aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "phiraataa"
فراق گورکھپوری
1896 - 1982
شاعر
عبدالعزیز فطرت
1905 - 1968
تحسین فراقی
born.1950
مصنف
ناصر نذیر فراق دہلوی
1865 - 1933
ابوالفطرت میر زیدی
1919 - 1983
فیروزہ یاسمین
فراق جلال پوری
انوار فطرت
ثناء اللہ فراق
1753/54 - 1826/31
برکت علی فراق
فطرت انصاری
born.1920
ڈان ڈی سلوا فطرت
1772 - 1845
سید محمد صادق فراقی
1685 - 1731
فیروزہ شاہین
محمد حسین فطرت بھٹکلی
اے خوش خرام پاؤں کے چھالے تو گن ذراتجھ کو کہاں کہاں نہ پھراتا رہا ہوں میں
وہ میرے بالوں میں یوں انگلیاں پھراتا تھاکہ آسماں کے فرشتوں کو پیار آتا تھا
وہ اسی پر پھراتا ہے نشترزخم کا جو نشان باقی ہے
سنے کسی کے نہ درد دل کو وگر سنے تو جھڑک کے اس کویہ صاف کہہ دے تو کیا بلا ہے جو سر پھراتا ہے ناحق آ کر
انساں کو ساری عمر پھراتا ہے در بدردو روٹیوں کا چار نوالوں کا سلسلہ
فراق گورکھپوری کی ان نظموں کو اردو شاعری میں اعلی مقام حاصل ہے ۔ یہاں یہ نظمیں ایک ساتھ لائی گئی ہیں تاکہ قاری کو اردو زبان کا ایک مختلف ذائقہ مل سکے۔
محبت پر یہ شاعری آپ کے لیے ایک سبق کی طرح ہے، آپ اس سے محبت میں جینے کے آداب بھی سیکھیں گے اور ہجر و وصال کو گزارنے کے طریقے بھی۔ یہ پہلا ایسا خوبصورت مجموعہ ہے جس میں محبت کے ہر رنگ، ہر کیفیت اور ہر احساس کو قید کرنے والے اشعار کو اکٹھا کر دیا گیا ہے۔ آپ انہیں پڑھیے اور محبت کرنے والوں کے درمیان شئیر کیجیے۔
فراق گورکھپوری کی پیدائش 1896 میں گورکھپور میں ہوئی ۔ ممتاز ترین قبل از جدید شاعروں میں فراق کا نام اہمیت کا حامل ہے ۔ اپنی شاعری میں ہندوستانی تہذیبی حوالوں اور لفظیات اور تنقیدی تبصروں کے لئے معروف ۔ انھیں گیان پیٹھ ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
फिरताپِھرْتا
ہندی
لوٹا ہوا، واپس، لوٹ کر
चुराताچراتا
چوری کرتا، سرقہ کرتا
फिरानाپِھرانا
پھرنا کا متعدی۔ گشت کرانا، گھمانا، سیر کرانا، چکر دینا جیسے چَکّی پھرانا، ساتھ لئے پھرنا، حیران کرنا، بھٹکانا، پاؤں تڑوانا (نوٹ)
चिराताچِراتا
رک : چرائیتا.
اردو بھاشا اور ساہتیہ
تنقید
گل نغمہ
مجموعہ
اردو غزل گوئی
غزل تنقید
انتخاب فراق گورکھپوری
انتخاب
سر سید اور حالی کا نظریہ فطرت
ڈاکٹر ظفر حسن
اردو کی عشقیہ شاعری
شاعری تنقید
متھلا ان دی نائنٹینتھ سینچری
ہیتوکر جھا
گوپی چند نارنگ
اندازے
اجے مان سنگھ
روپ
رباعی
غزلستان (کلیات فراق)
غزل
علی احمد فاطمی
مرتبہ
فرقہ واریت اور فرقہ وارانہ فسادات
اصغر علی انجینئر
ہندوستان
عزیز نبیل
سر پھراتا ہے کیوں عبث ناصحمیرا کہنے میں دل رہا ہی نہیں
مری تسبیح کے دانے ہیں بھولی صورتوں والےنگاہوں میں پھراتا ہوں عبادت ہوتی جاتی ہے
تمہیں افسوس کیوں ہے عاشقوں کی کوچہ گردی پرپھراتا ہے مقدر یہ خدائی خار پھرتے ہیں
در بدر پھراتا ہےسو جتن سکھاتا ہے
وقت دنیا میں پھراتا ہے دنوں کو کیا کیادیکھ جو کوہ تھے وہ روئی کے گالے ہوئے ہیں
ناصحا مغز کیوں پھراتا ہےچل ترا سا دماغ کس کا ہے
دیر و حرم میں ہم کو پھراتا ہے دیر تکپھر بھی ہمارے ساتھ وہی ہے ادائے شوق
تری طلب میں پھراتا ہے مجھ کو دشت بہ دشتوہ ذوق و شوق جو رہبر ہے کارواں کے لئے
منزل جاناں پہ میں پھرتا پھراتا کل گیابات مطلب کی چلائی تھی کہ جوتا چل گیا
نظر پھراتا ہے شوریدہ سر بہت شبیرؔاٹھا نہ بزم سے اے بت اسے خدا کے لیے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books