aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "qaa.ede"
قائد ملت اکادمی، حیدرآباد
ناشر
قائد اعظم اکادمی، کراچی
قائد اعظم لائبریری، لاہور
قائد اعظم سوسائٹی، لاہور
سید شجاع احمد قائد
1919 - 1968
مصنف
وہ صلیبوں کے قریب آئے تو ہم کوقاعدے قانون سمجھانے لگے ہیں
ہاں جو جفا بھی آپ نے کی قاعدے سے کیہاں ہم ہی کاربند اصول وفا نہ تھے
جو میں نے سوچ کا بدلا ہے زاویہ نایابؔہر ایک چیز نظر قاعدے سے آئی ہے
قاعدے بازار کے اس بار الٹے ہو گئےآپ تو آئے نہیں پر پھول مہنگے ہو گئے
فتنے بھی قاعدے سے اٹھتے ہیں جب اٹھتے ہیںکیا سلیقہ ہے تمہیں انجمن آرائی کا
क़ा'एदे قاعِدے
قاعدہ (رک) کی جمع یا مغّیرہ حالت ؛ تراکیب میں مستعمل .
खड़े کَھڑے
کھڑا کی جمع نیز مغیّرہ حالت، ترکیب میں مستعمل
कड़े کَڑے
سخت شدید (کڑا (رک) کی جمع نیز مغیّرہ حالت ؛ تراکیب میں مستعمل).
कपड़े کَپْڑے
کپڑا (رک) کی جمع ؛ مرکبات میں مستعمل.
قائد انقلاب علامہ فضل حق خیرآبادی
یسین اختر مصباحی
پاکستان میں اردو کے سرکاری قاعدے
ڈاکٹر ممتاز منگلوری
قائد اعظم اور آزادی کی تحریک
جیلانی کامران
اقبال اور قائد ملت بہادر یار جنگ: شمارہ نمبر۔001
اقبال ریویو، حیدرآباد
سوانح حیات قائد ملت
محمد وجاہت علی خان
قائد ملت کی تین اہم تقاریر
محمد علی خان مجددی
ہندوستانی قاعدہ
قاری محمد یعقوب
زبان و ادب
قائد اعظم محمد علی جناح
ڈاکٹر انصار زاہد
سیاسی تحریکیں
قائد اعظم محمد علی جناح سیاسی وتجزیاتی مطالعہ
محمد سلیم
خود نوشت
کلید مثنوی کلید مثنوی شرح مثنوی معنوی دفتر اول
مولانا جلال الدین رومی
مثنوی
کلید معرفت
عبدالقادر
تصوف
قید فرنگ
حسرتؔ موہانی
سوانح حیات
اردو قاعدہ
ہارون ایوب
کلید عروض
اوم پرکاش اگروال زار علامی
علامہ اقبال قائد اعظم اور نظریۂ پاکستان
اسرار احمد
تحقیق
جستجو قاعدے کی ہو ورنہدر بدر خاک چھان لیں گے آپ
چور سے رات کھڑے رہتے ہیں اس در سے لگےپر جو مطلوب ہے وہ جنس چرا سکتے نہیں
قاعدے سے کب جیا ہے زندگی میں نے تجھےمیں ترا مجرم ہوں میرے جرم تو سنگین ہیں
یہی تو دکھ ہے برائی بھی قاعدے سے نہ کینہ میں شریف رہا اور نہ بد معاش ہوا
جن کو تہذیب عشق تک نہیں وہعشق میں قاعدے بناتے ہیں
کل رات کچھ عجیب سماں غم کدے میں تھامیں جس کو ڈھونڈھتا تھا مرے آئنے میں تھا
بہ نام زندگی کچھ قاعدے رکھے ہوئے ہیںنظر نے اپنے اپنے زاویے رکھے ہوئے ہیں
اجازت میں نہیں دوں گا مرا دل توڑ جانے کیمرے دل سے جو نکلے قاعدے قانون سے نکلے
اب خداؤں کی کیا ضرورت ہےآئنہ بت کدے میں رکھا ہے
اول تو قاعدے سے وہاں ہم ہی آتے دوستاس نے مگر نکال دیا امتحان سے
کچھ ایسے قاعدے ہیں کہ بدل نہیں جن کاتو نیلے آسماں کو ایک لمحہ زرد سمجھ
کفر و دیں کے قاعدے دونوں ادا ہو جائیں گےذبح وہ کافر کرے منہ سے کہیں تکبیر ہم
ہر ایک عشق کے کب قاعدے سے محرم ہےہنوز شیخ الف لام سے نہیں واقف
ہم وہ ہیں جن کی روایات سلف کے آگےچڑھتے سورج تھے نگوں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books