aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "kham"
مرزا غالب
1797 - 1869
شاعر
منیر نیازی
1928 - 2006
داغؔ دہلوی
1831 - 1905
مجروح سلطانپوری
1919 - 2000
مومن خاں مومن
1800 - 1852
قتیل شفائی
1919 - 2001
ابن انشا
1927 - 1978
شہریار
1936 - 2012
خمار بارہ بنکوی
1919 - 1999
شکیل اعظمی
born.1971
جوش ملیح آبادی
1898 - 1982
زیب غوری
1928 - 1985
فرحت احساس
born.1950
انور شعور
born.1943
فانی بدایونی
1879 - 1941
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلےبہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
تمہارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھانہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا
الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیادیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا
میں اپنے آپ میں نہ ملا اس کا غم نہیںغم تو یہ ہے کہ تم بھی بہت کم ملے تمہیں
کسے نذر دیں دل و جاں بہم کہ نہیں وہ کاکل خم بہ خمکسے ہر نفس کا حساب دیں کہ شمیم یار بھی اب نہیں
بیگم اختر کی گائی ہوئیں ١٠ مشهور غزلیں
فلم اور ادب میں ہمیشہ سے ایک گہرا تعلق رہا ہے ،اگر بات ہندوستانی فلموں کی ہو تو ان میں استعمال ہونے والی زبان، ڈائلوگز ، اسکرین رائٹنگ اور نغموں میں اردو کا ہمیشہ سے بول بالا رہا ہے جو اب تک جاری ہے۔ آج اس کلیکشن میں ہم نے راجہ مہدی علی خان کے کچھ مشہورنغموں کو شامل کیا ہے ۔ پڑھئے اور کلاسیکل گانوں کا لطف لیجئے۔
نصرت فتح علی خان نے بےشمار قوالیاں اورغزلیں گا ئی ہیں، اور غزل گائیکی ہو یا قوالی دونوں میں اپنی آواز اور ہنر سے لوگوں کا دل جیتا ہے۔ اس انتخاب میں کچھ ایسی غزلیں پیش کی جا رہی ہیں جنہیں نصرت صاحب کی آواز نے زندہ کر دیا ہے۔ پڑھئے اور سر دھنیے ۔
ख़म'خَمْع
عربی
घातक भेड़िया
ख़मخَم
عربی, فارسی
کجی، ٹیڑھ، ترچھا پن، خمیدگی، جھکاؤ
खमکھَمْ
ہندی
(معماری) محراب کا پایہ یا ستون جو محراب کی چنائی اور اس کے اوپر کی عمارت کا وزن اٹھائے رہتا ہے، تھم ، رکن، کھمب
ग़मغَم
رنج، اندوہ، دکھ، ملال، الم، افسوس (خوش کا نقیض)
تحلیل نفسی کے پیچ و خم
سلامت اللہ خان
مضامین
خم کاکل
سیف الدین سیف
مجموعہ
حرف آگہی
مجید کھام گانوی
نئی تنقید کے پیچ وخم
ڈاکٹر خورشید سمیع
زخم بہاراں
شورعابدی
انتخاب
پیچ وخم
عبد الحمید عدم
پیچ و خم
صابر توکلی شاہین
شاعری
آبیناز جان علی
نسائیت
معصومہ خاتون
اصلاحی و اخلاقی
خم ابرو
رشید احمد
نجم اعزاز
اردو املا
رشید حسن خاں
زبان
کئی چاند تھے سر آسماں
رشید اشرف خان
ناول تنقید
سرسید احمد خاں اور ان کے نامور رفقاء
سید عبداللہ
تنقید
اٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےقلب ماحول میں لرزاں شرر جنگ ہیں آجحوصلے وقت کے اور زیست کے یک رنگ ہیں آجآبگینوں میں تپاں ولولۂ سنگ ہیں آجحسن اور عشق ہم آواز و ہم آہنگ ہیں آججس میں جلتا ہوں اسی آگ میں جلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتیرے قدموں میں ہے فردوس تمدن کی بہارتیری نظروں پہ ہے تہذیب و ترقی کا مدارتیری آغوش ہے گہوارۂ نفس و کردارتا بہ کے گرد ترے وہم و تعین کا حصارکوند کر مجلس خلوت سے نکلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتو کہ بے جان کھلونوں سے بہل جاتی ہےتپتی سانسوں کی حرارت سے پگھل جاتی ہےپاؤں