aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "okhat"
سنکشیپ برنوال اکشت
born.1998
شاعر
دارالاشاعت خانقاہ مجیبیہ، پٹنہ
ناشر
حضرت اوگھٹ شاہ وارثی
1874 - 1952
مصنف
دارالاشاعت ترقی، ماسکو
مدیر
بدیشی زبانوں کا اشاعت گھر ماسکو
دارالاشاعت رحمانی خانقاہ، مونگیر
دارالاشاعت خانقاہ امجدیہ، سیوان
دارالاشاعت پنجاب، لاہور
بکڈپو تالیف واشاعت قادیان
بک ڈپو تالیف و اشاعت قادیان
احمدیہ انجمن اشاعت اسلام، بمبئی
شعبہ نشر و اشاعت جامعہ چشتیہ خانقاہ حضرت شیخ العالم ردودلی شریف، فیض آباد
نظارت نشرواشاعت صدر انجمن احمدیہ قادیان، پنجاب
ردوگا اشاعت گھر، ماسکو
عالمی ادارۂ اشاعت علوم اسلامیہ، ملتان
میں عشق کا جلا ہوں مرا کچھ نہیں علاجوہ پیڑ کیا ہرا ہو جو جڑ سے اکھٹ گیا
بیکل ہوا ہوں اب تو تری زلف میں سجنشب ہے دراز نیند ہماری اچٹ گئی
بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیںتجھے اے زندگی ہم دور سے پہچان لیتے ہیں
ٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اڑ جاتے تھےپاؤں شیروں کے بھی میداں سے اکھڑ جاتے تھے
اتنے خائف کیوں رہتے ہوہر آہٹ سے ڈر جاتے ہو
ہجرووصال کے سیاق میں آہٹ کے لفظ نے بہت سے دلچسپ اشعارکا اضافہ کیا ہے ۔ ہجر کی آگ میں جلتے ہوئے عاشق کو ہرلمحہ محبوب کے آنے کی آہٹ ہی سنائی دیتی ہے لیکن نہ وہ آتا ہے اورنہ ہی اس کے آنے کا کوئی امکان نظرآتا ہے ۔ یہ آہٹیں ہجرمیں بھوگ رہے اس کے اس دکھ میں اور اضافہ کرتی ہیں ۔ اب نہ وہ عشق رہا اورنہ ہجر کی وہ صورتیں لیکن ان آہٹوں کوتوآج بھی سنا جاسکتا ہے ۔
खटکَھٹ
سنسکرت
کھٹّا کا مخفف، عموماً مرکبات میں مستعمل
ख़तخَط
عربی
کسی چیز کی سطح پر نشان یا علامت، خراش، بدھی
खतکَھت
کھاٹ ، پلنگ ، چارپائی.
आहटآہَٹ
آنے جانے یا چلنے کی ہلکی سی آواز، خفیف سی چاپ (اکثر پاؤں یا کسی اور قرینے کے ساتھ مستعمل)
اردو رسم الخط
شیما مجید
مقالات/مضامین
انسانیت موت کے دروازے پر
ابوالکلام آزاد
اسلامیات
محمد سجاد مرزا
اردو رسم الخط اور املا ایک محاکمہ
ابو محمد سحر
زبان
فیضان وارثی
شاعری
کشمیر میں عربی علوم اور اسلامی ثقافت کی اشاعت
سید محمد فاروق بخاری
تاریخ اسلام
دقائق الکلیات
حکیم سید محمد کمال الدین حسین ہمدانی
طب یونانی
اوقات الصلوٰۃ
محمد انس
رسم الخط
ڈپٹی نذیر احمد
زبان و ادب
اردو رسم الخط اور اس کی اہمیت
محمد امین عباسی
آہٹ
اوشا شفق
غزل
اسلامی نظم جماعت میں بیعت کی اہمیت
اسرار احمد
کتاب الاخلاط
حکیم محمد کبیرالدین
ارشاد عزیز
دیوان
آہٹ سی کوئی آئے تو لگتا ہے کہ تم ہوسایہ کوئی لہرائے تو لگتا ہے کہ تم ہو
رات بھر پچھلی سی آہٹ کان میں آتی رہیجھانک کر دیکھا گلی میں کوئی بھی آیا نہ تھا
چشم دل کھول اس بھی عالم پریاں کی اوقات خواب کی سی ہے
آفت روزگار جب تم ہوشکوۂ روزگار کون کرے
ایک بازو اکھڑ گیا جب سےاور زیادہ وزن اٹھاتا ہوں
اس نے بے ساختہ پھر مجھ کو پکارا ہوگاچلتے چلتے کوئی مانوس سی آہٹ پا کر
شاخوں سے ٹوٹ جائیں وہ پتے نہیں ہیں ہمآندھی سے کوئی کہہ دے کہ اوقات میں رہے
سو چاند بھی چمکیں گے تو کیا بات بنے گیتم آئے تو اس رات کی اوقات بنے گی
وجود اک جبر ہے میرا عدم اوقات ہے میریجو میری ذات ہرگز بھی نہیں وہ ذات ہے میری
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books