aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "miTaa.uu.n"
گوپال متل
1901 - 1993
شاعر
اشونی متل عیش
born.1992
ہاشمی بیجاپوری
1635 - 1697
میتالی راج تیواری
born.1995
میران جی شمس العشاق
1496 - 1557
مصنف
میران شاہ جالندھری
سید میراں جی خدا وند خدا نما
1625 - 1672
میلان کنڈیرا
1929 - 2023
سراج انورمحمد میراں
born.1978
پریم گوپال متل
born.1938
بیگم زبیدہ میدان
مترجم
بندگی میاں ولی ابن بندگی میاں یوسف
سنجیو متل
مدیر
امین محمود میاں کنگے
ناشر
حکیم محمد تقی میران صاحب
اشکوں کی ایک نہر تھی جو خشک ہو گئیکیوں کر مٹاؤں دل سے ترے غم کی چھاپ کو
کیسے اپنے دل سے مٹاؤں برہ اگن کا روگکیسے سجھاؤں پریم پہیلی کیسے کروں سنجوگ
تمہارا نام پھر ساحل پہ لکھوںلہر سے آنے پہلے خود مٹاؤں
اپنی کٹیا کے اندھیرے کو مٹاؤں کیسےوہ مرے دیپ کو زلفوں سے ہوا دیتی ہے
یہ نقش ایسا نہیں ہے جسے مٹاؤں میںمجھے بتا کہ تجھے کیسے بھول جاؤں میں
बताऊँ بَتاؤُں
ہندی
गिराऊँ گِراؤں
رک : گاؤں
سنسکرت
क्या बताऊँ کیا بَتاؤُں
ناقابلِ بیان ہے ، میں بتا نہین سکتا ، مجھ سے اس بات کی وضاحت نہیں ہو سکتی.
सिलाऊँ سلاؤں
get sewn/stitched
میراں جی شمس العشاق
محمد ہاشم علی
میزان
جاوید احمد غامدی
اسلامیات
یادگار غالب
الطاف حسین حالی
سوانح حیات
معرفت نفس
حجۃ الاسلام حمید رضا مظاہری سیف
ترجمہ
تدوین متن کی روایت آزادی کے بعد
صابر علی سیوانی
زبان و ادب
میزان تحقیق
محمد اکمل
تحقیق
آج دوسری کتاب
افسانہ / کہانی
اردو میں بارہ ماسے کی روایت مطالعہ و متن
تنویر احمد علوی
فیض احمد فیض
تنقید
فیض: تنقید کی میزان پر
اشفاق حسین
ناول کا فن
ناول تنقید
لاہور کا جو ذکر کیا
خود نوشت
قاضی عبدالودود : بحیثیت مرتب متن
گیان چند جین
علم شرح، تعبیر اور تدریس متن
نعیم احمد
میزان سخن
علامہ اخلاق دہلوی
زبان
ہے ماں کے آنچل کی ٹھنڈی چھاؤں تو کیوں نہ اپنی تھکن مٹاؤںوہ میری ہستی کے گرم صحرا پہ رہتی ہے سائبان بن کر
تم ہجر کے جھگڑوں کو مٹا کیوں نہیں دیتےبگڑی ہوئی تقدیر بنا کیوں نہیں دیتے
دل کا ارماں ایک سے ہے ایک بڑھ کر انتخابکون سا ہمدم مٹاؤں کون سا پیدا کروں
لبوں کی تشنگی گر میں مٹاؤںتو دریا کا کنارہ ٹوٹتا ہے
مجھ سے روٹھا ہے مرا رب مری کرتوتوں سےاپنے مالک کو مناؤں تو مناؤں کیسے
الجھ کے رہ سا گیا ہوں ترے خیالوں میںکہ اک خیال مٹاؤں تو دوسرا بن جائے
ہم کو مٹا سکے یہ زمانہ میں دم نہیںہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں
صفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا ہم نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا ہم نے
صفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا کس نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا کس نے
اب یہ بھی نہیں ٹھیک کہ ہر درد مٹا دیںکچھ درد کلیجے سے لگانے کے لیے ہیں
ایک نظر کی ایک ہی پل کی بات ہے ڈوری سانسوں کیایک نظر کا نور مٹا جب اک پل بیتا بھول گیا
آنکھوں سے بڑی کوئی ترازو نہیں ہوتیتلتا ہے بشر جس میں وہ میزان ہیں آنکھیں
اب تک مری یادوں سے مٹائے نہیں مٹتابھیگی ہوئی اک شام کا منظر تری آنکھیں
نہ اس کے دل سے مٹایا کہ صاف ہو جاتاصبا نے خاک پریشاں مرا غبار کیا
میں ہمت کر رہا ہوں یعنی اب اس کو مٹانا ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books