aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "pahar"
سرجیت پاتر
1945 - 2024
شاعر
پرمار ٹھاکر نگینہ رام
مصنف
علی اکبر جلائی فر
مطبع فیروز دکن پتہر گٹتی،حیدرآباد
ناشر
پار پرتو
پہلے پہل پرکاشن، بھوپال
ہمارا اقدام پتھر گٹی، حیدرآباد
شانتی پہل مائنارٹیز، دہلی
کیا سمجھے تھے اور تو کیا نکلا یہ سوچ کے ہی حیران ہیں ہمہے پہلے پہل کا تجربہ اور کم عمر ہیں ہم انجان ہیں ہم
یاد تیری کبھی دستک کبھی سرگوشی سےرات کے پچھلے پہر روز جگاتی ہے ہمیں
پہلے تو سنا کرتے تھے عاشق کی مصیبتاب آنکھ سے وہ آٹھ پہر دیکھ رہے ہیں
چشم ساقی سے پیو یا لب ساغر سے پیوبے خودی آٹھوں پہر ہو یہ ضروری تو نہیں
کھول دیں زنجیر در اور حوض کو خالی کریںزندگی کے باغ میں اب سہ پہر ہونے کو ہے
یہ دس ایسی غزلوں کا مجموعہ ہے جنہیں نامور گلوکاروں نے اپنی آواز دی ہے، یہ غزلیں محبت اور عشق کے شدید جذبے سے لبریز ہیں۔ ہماری یہ پیشکش آپ کے لیے خاص ہے۔ یہاں آپ ان غزلوں کو پڑھ سکتے ہیں جنہیں ابھی تک صرف سنتے رہے ہیں۔
موضوعاتی شاعری کا یہ پہلا ایسا آن لائن ذخیرہ ہے جہاں آپ اپنی پسند کے کسی بھی موضوع پر اشعار کے شاندار انتخاب تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔ ابھی تک تقریبا ڈھائی سو سے زیادہ موضوعات پر قدیم وجدید شاعروں کے بہترین اشعار کو جمع کیا گیا ہے جس میں مسلسل اضافہ جاری ہے۔
पत्थर پَتَّھر
اولا ، ژالہ .
سنسکرت, ہندی
बहार بَہار
فصل ربیع، پھول کھلنے کا زمانہ، بسنت کی رت
فارسی
सहर سَحَر
طلوع آفتاب سے کچھ پہلے کا وقت، وہ وقت جب رات کا چھٹا حصہ باقی ہو، تڑکا، بھور
عربی
पहर پَہَر
دن رات کا آٹھواں حصہ، رات یا دن کا چوتھائی حصہ، تین گھنٹے
سنسکرت
تیسرے پہر کی کہانیاں
اسد محمد خاں
افسانہ
سہ پہر کی خزاں
رشید امجد
در کھلے پچھلے پہر
عبد الاحد ساز
رات کا آخری پہر
عزیز رحیمی
سه پهر كی خزاں
اخلاقی کہانی
پچھلے پہر
جاں نثار اختر
مجموعہ
سہ پہر کا سورج
اظہر افسر
ڈرامہ
پہاڑ کاٹتے ہوئے
قیصر شمیم
پہر میں بھر معرفت اور نفرت
شیو داس لکھنوی
چاند کے پار
کیف بھوپالی
خواب پتھر ہو گئے
منیش شکلا
غزل
آنکھوں کے اس پار
فوزیہ رباب
قیمی پتھر اور آپ
بیگم زبیدہ فریدالحق
خواتین کی تحریریں
یہ دل کا درد تو عمروں کا روگ ہے پیارےسو جائے بھی تو پہر دو پہر کو جاتا ہے
جہاں سے پچھلے پہر کوئی تشنہ کام اٹھاوہیں پہ توڑے ہیں یاروں نے آج پیمانے
سر شام سے رتجگا کے وہ ساماںوہ پچھلے پہر نیند آنے کی راتیں
دھیان کی سیڑھیوں پہ پچھلے پہرکوئی چپکے سے پاؤں دھرتا ہے
چند لمحے جو لوٹ کر آئےرات کے آخری پہر آئے
یا آٹھ پہر جس میں جھڑ بدلی ہو ساون کی
دن بھر ایک ایک سے وہ لڑتا جھگڑتا بھی بہترات کے پچھلے پہر سب کو دعا دیتا تھا
مجلس شام غریباں ہے بپا چار پہرمستقل بس ابھی ماحول عزا ہے مجھ میں
آبرو کے لیے روتی ہے بہت پچھلے پہرایک عورت کہ جو پیشہ بھی نہیں چھوڑتی ہے
رفتار ہے کہ چاندنی راتوں میں موج گنگیا بھیرویں کی پچھلے پہر قلب میں امنگ
رات کے پچھلے پہر رونے کے عادی روئےآپ آئے بھی مگر رونے کے عادی روئے
جی بہلتا ہی نہیں اب کوئی ساعت کوئی پلرات ڈھلتی ہی نہیں چار پہر سے پہلے
اب آٹھ پہر ان آنکھوں میںوہ چنچل مکھڑا رہتا ہے
جہاں روتی ہوں میں جھکا کے سرمیں مہیب رات کا پہر ہوں
ہوئے ختم سگریٹ اب کیا کریں ہمہے پچھلا پہر رات کے دو بجے ہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books