aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "maljaa"
امجد اشرف ملا
born.1999
شاعر
ڈاکٹر مالا کپور گوہر
born.1958
ملکہ خورشید
مصنف
ملکہ جان
مالا کمار
مالوہ سٹٰم پریس، موگا
ناشر
مالا سنگھ
مالوہ پبلیشرز, اندور
آفتاب مالوہ، اندور
مالوہ پبلشنگ ہاؤس، بھوپال
رتن منی گرنتھ مالا، مہاراشٹر
منیجر نوجوان گرنتھ مالا، دہلی
بیگم عذرا قیصر مالکہ
فقیروں کا ملجا ضعیفوں کا ماویٰیتیموں کا والی غلاموں کا مولیٰ
اب گلی کوچوں کی ہر آوا بھی گمیہ ہمارا آخری ملجا بھی گم
کہ ہم تیری منزل نہیں، تیرا ملجا و ماویٰ نہیں ہیں؟
میرا مندر ہے تو میرا کعبہ ہے تومیرا ملجا ہے تو میرا ماویٰ ہے تو
اڑتا پھرتا ہوں میں صحرا میں بگولے کی طرحکچھ نہیں علم مرا ملجا و ماویٰ کیا ہے
मलजा مَلْجا
جائے پناہ، پناہ ملنے کی جگہ، پشت پناہ
عربی
मज़ा مَزا
मज़ा مَزَہ
وہ کیفیت جسے زبان محسوس کرے یا جو چکھنے سے محسوس ہو، لذت، ذائقہ، سواد
فارسی
मज़ा مَضیٰ
بیتا ہوا، جو گزر گیا، گزرا ہوا، گذشتہ
طب یونانی میں گھریلو ادویہ اور عام معالجہ کی کتاب
طبیبہ ام الفضل
طب
اسیر مالٹا کا پیغام
حسین احمد مدنی
خطبات
مالوہ کی کہانی تاریخ کی زبانی
قاضی عبدالقدوس فاروقی
انار کا مزہ
جے شری پانڈے
ادب اطفال
شاہان مالوہ
امیر احمد علوی
تاریخ
امام ابن ماجہ اور علم حدیث
عبدالرشید نعمانی
سوانح حیات
کھیل کھیل میں حساب سیکھیں۔1
کھیل کھیل میں حساب سیکھیں-4
سفرنامہ اسیر مالٹا
ما لابد منہ
قاضی ثناء اللہ پانی پتی
مذہبیات
بانٹ کر کھانے کا مزہ
کے۔ باؤچا
مالا بد کلیمی
کلیم اللہ شاہ جہاں بادی
راگ مالا
ولی عزلت
شاعری
کھیل کھیل میں حساب سیکھیں-3
سفر نامۂ شیخ الہند
سفر نامہ
ہمارا ملجا و ماویٰ ہی کیا کہ عرض کریںتمہارے دست کرم نے اسے خزانہ کیا
مجھ کو خطرہ ہو بھلا کیسا بروز محشرمیرے ماویٰ مرے ملجا ہیں رسول عربی
تو ہی دانا و بینا ہے تو ہی ملجا و ماویٰ ہےہر اک منزل ہر اک محفل میں فیض عام ہے تیرا
نہ اختلاط میں وہ رمکہ بد مزہ ہوں خواہشیں
لطف مرنے میں ہے باقی نہ مزہ جینے میںکچھ مزہ ہے تو یہی خون جگر پینے میں
پی جا ایام کی تلخی کو بھی ہنس کر ناصرؔغم کو سہنے میں بھی قدرت نے مزا رکھا ہے
بھولے ہیں رفتہ رفتہ انہیں مدتوں میں ہمقسطوں میں خودکشی کا مزا ہم سے پوچھئے
نشہ پلا کے گرانا تو سب کو آتا ہےمزا تو جب ہے کہ گرتوں کو تھام لے ساقی
کس کو ہے ذوق تلخ کامی لیکجنگ بن کچھ مزا نہیں ہوتا
عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایادرد کی دوا پائی درد بے دوا پایا
اک پل میں اک صدی کا مزا ہم سے پوچھئےدو دن کی زندگی کا مزا ہم سے پوچھئے
آتے جاتے ہیں کئی رنگ مرے چہرے پرلوگ لیتے ہیں مزا ذکر تمہارا کر کے
تم آنکھ موند کے پی جاؤ زندگی قیصرؔکہ ایک گھونٹ میں ممکن ہے بد مزہ نہ لگے
بے طلب دیں تو مزا اس میں سوا ملتا ہےوہ گدا جس کو نہ ہو خوئے سوال اچھا ہے
حساب ماہ و سال اب تک کبھی رکھا نہیں میں نےکسی بھی فصل کا اب تک مزہ چکھا نہیں میں نے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books