aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "kasb"
کاش قنوجی
born.1983
شاعر
کلب حسین نادر
1805 - 1878
انیس قلب
born.1992
ناصر کاس گنجوی
1928 - 2002
نواب کلب علی خان
1835 - 1887
مصنف
کاش البرنی
رفعت القاسمی
born.1934
جیمز ہیڈلی چیس
1906 - 1985
کلب علی خاں فائق
1909 - 1988
قلب حسن حزیں
مطبع خاص دکن، حیدرآباد
ناشر
مطبع خاص محمدی
مطبع خاص سحر سامری
محمد کعب ظہیر
سید کلب حسین
عشق نے سارے سلیقے بخشےحسن سے کسب ہنر کیا کرتے
کرب تنہائی ہے وہ شے کہ خداآدمی کو پکار اٹھتا ہے
کسی نازک بدن سے ٹکرا کرکوئی کسب کمال کر چلئے
کرے ہے بادہ ترے لب سے کسب رنگ فروغخط پیالہ سراسر نگاہ گل چیں ہے
مستند اہل زباں خاص ہیں دلی والےاس میں غیروں کا تصرف نہیں مانا جاتا
شعر وادب کے سماجی سروکار بھی بہت واضح رہے ہیں اور شاعروں نے ابتدا ہی سے اپنے آس پاس کے مسائل کو شاعری کا حصہ بنایا ہے البتہ ایک دور ایسا آیا جب شاعری کو سماجی انقلاب کے ایک ذریعے کے طور پر اختیار کیا گیا اور سماج کے نچلے، گرے پڑے اور کسان طبقے کے مسائل کا اظہار شاعری کا بنیادی موضوع بن گیا ۔آپ ان شعروں میں دیکھیں گے کہ کسان طبقہ زندگی کرنے کے عمل میں کس کرب اور دکھ سے گزرتا ہے اور اس کی سماجی حثیت کیا ہے ۔ مزدوروں پر کی جانے والی شاعری کی اور بھی کئی جہتیں ہیں ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے ۔
شاعری میں اجازت کی ساری شکلیں عاشق اور معشوق کے درمیان کی ہیں ۔ عاشق معشوق سے کن کن باتوں کی اجازت چاہتا ہے اور کن کن طریقوں سے چاہتا یہ بہت دلچسپ کہانی ہے ۔ ہم نے اپنے اس چھوٹے سے انتخاب میں اس کہانی کی مختلف کڑیوں کو جوڑنے کی کوشش کی ہے ۔
فراموشی شاعری میں عاشق اور معشوق کے درمیان کی ایک کیفیت ہے ۔ عشق کے اس کھیل میں ایک لمحہ ایسا بھی آتا ہے جب دونوں تھک کر ایک دوسرے کو فراموش کرنے اور بھلانے کی ترکیبیں سوچتے ہیں لیکن یاد ایسی سخت جان ہوتی ہے کہ کسی نہ کسی بہانے پلٹ کر آہی جاتی ہے ۔ یہ وہ تجربہ ہے جس سے ہم سب گزرے ہیں اور گزرتے ہیں اس لئے یہ شاعری بھی ہماری اپنی ہے اسے پڑھئے اور عام کیجئے۔
काश کاش
شدت آرزو کے اظہار کے لیے بولتے ہیں، اے کاش یا کاش کہ ایسا ہو، کاش ایسا نہ ہو
فارسی
कब का کب کا
۔کس زمانے کا۔ کس مدّت کا۔ ؎ ۲۔ بہت دیر سے۔ مدت ہوئی کی جگہ۔ ؎
कब की کَب کی
کس زمانے کا، کس مدّت کا
कब को کَب کو
کِس وقت ، کب.
رسالۂ وجودیہ و کسب معماران
منشی عبد الکریم
دیگر
کسب حلال
عبدالرحیم اشرف
رسالۂ کسب الانبیہ
ظہورالحق
قواعد عملیات
رجوع ہمزاد
نفسیات
خس و خاشاک زمانے
مستنصر حسین تارڑ
قلب ظلمات
جوزف کونریڈ
ناول
اجنبی لڑکی
جاسوسی
آخری فیصلہ
پتھروں کے سحری خواص
قصص الحمرا
واشنگٹن ارونگ
افسانہ / کہانی
جذب القلوب
ریاضی
بچے اور ستارے
پرورش و پرداخت
شرف الانساب
محمد علی ارشد شرفی
تصوف
بدنصیب حسینہ
میں چاہتا ہوں دل سےکچھ کسب ہنر کر لوں
ان گلی کوچوں میں بہنوں کا محافظ کون ہےکسب زر کی دوڑ میں بستی سے ماں جائے گئے
کچھ تو تا عمر رہے کسب ہنر میں مصروفاور کچھ تمغہ و القاب کے پیچھے پیچھے
اے جلیلؔ آپ بھی کس دھیان میں ہیں خیر تو ہےخواہش قدر ہنر کسب ہنر سے پہلے
سوراخ سینہ میرے رکھ ہاتھ بند مت کران روزنوں سے دل ٹک کسب ہوا کرے ہے
بیٹھیے دم بھر شہیدان وطن کی خاک پرآئیے اس خاک سے کسب فضیلت کیجیے
تجھ کو کس بات پر ہے ناز بتاکیا نہیں اور ملک تیرے سوا
ان کے بوسوں کی تمنا ہے لبوں کو آتشؔآئنہ کسب صفا کرتے ہیں جن گالوں سے
کب دل شکست گاں سے کر عرض حال آیاہے بے صدا وہ چینی جس میں کہ بال آیا
ہمیں عزیز ہمیشہ رہی ہے نسبت خاکیہ سر جھکا رہا کسب کمال کر کے بھی
اس شعلہ خو سے کسب حرارت کرے ہے داغذرہ ہے جس کا سوز دل آفتاب میں
لاکھوں محال عقلی و عادی سہی مگرکسب معاش سب سے ہے دشوار آج کل
کسب متحرک سے پابستہ نسب طغرےیہ کیا ہے کوئی اہل خاتم سے نہیں کہتا
کسب اور کیا ہوتا عوض ریختے کے کاشپچھتائے بہت میرؔ ہم اس کام کو کر کر
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books