aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "khapte"
منشی ہر گوپال خستہ
مصنف
خافی خاں
چاپ خانۂ مجلس
ناشر
چاپخانۂ حیدری
پنڈت ہرگوپال خستہ
احمد خاتم اقوالزادے
کتب خانہ امجدیہ، بستی
مدھو کھراٹے
مدیر
خیر خواہ ملک
انتشارات دبیر خانۂ شورای ہما ہنگی تبلیغات دولت
انتشارات خانۂ فرہنگ ایران، دہلی
خانہ کتاب، ایران
اردو کتب خانہ اسلامیات، حیدرآباد
خم خانۂ ادب، نئی دہلی
کتب خانۂ علم و ادب، دہلی
منع کیوں کرتے ہو عشق بت شیریں لب سےکیا مزے کا ہے یہ غم دوستو غم کھانے دو
شور سینوں میں اٹھ اٹھ کے دبتے رہے دل جگر دور گردوں میں کھپتے رہےہاتھ کتنے تھے یاں جو قلم ہو گئے ساز کیا کیا تھے جو بے صدا ہو گئے
اے بیٹو نوجوانوتپتے کھپتے
یوں ہی کھپتے نہ جائیں روز و شب میں ہمکبھی تو بات بے موسم بھی کی جائے
ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایازنہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز
خفا ہونا اور ایک دوسرے سے ناراض ہونا زندگی میں ایک عام سا عمل ہے لیکن شاعری میں خفگی کی جتنی صورتیں ہیں وہ عاشق اور معشوق کے درمیان کی ہیں ۔ شاعری میں خفا ہونے ، ناراض ہونے اور پھر راضی ہوجانے کا جو ایک دلچسپ کھیل ہے اس کی چند تصویریں ہم اس انتخاب میں آپ کے سامنے پیش کر رہے ہیں ۔
खातेکھاتے
کھاتا (رک) کی جمع نیز مغیرہ صورت ، تراکیب میں مستعمل .
खत्तेکَھتّے
کَھتّا (رک) کی جمع نیز مغیرّہ حالت ؛ مرکبات میں مستعمل.
खट्टेکَھٹّے
ہندی
ترش، کھٹائی والا، جس میں کھٹاس یا تیزابیت ہو، آم اور املی کے ذائقہ والا
खलतेکھلتے
ازالۃ الخفا عن خلافتہ الخلفا
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی
اسلامیات
خیر کثیر
خط مرموز
فہمیدہ ریاض
کہانیاں/ افسانے
خمخانہ جاوید
لالہ سری رام
تذکرہ
اردو کا پہلا ناول خط تقدیر
کریم الدین
افسانوی ادب
منتخب اللباب
ہندوستانی تاریخ
صنم خانۂ عشق
امیر مینائی
دیوان
تاریخ کشمیر
خبطی
شوکت تھانوی
خیمے سے دور
انتظار حسین
افسانہ
دیوان غالب بخط عالب
مرزا غالب
رہنمائے خط شکست
محمد صادق موسوی
کالیگرافی / خطاطی
کہنے کو رہتے ہو دل میںپھر بھی کتنے دور کھڑے ہو
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہواور راج کرے گی خلق خدا
بجلیاں جس میں ہوں آسودہ وہ خرمن تم ہوبیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن تم ہو
اوڑھے ہوئے تاروں کی چمکتی ہوئی چادرندی کوئی بل کھائے تو لگتا ہے کہ تم ہو
لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میںتم ترس نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں
آئے تھے ہنستے کھیلتے مے خانے میں فراقؔجب پی چکے شراب تو سنجیدہ ہو گئے
لوگ کہتے ہیں کہ تو اب بھی خفا ہے مجھ سےتیری آنکھوں نے تو کچھ اور کہا ہے مجھ سے
اب نہیں کوئی بات خطرے کیاب سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے
ترے وعدوں پہ کہاں تک مرا دل فریب کھائےکوئی ایسا کر بہانہ مری آس ٹوٹ جائے
نبض ہستی کا لہو کانپتے آنسو میں نہیںاڑنے کھلنے میں ہے نکہت خم گیسو میں نہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books