aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "nikat"
نسیم نکہت
1958 - 2023
شاعر
نکہت افتخار
نگہت صاحبہ
born.1983
غزل جعفری
born.1960
مصنف
نکہت بریلوی
born.1935
یاسمین حسینی زیدی نکہت
رخسانہ نکہت لاری ام ہانی
born.1953
نکہت یاسمین گل
نجمہ نکہت
نکہت گلرخ
مطبوعات نقاط، اسلام آباد
ناشر
شمیم نکہت
1935 - 2016
ڈاکٹر نکہت فاطمہ
نکہت شاہ جہانپوری
1905 - 1983
ڈاکٹر نکہت منعم
مدیر
دل میں تجھ سے تھی جو شکایتاب غم کے نکات ہو گئی ہے
ملن کے بعد آتی ہے جدائینرک بھی سورگ سے کتنا نکٹ ہے
جو دیکھا سمجھا سنا غلط رہا میزاناور نکٹ آ زندگی ہو تیری پہچان
کوئی کیا سمجھ سکے ان کی اہمیت ہے کیاغور کر رہا ہوں میں آج جن نکات پر
اردو کی شاعری ہے تو ہوگی یہ بات بھیعلم عروض بھی ہے رموز و نکات بھی
निकलنِکَل
نکلنا کا امر، تراکیب میں مستعمل
निक़ाबنِقاب
निकालنِکال
ہندی
(اصطلاح تشریح) زائدہ ، کسی عضو کا نکال یا اُبھار
निकल केنِکَل کے
باہر آکر ، برآمد ہو کر ، پیدا ہو کے ؛ آگے بڑھ کر ، تجاوز کرکے نیز چھوڑ کر ۔
نکات الشعراء
میر تقی میر
تذکرہ
شعرائے اردو کے تذکرے
حنیف نقوی
تذکرہ نکات الشعرا نکات الشعرا
1857: نکات اور جہات
حسن مثنیٰ
سیاسی تحریکیں
نکات الشعرا
نکات غالب
مرزا غالب
خود نوشت
تذکرہ مخزن نکات
قائم چاندپوری
دیوان بیدل
عبد القادر بیدل دہلوی
فلسفہ تصوف
کامیابی کے بنیادی نکات
محمد فاروق خاں
نکات بیدل
قادریہ
شمارہ نمبر۔016
قاسم یعقوب
نقاط
نکات زبان دانی
ہمت رائے شرما
محبت خدا کی حقیقت کا نورمحبت کسی کا پیام ظہورمحبت کے پیغامبر انبیامحبت کے زیر اثر اولیامحبت نقوش بیاض وجودتر و تازہ اس سے ریاض شہودمحبت نہیں تو نہیں زندگیمحبت سے ہے دل نشیں زندگیمحبت سے ہر ذرہ پیوستہ ہےطرب زا محبت کا گلدستہ ہےنشاط محبت رفیق حیاتکئے اس نے حل زندگی کے نکاتمحبت سے ہر اک حقیقت عیاںمحبت سے ماں کی فضیلت عیاںمحبت سے شان پدر سر بلندمحبت سے وصف پسر ارجمندمحبت سے مضبوط اجزائے قوممحبت سے مربوط آرائے قوممحبت سے قائم نظام حیاتتغیر میں بھی ان کا نور ثباتمحبت نہیں ہے تو کچھ بھی نہیںمحبت ہی ہے اصل دنیا و دیں
مجھے باندھ کر جنہوں نے سر طاق رکھ دیا ہےکبھی خود بیاں کروں گا میں وہ سب نکات کھل کے
نکات عشق اسرار خدا ہیں بیگماں قربیؔجنے اسرار کو بوجیا وہی حق سات واصل ہے
عاشقی کے محکمے میں ہیں نکاتجان و تن اور عقل و دل سب دام دام
مس نہیں کچھ جنہیں تغزل سےفلسفے کے نکات کہتے ہیں
دشمن جاں ہے تشنۂ خوں ہےشوخ ہے بانک ہے نکت بھوں ہے
روں روں زباں کروں تو اس کی ثنا نہ سر سیقربیؔ کرم سوں حق کی کیا خوش نکات پایا
اس تنگ دہان کے سخن پریاں گزرے ہیں سو نکات جی میں
حسن حسن صفات کیا جانےعاشقی کے نکات کیا جانے
مرے وجود کا مکانخار دار تار کا حصار جس کے ارد گردآدمی کا خون پینے والی زرد جھاڑیوں کے خار دار ہات ہیںمری زمیں کے ارد گردکہکشاں کے خار دار دائروں کا رقص ہےزمیں سے آسمان تکوجود اپنے ان گنت حواس کا گناہ ہےشعور و لمس و لذت و مقام کے سراب ہیںمیں پوچھتا ہوں سنگ میں گداز پنبہ ڈھونڈنے سے کیا ملایہ زندگی یہی تو ہےکہ ریزہ ریزہ جمع کی ہوئی متاع زیست کوہوائے تند پھینک آئے دشت بے سواد میںمری نظر کے سامنےنہ جانے کتنے جسم تھے کہ ٹوٹ کر بکھر گئےمیں ایسے ہولناک تجربوں کے بعد بار بارخود کو یوں سنبھالتا ہوں جیسے اپنے ہات سےمیں گر کے ٹوٹ جاؤں گامرا بدن اذیتوں کا خوان ہےکبھی میں برف کی سلوں کی ہوں غذاکبھی میں تیرگی کا رزق ہوںکبھی مرے لئے ہے نوک دار خنجروں کا تخت خواباور آج ان اذیتوں کے درمیاںمرا وجود جیسے مجھ کو چھوڑ کر چلا گیامیں برگ سبز تھا جسےخزاں کا ہات شاخ تر سے توڑ کر چلا گیامیں ایک سمت فلسفے کے ان گنت نکات کی پناہ ہوںاور ایک سمت آگہی کے جبر کی کراہ ہوںمسابقت کے دور میں وہ ساعتیں بھی آ گئیںکہ حسن اور عشق میں متاع اور مشتری کا رمز جاگنے لگانہ عشق اتنا بے خبرنہ حسن اتنا معتبرکہ بے دلیل قضیۂ وفا کی داد دے سکےیہ کائنات بے حسی کی اک بسیط شکل ہےنہ زندگی کا کچھ اثرنہ موت سے کوئی خطراب ایسی کائنات میںاس ایک ریزۂ وجود کے حواس کیا کریںاب ایسے سرد جسم کی برہنگی کو دیکھ کرخلوص و مہر و لطف کے حسیں لباس کیا کریں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books