aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "murtad"
ندا فاضلی
1938 - 2016
شاعر
ممتاز گورمانی
مرتضیٰ برلاس
born.1934
ممتاز نسیم
ممتاز مفتی
1905 - 1995
مصنف
غلام مرتضی راہی
born.1937
ممتاز راشد
بیان میرٹھی
1840 - 1900
عظیم مرتضی
1923 - 1983
ممتاز میرزا
1929 - 1997
عباس ممتاز
born.1984
ممتاز احمد خاں خوشتر کھنڈوی
born.1910
سید صدام گیلانی مراد
born.1991
ممتاز شیریں
1924 - 1973
ممتاز حسین
1918 - 1992
مذہب عشق کوئی چھوڑ مرے تو میں نےایسے مرتد کا جنازہ نہیں ہونے دینا
انسان خطا کا پتلا ہےالبتہ مرتد ایک طرف
مومن و کافر و مشرک نہ تو مرتد ملحداپنے ڈانڈے تو کسی سے بھی کہیں ملتے نہیں
لاکھ مرتد سہی بے دین نہیں ہیں واعظبت نئے ہیں تو خدا کیا نہ نیا لائیں گے ہم
دوسروں کی بات آئی تو پیمبر تھا وہ شخصاپنی باری پر محبت سے ہی مرتد ہو گیا
मरता مَرتا
ہندی
نیم جاں، جاں بلب، وہ جو مرنے کے قریب ہو، تراکیب میں مستعمل، وہ جو قریب بہ ہلاکت ہو
मुर्तद مُرْتَد
عربی
اسلام سے پھرا ہوا، دین سے منحرف، مردود
मुराद مُراد
وہ جس کی خواہش یا ارادہ کیا گیا ہو، وہ چیز جس کا ارادہ کیا گیا ہو، مقصود
मरता हूँ مَرتا ہوں
عاشق ہوں
اردو میں فن سوانح نگاری کا ارتقاء
ممتاز فاخرہ
خود نوشت
علی پور کا ایلی
ناول
اصناف ادب کا ارتقا
سید صفی مرتضٰی
انتخاب
علم قافیہ
ممتاز الرشید منہاس
زبان
آزادی کے بعد اردو ناول
ممتاز احمد خاں
فکشن تنقید
اصناف سخن
ممتاز الرشید
باغ وبہار کا تنقیدی جائزہ
امام مرتضٰی نقوی
الکھ نگری
افسانہ
ممتاز افسانہ نگاروں کے نمائندہ مختصر افسانے مع تبصرہ
محمد طاہر فاروقی
منٹو: نوری نہ ناری
تنقید
چپ
کتاب میرداد
میخائیل نعیمی
ترجمہ
ریحان حسن
معیار
سچی کہانیاں
شہید مرتضیٰ مطہری
اسلامیات
عشق اگر ہے دین تو پھر ہو جائیں گےہم بھی مرتد اس کے مکمل ہونے تک
کر رہا ہوں حیات نو تعمیراپنا مرقد بنا رہا ہوں میں
حسین مسلم حسین مومن حسین عالم حسین عادلیزید مرتد یزید ملحد یزید جاہل یزید قاتل
اب کہیں کوئی ٹھکانہ ہی نہیں جز کوئے یارمرتد کعبہ ہوا مردود بت خانہ ہوا
جسم کی طرح تری سوچ بھی مرتد ہوگیبعد از مرگ کسی آگ میں جل جائے گا
وہ سرو قد ہے مگر بے گل مراد نہیںکہ اس شجر پہ شگوفے ثمر کے دیکھتے ہیں
مرتا ہوں خامشی پر یہ آرزو ہے میریدامن میں کوہ کے اک چھوٹا سا جھونپڑا ہو
واعظ کمال ترک سے ملتی ہے یاں مراددنیا جو چھوڑ دی ہے تو عقبیٰ بھی چھوڑ دے
میں اپنے ساتھ جذبوں کی جماعت لے کے آیا ہوںجب اتنے مقتدی ہیں تو امامت کیوں نہیں کرتے
آفت تو ہے وہ ناز بھی انداز بھی لیکنمرتا ہوں میں جس پر وہ ادا اور ہی کچھ ہے
اک عبث کا وجود ہے جس سےزندگی کو مراد پانی ہے
یہ ٹھیک ہے نہیں مرتا کوئی جدائی میںخدا کسی کو کسی سے مگر جدا نہ کرے
مرتا ہوں اس آواز پہ ہر چند سر اڑ جائےجلاد کو لیکن وہ کہے جائیں کہ ہاں اور
عروق مردۂ مشرق میں خون زندگی دوڑاسمجھ سکتے نہیں اس راز کو سینا و فارابی
ایک جاں سوز و نامراد خلشاس طرف ہے ادھر نہیں ہوتی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books