aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "khate"
سلیمان خطیب
1942 - 1978
شاعر
عبدالصمد خطیب
born.1952
مصنف
عبدالرحیم خانخاناں
1556 - 1637
ویریندر کھرے اکیلا
born.1968
چترانش کھرے
born.1989
اتکرش مسافر
born.1990
اے۔ اے۔ خطیب
مدیر
خطیب بغدادی
محمد لسان الدین بن خطیب
خطیب گلشن آبادی
born.1915
خطیب رفعت اللہ رفعت
جلال الخطیب
مترجم
محب الدین الخطیب
ذو القرنین خطیب
ناشر
عبدالغنی خطیب
بجلیاں جس میں ہوں آسودہ وہ خرمن تم ہوبیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن تم ہو
لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میںتم ترس نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں
غم عشق میں مزا تھا جو اسے سمجھ کے کھاتےیہ وہ زہر ہے کہ آخر مے خوش گوار ہوتا
ہوئے مدفون دریا زیر دریا تیرنے والےطمانچے موج کے کھاتے تھے جو بن کر گہر نکلے
شاعری میں خط کا مضمون عاشق ، معشوق اور نامہ بر کے درمیان کی ایک دلچسپ کہانی ہے ۔ اس کہانی کو شاعروں کے تخیل نے اور زیادہ رنگارنگ بنا دیا ہے ۔ اگر آپ نے خط کو موضوع بنانے والی شاعری نہیں پڑھی تو گویا آپ کلاسیکی شاعری کے ایک بہت دلچسپ حصے سے ناآشنا ہیں ۔ ہم ایک چھوٹا سا انتخاب یہاں پیش کر رہے ہیں اسے پڑھئے اور عام کیجئے ۔
hate hate
نَفرَت
खाते کھاتے
کھاتا (رک) کی جمع نیز مغیرہ صورت ، تراکیب میں مستعمل .
खट्टे کَھٹّے
ترش، کھٹائی والا، جس میں کھٹاس یا تیزابیت ہو، آم اور املی کے ذائقہ والا
ہندی
खत्ते کَھتّے
کَھتّا (رک) کی جمع نیز مغیرّہ حالت ؛ مرکبات میں مستعمل.
خط مرموز
فہمیدہ ریاض
کہانیاں/ افسانے
اردو کا پہلا ناول خط تقدیر
کریم الدین
افسانوی ادب
رہنمائے خط شکست
محمد صادق موسوی
کالیگرافی / خطاطی
خط شکست
محمد طاہر فاروقی
خطوط
خط تقدیر
ایم۔ اسلم
نسخ خطی فارسی مطالعات فرہنگی ، ادبی و ھنری
چندرشیکھر
خطّ خیر
رؤف خیر
شاعری تنقید
خط غبار
قیصر حیدری دہلوی
مجموعہ
خط رہ گزر
اکبر حیدرآبادی
مٹھی املی کھٹے کھجور
الطاف حسین
خط بیضا
عبدالصمد تپشؔ
مولوی کریم الدین
ناول
خط ابیض
خواتین کی تحریریں
خط سبز
جہانزیب مغل
دیوان غالب بخط غالب
مرزا غالب
دیوان
جو لوگ ابھی تک نام وفا کا لیتے ہیںوہ جان کے دھوکے کھاتے، دھوکے دیتے ہیں
سو جاتے ہیں فٹ پاتھ پہ اخبار بچھا کرمزدور کبھی نیند کی گولی نہیں کھاتے
دل آشفتگاں خال کنج دہن کےسویدا میں سیر عدم دیکھتے ہیں
دعائیں یاد کرا دی گئی تھیں بچپن میںسو زخم کھاتے رہے اور دعا دئیے گئے ہم
عقل کہتی ہے دوبارہ آزمانا جہل ہےدل یہ کہتا ہے فریب دوست کھاتے جائیے
ہنستے ہوئے ماں باپ کی گالی نہیں کھاتےبچے ہیں تو کیوں شوق سے مٹی نہیں کھاتے
قوم کے غم میں ڈنر کھاتے ہیں حکام کے ساتھرنج لیڈر کو بہت ہے مگر آرام کے ساتھ
ہر اک شکست تمنا پہ مسکراتے ہیںوہ کیا کریں جو مسلسل فریب کھاتے ہیں
کون بچائے گا پھر توڑنے والوں سےپھول اگر شاخوں سے دھوکا کھاتے ہیں
کتراتے ہیں بل کھاتے ہیں گھبراتے ہیں کیوں لوگسردی ہے تو پانی میں اتر کیوں نہیں جاتے
زخم کھاتے ہیں اور مسکراتے ہیں ہمحوصلہ اپنا خود آزماتے ہیں ہم
میں ہو عیاں بل کھائے ہوئےاو دیس سے آنے والے بتا
کارخانے سے جنوں کے بھی میں عریاں نکلامیری قسمت کا نہ ایک آدھ گریباں نکلا
غنیمت تم اسے سمجھو کہ اس خم خانہ میں یارونصیب اک دم دل خرم ہمیں بھی ہو تمہیں بھی ہو
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books