aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "najiib"
نجیب احمد
1946 - 2021
شاعر
نظیر اکبرآبادی
1735 - 1830
نذیر بنارسی
1909 - 1996
نذیر قیصر
born.1945
نظیر باقری
سید یوسف علی خاں ناظم
1816 - 1865
ڈپٹی نذیر احمد
1836 - 1912
مصنف
ہجر ناظم علی خان
1880 - 1914
نظیر صدیقی
1930 - 2001
ناجی شاکر
1690 - 1744
ناظر وحید
born.1987
وکیل نجیب
born.1946
یوسف ناظم
1918 - 2009
سید نظیر حسن سخا دہلوی
died.1933
خوشی محمد ناظر
1871 - 1944
کس نے وفا کے نام پہ دھوکا دیا مجھےکس سے کہوں کہ میرا گنہ گار کون ہے
موت سے زیست کی تکمیل نہیں ہو سکتیروشنی خاک میں تحلیل نہیں ہو سکتی
میں بھی رہا ہوں خلوت جاناں میں ایک شامیہ خواب ہے یا واقعی میں خوش نصیب تھا
میں اسکول سے چھٹی لے کر اپنے ماما کی شادی میں گاؤں گیا تھا۔ ایک ہفتہ اسکول سے غائب رہنے کے بعد اسکول آیا تو مجھے کلاس میں کچھ کمی سی محسوس ہوئی۔ دراصل میرے سامنے بیٹھنے والا شہزاد اپنی سیٹ پر موجود نہیں تھا۔...
حریم لفظ میں کس درجہ بے ادب نکلاجسے نجیب سمجھتے تھے کم نسب نکلا
नजीब نَجِیب
noble, generous, gentle
عربی
नसीब نَصِیب
قسمت، تقدیر، حصہ جو مقدر ہوچکا ہو
नसीब نَسِیب
صاحب نسب، اعلیٰ نسب کا، عمدہ نسب والا، عالی نسب، اچھے خاندان کا
नज़ीर نَضِیر
زر، سونا، چاندی
بے زبان ساتھی
نجیب محفوظ کی کہانیاں
نجیب محفوظ
افسانہ / کہانی
دوسرے جہاں کی آوازیں
علامہ راشد الخیری
نجیب اختر
مونوگراف
مصر سرزمین اور باشندے
زکی محمود نجیب
ترجمہ
کمپیوٹان
ناول
مقدمہ رقعات عالمگیر
سید نجیب اشرف ندوی
تاریخ
نجیب محفوظ کی چند مختصر کہانیوں کے ترجمے
حکایات
غدار وزیر
مسیحا
معصوم بجوکا
جانباز ساتھی
شوکر اسٹریٹ
آئین نو
خطرناک راستے
سو اب یہ شرط حیات ٹھہریکہ شہر کے سب نجیب افراد
شگفتہ رہتے ہیں رہتے دم تکیہ چند لمحے کسی کسی کے نصیب میں ہیں
زمیں پہ پاؤں ذرا احتیاط سے دھرنااکھڑ گئے تو قدم پھر کہاں سنبھلتے ہیں
ہر آنکھ میں نجیبؔ ہیں سپنے بسے ہوئےاس جاگتے دیار میں بے دار کون ہے
زرد مٹی میں گھلی سبز توانائی نجیبؔاب ذرا آنکھ لگی ہے تو یہ خواب آئے گا
ہم بچھڑ جائیں گے شاخ عمر سے گر کر نجیبؔاک تنے پر نام دونوں کا لکھا رہ جائے گا
زندگی بھر کی کمائی یہ تعلق ہی تو ہےکچھ بچے یا نہ بچے اس کو بچا رکھتے ہیں
وہی رشتے وہی ناطے وہی غمبدن سے روح تک اکتا گئی تھی
بہ فیض درد محبت میں خوش نسب، میں نجیب!مرا قبیلہ ترا غم، مرا نسب تری یاد
اک تری یاد گلے ایسے پڑی ہے کہ نجیبؔآج کا کام بھی ہم کل پہ اٹھا رکھتے ہیں
تیرے ہمدم ترے ہم راز ہوا کرتے تھےہم ترے ساتھ ترا ذکر کیا کرتے تھے
پھر یوں ہوا کہ مجھ پہ ہی دیوار گر پڑیلیکن نہ کھل سکا پس دیوار کون ہے
کئی نجیبؔ اسی آگ سے جنم لیں گےکہ میری راکھ سے بننا ہے آشیاں میرا
آسمانوں سے زمینوں پہ جواب آئے گاایک دن رات ڈھلے یوم حساب آئے گا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books