aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "phool khilte hain e"
کہیں پر پھول کھلتے ہیں کمال آبیاری ہےکہیں پر بانجھ ہے خطہ عجب دل کی کیاری ہے
پھول کھلتے ہیں تو لگتا ہے ترے ہونٹوں نےمسکراہٹ کو بڑے ناز سے آزاد کیا
پھول کھلتے ہیں تو کانٹوں کو ہنسی آتی ہےایسے کھلنے پہ خزاؤں کو ہنسی آتی ہے
پھول کھلتے ہیں تو آتی ہے صدا رات گئےدل کے آنگن میں برستی ہے گھٹا رات گئے
شراب ڈھلتی ہے شیشے میں پھول کھلتے ہیںچلے بھی آؤ کہ اب دونوں وقت ملتے ہیں
بیسویں صدی کا ابتدائی زمانہ دنیا کے لئے اور بالخصوص بر صغیر کے لئے خاصہ ہنگامہ خیز تھا۔ نئی صدی کی دستک نے نئے افکار و خیالات کے لئے ایک زرخیز زمین تیّار کی اور مغرب کے توسیع پسندانہ عزائم پر قدغن لگانے کا کام کیا۔ اس پس منظر نے اردو شاعری کے موضوعات اور اظہار کےمحاورے یکسر بدل کر رکھ دئے اور اس تبدیلی کی بہترین مثال علامہ اقبالؔ کی شاعری ہے۔ اقبالؔ کی شاعری نے اس زمانے میں نئے افکار اور روشن خیالات کا ایک ایسا حسین مرقع تیار کیا جس میں شاعری کے جملہ لوازمات نے اسلامی کرداروں اور تلمیحات کے ساتھ مل کر ایک جادو کا سا اثر پیدا کیا۔ لوگوں کو بیدار کرنے اور ان کے اندر ولولہ پیدا کرنے کا کارنامہ انجام دیا۔ اقبالؔ کی شاعری نے عالمی ادب کے جیّدوں سے خراج حاصل کیا اور ساتھ ہی ساتھ تنازعات کا محور بھی بنی رہی۔ اقبال بلا شبہ اپنے عہد کے ایسے شاعر تھے جنہیں تکریم و تعظیم حاصل ہوئی اور ان کے بارے میں آج بھی مستقل لکھا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ انھوں نے بچوں کے لئے جو شاعری کی ہے وہ بھی بے مثال ہے۔ان کی کئی نظموں کے مصرعے اپنی سادگی اور شکوہ کے سبب آج بھی زبان زد عام ہیں۔ مثلاً سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا یا لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری کا آج بھی کوئی بدل نہیں۔ یہاں ہم اقبالؔ کے مقبول ترین اشعار میں سے صرف ۲۰ اشعار آپ کی نذر کر رہے ہیں۔ آپ اپنی ترجیحات سے ہمیں آگاہ کر سکتے ہیں تاکہ اس انتخاب کو مزید جامع شکل دی جا سکے۔ ہمیں آپ کے بیش قیمت تاثرات کا انتظار رہے گا۔
پھول کھلتے ہیں
دت بھارتی
ناول
عطیہ پروین بلگرامی
پھول جب کھلتے ہیں
شاہد کلیم
نظم
پھول کھلے ہیں
ڈی ۔ راج کنول
پھول کھلے ہیں گلشن گلشن
عبدالمجید صدیقی
تنقید
زمین عرب گل کھلاتی ہے کیا کیا
اخلاق احمد
پھول گرتے ہیں
اے۔ حمید
کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا
راشد اشرف
كهتی هے تجه كو خلق خدا كیا
اشفاق احمد عمر
تحقیق و تنقید
کہتی ہے تجھ کو خلقِ خدا کیا؟
خاکہ: تاریخ و تنقید
کبھی جو آپ کو دیکھوں تو دل میں پھول کھلتے ہیںکہوں میں آپ سے کیسے مجھے آپ اچھے لگتے ہیں
یہ وہ گلشن ہے جس میں پھول کھلتے ہیں اہنسا کےاسی کی گود نے پر امن انسانوں کو پالا ہے
پھول کھلتے ہیں تالاب میں تارا ہوتاکوئی منظر تو مری آنکھ میں پیارا ہوتا
محبت کرنے والوں کا حسین انجام کیا جانوشگفتہ پھول کھلتے ہیں گل گلزار ہوتا ہے
ان کی یادوں کے پھول کھلتے ہیںموسم خوش گوار ہوتا ہے
جب برستی ہے تری یاد کی رنگین پھوارپھول کھلتے ہیں در مے کدہ وا ہوتا ہے
درد کے پھول بھی کھلتے ہیں بکھر جاتے ہیںزخم کیسے بھی ہوں کچھ روز میں بھر جاتے ہیں
آج بھی زخم ہی کھلتے ہیں سر شاخ نہالنخل خواہش پہ وہی بے ثمری رہنا تھی
پھول کھلتے ہیں تو ہم سوچتے ہیںتیرے آنے کے زمانے آئے
روز یادوں کے پھول کھلتے ہیںمیرے آنگن میں اک صنوبر ہے
لوگ ملتے ہیں پھول کھلتے ہیںاور ہم تم خزاں کے مارے ہیں
پھول کھلتے ہیں ہر برس ان پردفن ہے کون ان مزاروں میں
مرے دل میں ہزاروں پھول کھلتے ہیںمرے کانوں کی شنوائی
اسی مہینے میں زخموں کے پھول کھلتے ہیںہمیشہ موسم برسات کی ہوا سے بچو
پھول کھلتے ہیں تو ہوتی ہے چمن میں خوشبودل میں ہوتا ہے چراغاں تو غزل ہوتی ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books