aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "maskan-e-aabaa-e-insaa.n"
ابن انشا
1927 - 1978
شاعر
ابن صفی
1928 - 1980
مصنف
فضا ابن فیضی
1923 - 2009
ابن کنول
1957 - 2023
ابن مفتی
قرب عباس
born.1986
ابن حنیف
امام ابن تیمیہ
ابن نشاطی
died.1655
ابن امید
شکیل ابن شرف
اشہد بلال ابن چمن
born.1980
ابن ابی اصیبعہ
علامہ ابن کثیر
ابن کلیم
اے ہمالہ داستاں اس وقت کی کوئی سنامسکن آبائے انساں جب بنا دامن ترا
بن جائیں دروازےاے میرے آبا و اجداد
ہے دوستیٔ آل عبا رونے سےہے درجۂ والاۓ ولا رونے سے
عمر خضر کی اس کو تمنا کبھی نہ ہوانسان جی سکے جو محبت میں چار دن
دیکھیے یہ کلام مہدیؔ میںفکر انساں کی انتہا کیا ہے
ذیشان ساحل اردو نظم کے منفرد اور حساس لہجے کے شاعر ہیں جنہوں نے جدید دور کی پیچیدہ کیفیات کو سادہ مگر گہرے استعاروں کے ذریعے بیان کیا ہے۔ ان کی نظموں میں ایک خاموش احتجاج، ایک تہہ دار تنقید، اور ایک فکری نرمی پائی جاتی ہے جو قاری کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔ ان کے ہاں دکھ، خاموشی، اور وقت جیسے موضوعات کا جمالیاتی اظہار نمایاں ہے۔
اردو ادب کا ایک انوکھا شاعر، ابن انشا۔ ہم نے ان کی کچھ نظموں کا انتخاب کیا ہے۔ پڑھئے اور لطف اٹھایئے ۔
انسان کائنات کی تخلیق کا سبب ہی نہیں بلکہ شاعری موسیقی اور دیگر فنون لطیفہ کے مرکز میں بھی انسان ہی موجود ہے۔ اردو شاعری خاص طور سے غزل کے اشعار میں انسان اپنی تمام نزاکتوں، نفاستوں اور خباثتوں کے ساتھ جلوہ گر ہے۔ ہر چند کہ یہ مخلوق ایک معمہ سے کم نہیں لیکن ہم یہاں انسان یا آدمی کے موضوع پر بیس بے حد مقبول اشعار آپ کی خدمت میں پیش کرنے کی جسارت کر رہے ہیں۔
الدرالیتیم فی ایمان آباء نبی الکریم
حافظ شاہ علی انور
اسلامیات
مدحت آل عبا
شارق رشید
سلام
گلشن آل عبا
منشی سید غلام حسین
مسکن شوبھا
سید مسعود ہاشمی
کوہ قامت انسان
لیوند متروخن
سیرت ائمہ اربعہ
رئیس احمد جعفری
تذکرئہ ائمئہ اربعہ
اختر حسین فیضی
قرآن مجید اور تخلیق انسان
انسان اے انسان
حسن منظر
ناول
سر نوشت
اسلام، دین عظمت انساں ہے دوستو
آل رضا رضا
مرثیہ
فرائض انسان
راجہ رام موہن راے
عظمت انسان
حکیم ابوالفرح
نوع انسان کی کہانی
ہنڈرک ویلیم ون لون
ناؤ کاغذ کی تن خاکیٔ انساں سمجھوغرق ہو جائیں گی چھینٹا جو پڑا پانی کا
تم پری کا فخر ہو حوروں کا نازکاش ہوتے فرقۂ انسان میں
مثل اوراق ہیں سبھی انساںاور دنیا کتاب ہو جیسے
مسکن ماہ و سال چھوڑ گیادل کو اس کا خیال چھوڑ گیا
مگر یہ اہل ریا کس قدر برہنہ ہیںگلیم و دلق و عبا و قبا کے ہوتے ہوئے
جہاں نگاہ سے انساں بنائے جاتے ہیںوہ باب مے کدہ میرے لیے کھلا تو ملا
ہمارا نام و نسب پوچھنے سے کیا حاصلمثال آبا و اجداد کے سوا کیا ہے
ایک انورؔ ہی شہید درد انساں ہے تو کیانوع انساں ہی شریک درد انساں چاہئے
لہو میں ڈوبی ہے تاریخ خلقت انساںابھی یہ نسل ہے شائستۂ حیات کہاں
پرسان پریشانی انساں نہیں کوئیقسمت کی گرہ ناخن تدبیر سے کھولو
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books