aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "ko.ii"
قلی قطب شاہ
1566 - 1611
شاعر
پنڈت دیا شنکر نسیم لکھنوی
1811 - 1845
پنڈت جواہر ناتھ ساقی
1864 - 1916
کرنل محمد خان
1910 - 1999
مصنف
راج کمار کوری راز
born.1971
کوکی گل
نصیر کوٹی
ہیبت قلی خاں حسرت
صدف لکھنوی
1913 - 1983
کرشنا راجا نرائن
1923 - 2021
خالد کوٹی
born.1943
شفیق کوٹی
1903 - 1976
مرزا رضا قلی آشفتہ
آج کی کتابیں، کراچی
ناشر
مدیر
عمر گزرے گی امتحان میں کیاداغ ہی دیں گے مجھ کو دان میں کیا
یہ پھول مجھے کوئی وراثت میں ملے ہیںتم نے مرا کانٹوں بھرا بستر نہیں دیکھا
دونوں جہان تیری محبت میں ہار کےوہ جا رہا ہے کوئی شب غم گزار کے
خموشی سے ادا ہو رسم دوریکوئی ہنگامہ برپا کیوں کریں ہم
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میںضروری بات کہنی ہو کوئی وعدہ نبھانا ہو
زمانے بیت گئے مگر محمد رفیع آج بھی اپنی آواز کی ساحری کے زور پر ہرکسی کے دل پر اپنی حکومت جمائے ہوئے ہیں ، ان کے گائے ہوئے بھجن ، اورنغموں کی گونج آج بھی سنائی دیتی ہے۔ آج ہم آپ کے لئے کچھ مشہورو معروف شاعروں کی ایسی غزلیں لے کر حاضر ہوئے ہیں جنہیں محمد رفیع نے اپنی آواز دی ہے اور ان غزلوں کے حسن میں لہجے اور آواز کا ایسا جادو پھونکا ہے کہ آدمی سنتا رہے اور سر دھنتا رہے ۔
میرتقی میر اردو ادب کا وہ روشن ستارہ ہیں ، جن کی روشنی آج تک ادیبوں کے لئے نئے راستے ہموار کر رہی ہے - یہاں چند غزلیں دی جا رہی ہیں، جو مختلف شاعروں نے ان کی مقبول غزلوں کی زمینوں پر کہی اور انھیں خراج عقیدت پیش کی-
نون میم راشد کا شمار اردو کےان ممتاز نظم گو شعرا میں ہوتا ہے، جنہوں نے اپنے خوبصورت اور آرائشی اسلوب سے اس صنف کی صحیح معنوں میں ایک پہچان دی ہے۔ اس مجموعہ میں ان کی منتخب نظموں کے ساتھ ساتھ ان نظموں کی ڈرامائی ریکارڈنگز بھی شامل ہیں، تاکہ آپ ان نظموں کو سن کر بھی لطف اٹھا سکیں
कोईکوئی
سنسکرت
ایک بھی (شے)
काईکائی
ہندی
وہ چکنی گیلی سبزی جو اکثر بند پانی پر یا برسات میں بھیگی ہوئی اینٹ کی دیواروں پر جم جاتی ہے، پانی کا جالا
कौکَو
کب
कोएکوئے
رک : کوئی.
اپنا تو ملے کوئی
دیومنی پانڈے
غزل
کوئی کوئی بات
جواد شیخ
مجموعہ
آؤ کہ کوئی خواب بنیں
ساحر لدھیانوی
کرنل کو کوئی خط نہیں لکھتا
ناول
میرا کوئی ماضی نہیں
سوانح حیات
ملیریا کوئی بخار نہیں ہے
صابر ملتانی
دور کوئی گائے
شکیل بدایونی
کوئی بات نہیں
سراج انور
طنز و مزاح
کہانی کوئی سناؤ متاشا
صادقہ نواب سحر
خواتین کی تحریریں
کوئی رسم بھی نہ نبھا سکا
سعد اللہ شاہ
کوئی بھی رت ہو
فرح اقبال
کوئی دیکھ نہ لے
جاوید صبا
کہانی مختصر کوئی نہیں ہے
غوث متھراوی
خود نوشت
وہ جنہیں کوئی نہیں جانتا
انور صابری
خاكه
کوئی چاند نہیں تھا سر آسماں
فاروق راہب
بھلے دنوں کی بات ہےبھلی سی ایک شکل تھی
دل ناداں تجھے ہوا کیا ہےآخر اس درد کی دوا کیا ہے
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلےبہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
اگر تلاش کروں کوئی مل ہی جائے گامگر تمہاری طرح کون مجھ کو چاہے گا
کوئی امید بر نہیں آتیکوئی صورت نظر نہیں آتی
کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گییوں کوئی بے وفا نہیں ہوتا
تو محبت سے کوئی چال تو چلہار جانے کا حوصلہ ہے مجھے
گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلےچلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے
تم مجھ کو جان کر ہی پڑی ہو عذاب میںاور اس طرح خود اپنی سزا بن گیا ہوں میں
وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہووہی یعنی وعدہ نباہ کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books