aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "lauTaa.e"
لوئس گلک
1943 - 2023
شاعر
لارا انگلز وائلڈر
1867 - 1957
مصنف
لورا کلفورڈ بارنے
1879 - 1974
لوئس کوپیرس
1863 - 1923
فنکاروں سے پوچھ رہے ہو کیوں لوٹائے ہیں سمانپوچھو کتنے چپ بیٹھے ہیں شرم انہیں کب آئے گی
اس نے تو دیکھے ان دیکھے خواب سبھی لوٹائےاور تھے شاید ٹوٹی ہوئی تعبیر بنانے والے
میں نے کیا رنج دیے اشک نہ لوٹائے مجھےاے مرے دل کوئی بے فیض نہ دیکھا ایسا
سچ ہے میں نے ہی خموشی کی گزارش کی تھیاب مری گمشدہ آواز تو لوٹائے کوئی
زندگی میری تھی اور اس کو جیاؔ اوروں نےمجھ کو پل میرے جو لوٹائے مگر تم سا کہاں
लगाए لَگائے
to be attached, adhere, apply, belong, tend
ہندی
लुटाओ لُٹاؤ
خوب لٹانے والے، فضول خرچ، لَکھ لُٹ.
लौटा لَوٹا
returned, came back
लताड़ لَتاڑ
تکلیف، دُکھ، مصیبت، روندن، پامالی، فضیحتی، رسوائی، لاتیں مارے جانے کا کام، ملامت، سرزنش
لوح جنوں
ساغر صدیقی
مجموعہ
لوح ایام
مختار مسعود
یادداشت
ابابیلیں لوٹ آئیں گی
ترنم ریاض
کہانیاں/ افسانے
بہاریں لوٹ آئیں
اشفاق احمد
افسانہ
گلدستۂ نعت شہ لولاک
محمد قادر علی خان
نعت
لوح خاک
احمد ندیم قاسمی
چینی کی انگوٹھی اور لوٹے کا راز
مرزا عظیم بیگ چغتائی
کالیگرافی / خطاطی
لوح محفوظ
محمد محفوظ الحق
تصوف
پھر ایک کارواں لٹا
نعیم صدیقی
لوح آب رواں
فاروق ارگلی
فیض تبسم تونسوی
لوح خیال
ظہیر عباس سائر
لوٹم لوٹا
طالب زیدی
طنز و مزاح
لولاک
چندر بھان خیال
غزل
ایلینا فیئر
ناول
تھک ہار کے دنیا سے جو آئے ترے در تکاب جائیں کہاں پر ترے لوٹائے ہوئے لوگ
کاغذ پر تصویر بنا کرہیں اس نے لوٹائے دیپ
آئنے میں دیکھ کر کہنے لگامیرا چہرہ وقت لوٹائے مجھے
وہ کہیں بھی گیا لوٹا تو مرے پاس آیابس یہی بات ہے اچھی مرے ہرجائی کی
تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیںسلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے
تم نے لوٹا ہے صدیوں ہمارا سکوںاب نہ ہم پر چلے گا تمہارا فسوں
بڑا احسان ہم فرما رہے ہیںکہ ان کے خط انہیں لوٹا رہے ہیں
مجبوری یا مہجوری کی تھکن سے لوٹا کرتے ہیںتم جاؤ
ہاتھ خالی ہیں ترے شہر سے جاتے جاتےجان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے
وہ گاؤں کا اک ضعیف دہقاں سڑک کے بننے پہ کیوں خفا تھاجب ان کے بچے جو شہر جاکر کبھی نہ لوٹے تو لوگ سمجھے
تو اتنی دل زدہ تو نہ تھی اے شب فراقآ تیرے راستے میں ستارے لٹائیں ہم
ابھی سے دل و جاں سر راہ رکھ دوکہ لٹنے لٹانے کے دن آ رہے ہیں
ہم نے ہی لوٹنے کا ارادہ نہیں کیااس نے بھی بھول جانے کا وعدہ نہیں کیا
دل کی ویرانی کا کیا مذکور ہےیہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا
گھر لوٹ کے روئیں گے ماں باپ اکیلے میںمٹی کے کھلونے بھی سستے نہ تھے میلے میں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books