aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "kamaal-e-arz-e-suKHan"
مجلہ سفیر سخن، پیشاور
ناشر
سجاد سخن
مصنف
بزم سخن، چننئی
بزم سخن، سیتامڑھی
بزم ارباب سخن، کراچی
اراکین بزم سخن
مدیر
مکتبئہ آئینئہ سخن، لکھنؤ
بزم سخن، ظہیرآباد
کائنات سخن، نیپال
بزم نہال سخن، عالم پور
ادارئہ بہار سخن، حیدرآباد
مکتبہ بزم سخن، بھوپال
مکتبہ سخن، علی گڑھ
بزم سخن، آندھرا پردیش
انجمن جویائے سخن، بدایوں
کمال عرض سخن جس کو تم سمجھ بیٹھےوہ عجز فکر ہے اقرار بے زبانی ہے
نفس ارض و سما ہو جیسےمیں نے اک شعر کہا ہو جیسے
جواب عرض تمنا تو میرا اپنا تھاتری صدا میں بھی لہجہ تو میرا اپنا تھا
شرح جاں سوزیٔ غم عرض وفا کیا کرتےتم بھی اک جھوٹی تسلی کے سوا کیا کرتے
حاصل عرض مدعا کیا تھاسنگ دل پہ اثر ہوا کیا تھا
تخلیق کارکی حساسیت اسے بالآخراداسی سے بھردیتی ہے ۔ یہ اداسی کلاسیکی شاعری میں روایتی عشق کی ناکامی سے بھی آئی ہے اوزندگی کے معاملات پرذرامختلف ڈھنگ سے سوچ بچار کرنے سے بھی ۔ دراصل تخلیق کارنہ صرف کسی فن پارے کی تخلیق کرتا ہے بلکہ دنیا اوراس کی بے ڈھنگ صورتوں کو بھی ازسرنوترتیب دینا چاہتا ہے لیکن وہ کچھ کرنہیں سکتا ۔ تخلیقی سطح پرناکامی کا یہ احساس ہی اسے ایک گہری اداسی میں مبتلا کردیتا ہے ۔ عالمی ادب کے بیشتر بڑے فن پارے اداسی کے اسی لمحے کی پیداوار ہیں ۔ ہم اداسی کی ان مختلف شکلوں کو آپ تک پہنچا رہے ہیں ۔
ہجر محبّت کے سفر میں وہ مرحلہ ہے , جہاں درد ایک سمندر سا محسوس ہوتا ہے .. ایک شاعر اس درد کو اور زیادہ محسوس کرتا ہے اور درد جب حد سے گزر جاتا ہے تو وہ کسی تخلیق کو انجام دیتا ہے . یہاں پر دی ہوئی پانچ نظمیں اسی درد کا سایہ ہے
میرتقی میر اردو ادب کا وہ روشن ستارہ ہیں ، جن کی روشنی آج تک ادیبوں کے لئے نئے راستے ہموار کر رہی ہے - یہاں چند غزلیں دی جا رہی ہیں، جو مختلف شاعروں نے ان کی مقبول غزلوں کی زمینوں پر کہی اور انھیں خراج عقیدت پیش کی-
قیمت عرض ہنر
حسن فرخ
مالک ارض و سما
قمر وارثی
انتخاب
حسرت عرض تمنا
حنیف ساحل
مجموعہ
ادبیات ارض پاک
شبیر ناقد
پس عرض ہنر
سلطان اختر
غزل
تفسیر آیت میراث ارض
نامعلوم مصنف
عرض حاجات فقیر
محمد حسین فقیر
قطعہ
عرض متاع عقل
رضا اشک
ارض جلال و جمال
سید علی اکبر رضوی
سفر نامہ
کمال سخن معروف بہ گلدستہ احمدی
مرزا احمد حسین احمدی
کمال سخن
کمال حیدرآبادی
سرور جہان آبادی اور اکسیر سخن
الف ناظم
ابراحسنی اور اصلاح سخن
نعیم الدین رضوی
سوانح حیات
سکوت ارض و سما میں خوب انتشار دیکھوںخلا میں اپنی صدا کا پھیلا غبار دیکھوں
اے ارض و سما کے خالقبے عیب و دانا رحیم و مالک
جرأت عرض حال کرتا ہوںڈرتے ڈرتے سوال کرتا ہوں
وفور حوصلۂ عرض مدعا نہ رہاملا جو اس سے تو باقی کوئی گلہ نہ رہا
بارش نور سر ارض و سما دیکھی ہےہر جگہ اسم محمد کی ضیا دیکھی ہے
دل میں جو بات کھٹکتی ہے دہن تک پہنچےخامشی مرحلۂ عرض سخن تک پہنچے
بہر عرض حال شبنم سے رقم ایجاد گلظاہرا ہے اس چمن میں لال مادر زاد گل
یہ صحن ارض حرم ہے بہ احتیاط قدمبہت قریب خدا ہے ذرا سنبھل کے چلو
نگار خانہ ارض و سما ملا کہ نہیںاگر ملا تو کوئی دل ربا ملا کہ نہیں
تجھ کو کتنوں کا لہو چاہیئے اے ارض وطنجو ترے عارض بے رنگ کو گلنار کریں
خالق ارض و سما اے مالک روز جزاصرف تیرے واسطے ہے ساری توصیف و ثنا
باعث عرض ہنر کرب نہانی نکلالفظ ہی منبع دریائے معانی نکلا
شب کہ دل زخمی عرض دو جہاں تیر آیانالہ برخود غلط شوخی تاثیر آیا
گردش ارض و سماوات نے جینے نہ دیاکٹ گیا دن تو ہمیں رات نے جینے نہ دیا
جنبش ارض و سماوات میں آئے ہوئے ہیںان دنوں گردش حالات میں آئے ہوئے ہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books