of teardrops unallayed

some were drunk and some were idly sprayed

life was a cup of teardrops unallayed

some were drunk and some were idly sprayed

  • شیئر کیجیے

تباہ کر گئی پکے مکان کی خواہش

میں اپنے گاؤں کے کچے مکان سے بھی گیا

بے سبب بات بڑھانے کی ضرورت کیا ہے

ہم خفا کب تھے منانے کی ضرورت کیا ہے

کتاب 3

چاروں اور

 

1968

مٹی کا مکان

 

 

پہچان

 

1999

 

تصویری شاعری 5

زندگی اک آنسوؤں کا جام تھا پی گئے کچھ اور کچھ چھلکا گئے

غم کا خزانہ تیرا بھی ہے میرا بھی یہ نذرانہ تیرا بھی ہے میرا بھی اپنے غم کو گیت بنا کر گا لینا راگ پرانا تیرا بھی ہے میرا بھی کون ہے اپنا کون پرایا کیا سوچیں چھوڑ زمانہ تیرا بھی ہے میرا بھی شہر میں گلیوں گلیوں جس کا چرچا ہے وہ افسانہ تیرا بھی ہے میرا بھی تو مجھ کو اور میں تجھ کو سمجھاؤں کیا دل دیوانہ تیرا بھی ہے میرا بھی مے_خانہ کی بات نہ کر واعظ مجھ سے آنا جانا تیرا بھی ہے میرا بھی جیسا بھی ہے شاہدؔ کو اب کیا کہیے یار پرانا تیرا بھی ہے میرا بھی

زندگی اک آنسوؤں کا جام تھا پی گئے کچھ اور کچھ چھلکا گئے

 

ویڈیو 4

This video is playing from YouTube

آڈیو 13

اندر کا سکوت کہہ رہا ہے

بے_سبب بات بڑھانے کی ضرورت کیا ہے

پایا نہیں وہ جو کھو رہا ہوں

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

متعلقہ شعرا

  • الماس جاوید الماس جاوید بیٹی
  • ثمیر کبیر ثمیر کبیر بیٹا
  • الماس جاوید الماس جاوید بیٹی

"ممبئی" کے مزید شعرا

  • عزیز قیسی عزیز قیسی
  • مینا کماری ناز مینا کماری ناز
  • جمیلؔ مرصع پوری جمیلؔ مرصع پوری
  • ظفر گورکھپوری ظفر گورکھپوری
  • فضیل جعفری فضیل جعفری
  • صابر دت صابر دت
  • کفیل آزر امروہوی کفیل آزر امروہوی
  • حبیب تنویر حبیب تنویر
  • حسرتؔ جے پوری حسرتؔ جے پوری
  • جاوید اختر جاوید اختر