aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "miTaa.uu.n"
ہاشمی بیجاپوری
1635 - 1697
شاعر
میتالی راج تیواری
born.1995
میران جی شمس العشاق
1496 - 1557
مصنف
میران شاہ جالندھری
سید میراں جی خدا وند خدا نما
1625 - 1672
میلان کنڈیرا
1929 - 2023
سراج انورمحمد میراں
born.1978
بندگی میاں ولی ابن بندگی میاں یوسف
امین محمود میاں کنگے
ناشر
بیگم زبیدہ میدان
مترجم
حکیم محمد تقی میران صاحب
قاضی میران بخش قرشی
یعقوب میراں مجتہدی
مدیر
میلن پریس، کلکتہ
میاں محمد اسماعیل نقشبندی نظامی
اشکوں کی ایک نہر تھی جو خشک ہو گئیکیوں کر مٹاؤں دل سے ترے غم کی چھاپ کو
کیسے اپنے دل سے مٹاؤں برہ اگن کا روگکیسے سجھاؤں پریم پہیلی کیسے کروں سنجوگ
تمہارا نام پھر ساحل پہ لکھوںلہر سے آنے پہلے خود مٹاؤں
اپنی کٹیا کے اندھیرے کو مٹاؤں کیسےوہ مرے دیپ کو زلفوں سے ہوا دیتی ہے
یہ نقش ایسا نہیں ہے جسے مٹاؤں میںمجھے بتا کہ تجھے کیسے بھول جاؤں میں
मिटन مِٹَن
مٹنے کی حالت یا عمل ، فنا ۔
मिथुन مِتُھن
میل، جماع، بھوگ، مشت زنی، جوڑا جوڑی (مرد، عورت کی)، توام
سنسکرت
मीतन مِیتَن
دوست عورت
मियाऊँ करना مِیاؤُں کَرنا
بلی کا آواز نکالنا ، بلی کا بولنا ، حرکت کرنا
میزان
جاوید احمد غامدی
اسلامیات
میراں جی شمس العشاق
محمد ہاشم علی
معرفت نفس
حجۃ الاسلام حمید رضا مظاہری سیف
ترجمہ
یادگار غالب
الطاف حسین حالی
سوانح حیات
تدوین متن کی روایت آزادی کے بعد
صابر علی سیوانی
زبان و ادب
آج دوسری کتاب
افسانہ / کہانی
میزان تحقیق
محمد اکمل
تحقیق
اردو میں بارہ ماسے کی روایت مطالعہ و متن
تنویر احمد علوی
فیض احمد فیض
تنقید
فیض: تنقید کی میزان پر
اشفاق حسین
ناول کا فن
ناول تنقید
قاضی عبدالودود : بحیثیت مرتب متن
گیان چند جین
میزان سخن
علامہ اخلاق دہلوی
زبان
علم شرح، تعبیر اور تدریس متن
نعیم احمد
حمید عظیم آبادی
علم عروض / عروض
ہے ماں کے آنچل کی ٹھنڈی چھاؤں تو کیوں نہ اپنی تھکن مٹاؤںوہ میری ہستی کے گرم صحرا پہ رہتی ہے سائبان بن کر
تم ہجر کے جھگڑوں کو مٹا کیوں نہیں دیتےبگڑی ہوئی تقدیر بنا کیوں نہیں دیتے
دل کا ارماں ایک سے ہے ایک بڑھ کر انتخابکون سا ہمدم مٹاؤں کون سا پیدا کروں
لبوں کی تشنگی گر میں مٹاؤںتو دریا کا کنارہ ٹوٹتا ہے
مجھ سے روٹھا ہے مرا رب مری کرتوتوں سےاپنے مالک کو مناؤں تو مناؤں کیسے
الجھ کے رہ سا گیا ہوں ترے خیالوں میںکہ اک خیال مٹاؤں تو دوسرا بن جائے
ہم کو مٹا سکے یہ زمانہ میں دم نہیںہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں
صفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا ہم نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا ہم نے
صفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا کس نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا کس نے
اب یہ بھی نہیں ٹھیک کہ ہر درد مٹا دیںکچھ درد کلیجے سے لگانے کے لیے ہیں
ایک نظر کی ایک ہی پل کی بات ہے ڈوری سانسوں کیایک نظر کا نور مٹا جب اک پل بیتا بھول گیا
آنکھوں سے بڑی کوئی ترازو نہیں ہوتیتلتا ہے بشر جس میں وہ میزان ہیں آنکھیں
اب تک مری یادوں سے مٹائے نہیں مٹتابھیگی ہوئی اک شام کا منظر تری آنکھیں
نہ اس کے دل سے مٹایا کہ صاف ہو جاتاصبا نے خاک پریشاں مرا غبار کیا
میں ہمت کر رہا ہوں یعنی اب اس کو مٹانا ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books