aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "parinda-e-be-par"
امرت بوند آسمان سے ٹپکا پانیگرم توے پر ایک پرندۂ بے پر پیاس
پروازیوں کی شرح نظر تک نہ کر سکیلیکن خیال طائر بے پر کہا گیا
ایک زمانہ تھا کہ ہم قطب بنے اپنے گھر میں بیٹھے رہتے تھے اور ہمارا ستارہ گردش میں رہا کرتا تھا۔ پھر خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ ہم خود گردش میں رہنے لگے اور ہمارے ستارے نے کراچی میں بیٹھے بیٹھے آب و تاب سے چمکنا شروع کردیا۔ پھر...
پیچ گیسو کے تا کمر نکلےعشق بے پر کے بال و پر نکلے
نحیف و زار پابند سلاسل بے زر و بے پرہے کتنی جاں گداز و دل شکن تصویر بھارت کی
تخلیق کارکی حساسیت اسے بالآخراداسی سے بھردیتی ہے ۔ یہ اداسی کلاسیکی شاعری میں روایتی عشق کی ناکامی سے بھی آئی ہے اوزندگی کے معاملات پرذرامختلف ڈھنگ سے سوچ بچار کرنے سے بھی ۔ دراصل تخلیق کارنہ صرف کسی فن پارے کی تخلیق کرتا ہے بلکہ دنیا اوراس کی بے ڈھنگ صورتوں کو بھی ازسرنوترتیب دینا چاہتا ہے لیکن وہ کچھ کرنہیں سکتا ۔ تخلیقی سطح پرناکامی کا یہ احساس ہی اسے ایک گہری اداسی میں مبتلا کردیتا ہے ۔ عالمی ادب کے بیشتر بڑے فن پارے اداسی کے اسی لمحے کی پیداوار ہیں ۔ ہم اداسی کی ان مختلف شکلوں کو آپ تک پہنچا رہے ہیں ۔
یہ دس ایسی غزلوں کا مجموعہ ہے جنہیں نامور گلوکاروں نے اپنی آواز دی ہے، یہ غزلیں محبت اور عشق کے شدید جذبے سے لبریز ہیں۔ ہماری یہ پیشکش آپ کے لیے خاص ہے۔ یہاں آپ ان غزلوں کو پڑھ سکتے ہیں جنہیں ابھی تک صرف سنتے رہے ہیں۔
محبت پر یہ شاعری آپ کے لیے ایک سبق کی طرح ہے، آپ اس سے محبت میں جینے کے آداب بھی سیکھیں گے اور ہجر و وصال کو گزارنے کے طریقے بھی۔ یہ پہلا ایسا خوبصورت مجموعہ ہے جس میں محبت کے ہر رنگ، ہر کیفیت اور ہر احساس کو قید کرنے والے اشعار کو اکٹھا کر دیا گیا ہے۔ آپ انہیں پڑھیے اور محبت کرنے والوں کے درمیان شئیر کیجیے۔
تیر بہدف
عبدالحمید
پردۂ مجاز
پریم چند
جهان رنگ و بو میں
فریدہ زین
افسانہ
جہاں رنگ و بو میں
مضامین
ناول
پس پردہ شب
حسین الحق
طوفان بے تمیزی
رتن ناتھ سرشار
پنڈت رتن ناتھ در
اصلاحی و اخلاقی
شمشیر بے نیام
عنایت اللہ التمش
تاریخی
منڈیر پر بیٹھا پرندہ
نسیم ابن صمد
فکشن تنقید
تجدید جنون
رابرٹ کنکوئسٹ
نظم
محمد حفیظ اللہ پھلواری
عجب دستور ہے ابرار اس دنیائے بے پر کاشکستہ رنگ پتوں پر فدا شبنم نہیں ہوتی
کیا میری حقیقت تھی گلستاں میں نہ پوچھومیں تھا مگر اک طائر بے پر کی طرح تھا
قوم آوارہ عناں تاب ہے پھر سوئے حجازلے اڑا بلبل بے پر کو مذاق پرواز
گرتے پڑتے در سرکار تک آ پہنچا ہےہم سے پوچھے کوئی اک طائر بے پر کے مزے
طائر بے پر بچے کیا دام سے صیاد کےزد میں جب ساری فضائے گلستاں تک آ گئی
ناوک بے پر اگر ہے اس کی مژگان درازقوس کیوں سمجھے نہ عاشق ابروئے خم دار کو
سامنے تھا بے رخی کا آسماںاس لئے واپس زمیں پر آ گئے
بظاہر اس کے لبوں پر ہنسی رہی لیکندم وداع وہ در پردہ بے قرار بھی تھا
کیا کریں بیکس ہیں ہم بے بس ہیں ہم بے گھر ہیں ہمکیوں کر اڑ کر پہنچیں اس تک طائر بے پر ہیں ہم
پر کئے ہیں جو عطا طاقت پرواز بھی دےیا تو میں کھل کے اڑوں یا مجھے بے پر کر دے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books