aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "khodaa"
نجمہ شاہین کھوسہ
مصنف
جمیلہ خدا بخش
1861 - 1921
شاعر
خدا بخش لائبریری،پٹنہ
عطیہ کار
تنویر دہلوی
سید میراں جی خدا وند خدا نما
1625 - 1672
خدا بخش خاں
1842 - 1908
خدا بخش پبلک لائبریری، رام پور
ناشر
مرزا خدا داد بیگ
خدا بخش قیصر
خدا داد مونس
born.1938
مولوی سید خدابخش رشدی
خدا داد خاں
صلاح الدین خدا بخش
محمد قدرت خدا
سید خدا بخش خوندمیری
مدیر
شہر کھودا تو تواریخ کے ٹکڑے نکلےڈھیروں پتھرائے ہوئے وقت کے صفحوں کو الٹ کر دیکھا
تری نظروں کے اوزاروں نے میرے جسم خاکی کاجگر کھودا تو ٹوٹے دل کا کچھ ملبہ نکل آیا
چاقو سے نام کھوداچھلکے بھی چھیل اتارے
پہاڑ کھودا تو جز پتھروں کے کچھ نہ ملامرے پسینے کی مہکار میرے گھر پہنچی
زمین تھی تو پتھریلیلیکن اپنا کنواں کھودا
میرتقی میر اردو ادب کا وہ روشن ستارہ ہیں ، جن کی روشنی آج تک ادیبوں کے لئے نئے راستے ہموار کر رہی ہے - یہاں چند غزلیں دی جا رہی ہیں، جو مختلف شاعروں نے ان کی مقبول غزلوں کی زمینوں پر کہی اور انھیں خراج عقیدت پیش کی-
میر 18ویں صدی کے جدید شاعر ہیں ۔اردو زبان کی تشکیل و تعمیر میں بھی میر کی خدمات بیش بہا ہیں ۔خدائے سخن میر کے لقب سے معروف اس شاعر نے اپنے بارے میں کہا تھا میرؔ دریا ہے سنے شعر زبانی اس کی اللہ اللہ رے طبیعت کی روانی اس کی۔ ریختہ ان کے 20 معروف و مقبول ،پسندیدہ اور مؤقراشعار کا مجموعہ پیش کر رہاہے ۔ ان اشعار کا انتخاب بہت سہل نہیں تھا ۔ ہم جانتے ہیں کہ اب بھی میر کے کئی مقبول اشعار اس فہرست میں شامل نہیں ہیں۔اس سلسلے میں آپ کی رائے کا خیر مقدم ہے ۔اگر ہماری مجلس مشاورت آپ کے پسندیدہ شعر کو اتفاق رائے سے پسند کرتی ہے تو ہم اس کو نئی فہرست میں شامل کریں گے ۔ہمیں قوی امید ہے کہ آپ کو ہماری یہ کوشش پسند آئی ہوگی اور آپ اس فہرست کو سنوارنے اور آراستہ کرنے میں معاونت فرمائیں گے۔
خدا کی ذات میں تخلیق کاروں کی دلچسپی عام انسانوں سے ذرا مختلف نوعیت کی رہی ہے ۔ وہ بعض تخلیقی لمحوں میں اس سے لڑتے ہیں ، جھگڑتے ہیں ، اس کے وجود اوراس کی خودمختاری پرسوال بناتے ہیں اوربعض لمحے ایسے بھی آتے ہیں جب خدا کی ذات کا انکشاف ہی ان کے تخلیقی لمحوں کا حاصل ہوتا ہے۔ صوفی شعرا کے یہاں خدا سے رازونیاز اوراس سے مکالمے کی ایک دلچسپ فضا بھی ملتی ہے۔ آپ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے اوردیکھئے کہ ایک انسان کے خدا سے تعلق کی صورتیں کتنی متنوع ہیں ۔
ख़ुदाخُدا
فارسی
مالک، آقا
खोदाکھودا
ہندی
کھودنا (رک) کا صیغۂ ماضی، مرکبات میں مستعمل
ख़ोदाخودا
ناریل کے اوپر موٹا چھلکا جو خود کی شکل کا ہوتا ہے .
खोड़ाکھوڑا
کاٹھ جس میں مجرموں کے پانو پھنساتے ہیں، بیڑی، پانو کی زنجیر
آدھے گھنٹے کا خدا
کرشن چندر
نصابی کتاب
تصور خدا
ارشد محمود
اسلامیات
خدا کیوں
جے اینڈرسن ٹامسن،جونیر
سائنس
کھویا ہوا سا کچھ
ندا فاضلی
مجموعہ
خدا کے سائے میں آنکھ مچولی
رحمن عباس
من و یزداں
نیاز فتح پوری
مضامین
آدم کی کہانی خدا کی زبانی
احسان اللہ خاں
خدا بخش سیمینار تدوین متن کے مسائل
قاضی عبدالودود
خدا جھوٹ نہ بلوائے
دلاور فگار
مردان خدا
محبوب الٰہی
طربیۂ خداوندی
دانتے الیگیری
ترجمہ
معرفت الٰہیہ
شاہ عبدالغنی
تصوّرِخُدا
فلسفہ
کھویاہوا افق
محمد خالد اختر
خدا مری نظم کیوں پڑھےگا؟
دانیال طریر
نکلا چوہا پہاڑ کو کھوداجو کیا جو کہا سنا میں نے
آرزو مند شہادت کی وصیت سب سے ہےنام کھودا جائے میرا جب کوئی خنجر بنے
جو کھنڈر کھودا گیا دیکھ کے حیرت یہ ہوئیشامل اس میں بھی مرے نام کا پتھر نکلا
کبھی نہ انساں کے دل میں جھانکا کبھی نہ کھودا خزانۂ دلزمیں کے رخ سے ہٹائے پردے تو بات کی ہم نے آسماں کی
اپنے بچوں کو تو جا اور بچا لے فہمیؔایک گڈھا نئی تہذیب نے کھودا ہے ابھی
جو کھودا چشم حیراں نے یہ دیکھاکہ اک لیڈر نما موٹا سا چوہا
جڑیں کھودا کیے تا عمر جس کیشجر وہ شامیانہ ہو گیا ہے
ایک اک لفظ سے صد رنگ مطالب پھوٹےجب کنواں کھودا تو نیچے سے سمندر نکلا
ہر ایک دور میں انساں کی بود و باش ملیکسی زمیں کو بھی کھودا تو میری لاش ملی
تو خدا ہے نہ مرا عشق فرشتوں جیسادونوں انساں ہیں تو کیوں اتنے حجابوں میں ملیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books