جس راہ میں رکھتی ہے پھسل جاتی ہےبن کے سیماب ہر اک ظرف میں ڈھل جاتی ہےزیست کے آہنی سانچے میں بھی ڈھلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےزندگی جہد میں ہے صبر کے قابو میں نہیںنبض ہستی کا لہو کانپتے آنسو میں نہیںاڑنے کھلنے میں ہے نکہت خم گیسو میں نہیںجنت اک اور ہے جو مرد کے پہلو میں نہیںاس کی آزاد روش پر بھی مچلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےگوشہ گوشہ میں سلگتی ہے چتا تیرے لیےفرض کا بھیس بدلتی ہے قضا تیرے لیےقہر ہے تیری ہر اک نرم ادا تیرے لیےزہر ہی زہر ہے دنیا کی ہوا تیرے لیےرت بدل ڈال اگر پھولنا پھلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےقدر اب تک تری تاریخ نے جانی ہی نہیںتجھ میں شعلے بھی ہیں بس اشک فشانی ہی نہیںتو حقیقت بھی ہے دلچسپ کہانی ہی نہیںتیری ہستی بھی ہے اک چیز جوانی ہی نہیںاپنی تاریخ کا عنوان بدلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتوڑ کر رسم کا بت بند قدامت سے نکلضعف عشرت سے نکل وہم نزاکت سے نکلنفس کے کھینچے ہوئے حلقۂ عظمت سے نکلقید بن جائے محبت تو محبت سے نکلراہ کا خار ہی کیا گل بھی کچلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتوڑ یہ عزم شکن دغدغۂ پند بھی توڑتیری خاطر ہے جو زنجیر وہ سوگند بھی توڑطوق یہ بھی ہے زمرد کا گلوبند بھی توڑتوڑ پیمانۂ مردان خرد مند بھی توڑبن کے طوفان چھلکنا ہے ابلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتو فلاطون و ارسطو ہے تو زہرا پرویںتیرے قبضہ میں ہے گردوں تری ٹھوکر میں زمیںہاں اٹھا جلد اٹھا پائے مقدر سے جبیںمیں بھی رکنے کا نہیں وقت بھی رکنے کا نہیںلڑکھڑائے گی کہاں تک کہ سنبھلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے
دل کی تکلیف کم نہیں کرتےاب کوئی شکوہ ہم نہیں کرتے
جنون شوق اب بھی کم نہیں ہےمگر وہ آج بھی برہم نہیں ہے
(۲)چاہا ہے اسی رنگ میں لیلائے وطن کوتڑپا ہے اسی طور سے دل اس کی لگن میںڈھونڈی ہے یوں ہی شوق نے آسائش منزلرخسار کے خم میں کبھی کاکل کی شکن میں
سنوار نوک پلک ابرووں میں خم کر دےگرے پڑے ہوئے لفظوں کو محترم کر دے
وہ کتاب حسن وہ علم و ادب کی طالبہوہ مہذب وہ مؤدب وہ مقدس راہبہکس قدر پیرایہ پرور اور کتنی سادہ کارکس قدر سنجیدہ و خاموش کتنی با وقارگیسوئے پر خم سواد دوش تک پہنچے ہوئےاور کچھ بکھرے ہوئے الجھے ہوئے سمٹے ہوئےرنگ میں اس کے عذاب خیرگی شامل نہیںکیف احساسات کی افسردگی شامل نہیںوہ مرے آتے ہی اس کی نکتہ پرور خامشیجیسے کوئی حور بن جائے یکایک فلسفیمجھ پہ کیا خود اپنی فطرت پر بھی وہ کھلتی نہیںایسی پر اسرار لڑکی میں نے دیکھی ہی نہیںدختران شہر کی ہوتی ہے جب محفل کہیںوہ تعارف کے لیے آگے کبھی بڑھتی نہیں
مری راتوں کی خنکی ہے ترے گیسوئے پر خم میںیہ بڑھتی چھاؤں بھی کتنی گھنی معلوم ہوتی ہے
سیدھی ہے راہ شوق پہ یوں ہی کہیں کہیںخم ہو گئی ہے گیسوئے دلدار کی طرح
تو بدھیا لادے بیل بھرے جو پورب پچھم جاوے گایا سود بڑھا کر لاوے گا یا ٹوٹا گھاٹا پاوے گاقزاق اجل کا رستے میں جب بھالا مار گراوے گادھن دولت ناتی پوتا کیا اک کنبہ کام نہ آوے گاسب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا
بہت مشکل ہے دنیا کا سنورناتری زلفوں کا پیچ و خم نہیں ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books