aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "naqaab-e-shaahid-e-maqsuud"
ایم۔ اے۔ شاہد
مدیر
ایم اے مقبول
مصنف
ابن محمود
مکتبۂ محمود، کراچی
ناشر
ایم، اے، مسعود کشمیری
تالیفاتِ شہیدی، لاہور
انجمن پروانۂ شبیر، حیدرآباد
شاہین اسلام اردو لائبریری
جامعہ اہل سنت حضرت ٹیپو سلطان شہید
مخمور دہلوی
1900 - 1956
شاعر
ساحل اجمیری
born.1929
ابن کنول
1957 - 2023
نواب امراوبہادر دلیر
1873 - 1926
ایم۔ آئی۔ ساجد
born.1946
مسعود اے. راجا
ہستی کو مثل نقش کف پا مٹا چکےعاشق نقاب شاہد مقصود اٹھا چکے
تجھے جب سے اے شاہد طور دیکھاجدھر آنکھ ڈالی ادھر نور دیکھا
اگر ہے حوصلۂ دید شاہد مقصودتو پہلے ذوق تماشائے بام پیدا کر
جو دکھا دے جلوہ روئے شاہد مقصود کاصدقے ساقی اس شراب آئینہ کردار کے
انشاؔ دکھا کے اور بھی اک جلوۂ غزلبند نقاب شاہد اسرار توڑیئے
شہادت ایک مذہبی تصور ہے جس کے مطابق کسی نیک ارادے کے تحت جان قربان کرنے والے مرنے کے بعد بھی زندہ رہتے ہیں اوربغیر کسی بازپرس کے جنت میں جاتے ہیں ۔شاعری میں عاشق بھی زخمی ہو کر شہادت کا درجہ پاتا ہے۔یہ شہادت اسے معشوق کے ہاتھوں ملتی ہے ۔شہادت کے اس مذہبی تصور کو شاعروں نے کس خوبصورتی کے ساتھ عشق کے علاقے سے جوڑ دیا یہ دیکھنے کی بات ہے ۔
نقاب کو کلاسیکی شاعری میں بہت دلچسپ طریقوں سے موضوع بنایا گیا ہے ۔ محبوب ہے کہ اپنے حسن کو نقاب سے چھائے رہتا ہے اور عاشق دیدار کو ترستا ہے اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ نقاب بھی محبوب کے حسن کو چھپا نہیں پاتا اوراسے چھپائے رکھنے کی تمام کوششیں ناکام ہوجاتی ہیں ۔ ایسے اور بھی مزےدار گوشے نقاب پر کی جانے والی شاعری کے اس انتخاب میں ہیں ۔ آپ پڑھئے اور لطف لیجئے ۔
گلدستہ شہید ناز
محبوب علی
مجموعہ
نیاز آگین محمد شمس الدین
اولین شہید آزادی ٹیپو سلطان
محمود خاور
ہندوستانی تاریخ
سیرت شہید کربلا
محمد ایوب عثمانی
اسلامیات
تجلیات شہید عشق
مولانا محمد الفاروقی آلہ آبادی
چشتیہ
علی جلال حسینی مصری
منزل مقصود
ولیم لکیو
ناول
عارض مقصود
سید اشفاق حسین
شاہد اذکار
مثنوی
خورشید نمبر
عامر مصطفیٰ رضوی
در مقصود
گوہر مقصود
راشدالخیری
شہید کربلا
محمد ابرار احمد صدیقی
ہماری منزل مقصود
ہیوبرٹ ایچ ہمفری
سیاسی
گوہرمقصود
خوشا اے وادیٔ سرفنگ بہ چشم شاہدؔ حیراںہمارے بائی فوکل میں غضب کے زیر و بم نکلے
مرے اک دوست نے مجھ سےکہا اے شاہدؔ انور
اک نہیں میں ہی شہید تلخیٔ گفتار دوستسارا عالم ہے قتیل دشنۂ کردار دوست
دیار شاہد بلقیس ادا سے آیا ہوںمیں اک فقیر ہوں شہر سبا سے آیا ہوں
جمال شاہد فطرت کا پردہ دار ہوں میںگلوں کی کیا ہو تمنا کہ خود بہار ہوں میں
وہ شہید نگہ ناز نظر آتے ہیںآج کل اور ہی انداز نظر آتے ہیں
شاہد مقصود تک پہنچیں گے کیونکر دیکھیےبند ہے باب تمنا ہے غضب کھلتا نہیں
تلاش معنی مقصود اتنی سہل نہ تھیمیں لفظ لفظ اترتا گیا بہت گہرا
اے شاہدؔ خوش بخت یگانہؔ سے یہ کہہ دوکہتے ہیں کہ غالبؔ کے طرفدار تھے ہم لوگ
ہمہ تن گوش ہے وہ شاہد زیبائے غزلہے سکوت ازلی حسن تقاضائے غزل
بہت حریص ہیں دیدہ وران چہرہ فضاؔنقاب ڈال کے چل آگہی کے چہرے پر
ہم وہی اہل جنوں اہل وفا صاحب دلہم کہ ہر دور میں اوراق زمانہ کے امیں
ملے گی منزل مقصودؔ اک دنابھی شاداب خواہش کا شجر ہے
میرے تیور ہی اے مقصودؔ بچت ہے میریسخت مشکل میں بھی نیلام یہ زیور نہ ہوا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books