aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "raaz-daar"
رام داس
شاعر
سکھرام داس
مصنف
رام داس بیجل
بخشی رام داس
پنڈت چاند نرائن راز مونس
رضا دارالاشاعت، رام نگر
ناشر
کیشورام دت اینڈ سنز بکسیلر دہلی
ڈاکٹر کاشی رام
انبا داس راو
مدیر
رائے ٹھاکر دت
سید رضا حیدر
died.2021
حسن رضا
رضا محمود
ابنا داس راؤ
رام سرن داس
ہمیں بھی آ ہی گیا رازؔ در بدر پھرناہمیں بھی لگ گئی آخر ہوائے شہر عشق
راز کی باتیں کہیں عام نہ کر دے کوئیاب تو گھر کے در و دیوار سے ڈر لگتا ہے
بس یہی سوچ کر ڈر رہا ہوں میں رازؔکیوں عزیزوں کی ہمدردیاں بڑھ گئیں
انجمن در انجمن تفریق خاص و عام ہےہے کوئی جو راز کہہ دے برملا میری طرح
در خزینۂ صد راز کھولتا ہے کوئینہ جانے کون ہے وہ مجھ میں بولتا ہے کوئی
رات کا استعارہ شاعری میں معنیاتی لحاظ سے بہت متنوع اور پھیلا ہوا ہے ۔ رات اپنی سیاہی اور تاریکی کے حوالے سے زندگی کی منفی صورتوں کی علامت کے طور پر بھی برتی گئی ہے ساتھ ہی روشنی کی چکا چوند اور اس کی اذیت کے مقابلے میں سکون اور تنہائی کے استعارے کے طور پر بھی ۔ رات کے اس متضاد اور دلچسپ شعری بیانیے کو پڑھئے ۔
राह-दार راہ دار
فارسی
راستے کا محافظ، پاسبانِ راہ، وہ شخص، جو سڑکوں کی دیکھ بھال کا ذمّہ دار ہو
दय्यार-ए-नाज़ دَیّار ناز
दयार-ए-नाज़ دَیار ناز
محبوب کا گھر، خانۂ معشوق
साज़-दार ساز دار
صدری کے اُوپر فیتہ یا گھنڈی لگی ہونا.
راز دار معشوقہ
نامعلوم مصنف
ناول
راز در راز
راز القادری بدایونی
رابندرناتھ ٹیگور
افسانہ / کہانی
آئینہ تفتیش
ایکادشی مہاتم
ہندو ازم
اقبال درراہ مولوی
سید محمد اکرام
تنقید
اردو کی دوسری کتاب
نصابی کتاب
در آئینہ
رفیع الدین راز
مجموعہ
وا نہیں ہے کوئی در
اصغر راز فاطمی
حمد
پھیلاوت
تنقیدی مرحلے
ڈاکٹرحسن رضا
مہاتما تلسی داس
پنڈت رام چندر راؤ
صحت و اخلاق
کوی راج ہرنام داس
شرر کے مقالے
میرا مالک رام
دوارکا داس شعلہ
دو چار تو محفل میں طرف دار ملیں گےاے رازؔ کھری بات سنا کیوں نہیں دیتے
وہ سمجھتا ہے اسے جو راز دار نغمہ ہےآہ کہتے ہیں جسے صرف اک شرار نغمہ ہے
جو راہ حق میں مرنے کے لیے تیار ہو جائےنظر میں اس کی بازیچہ فراز دار ہو جائے
راز در پردۂ دستار و قبا جانتی ہےکون کس بھیس میں ہے خلق خدا جانتی ہے
لبوں کو تم نے تو مسعودؔ سی لیا تھا مگرتبسم نگہ راز دار میں کیا تھا
وہ راز دار محفل یاراں نہیں رہاوہ غم گسار بزم عریفاں چلا گیا
کیوں نہ روئے نہ کس طرح سے جلےکہ فغانی راز دار ہے شمع
ڈرتے نہ تھے درازیٔ شام فراق سےہم راز دار سلسلۂ زلف یار تھے
منکشف تھے ہم پہ اسرار جمالراز دار جلوۂ جاناں تھے ہم
میں بڑے بلند شجر کا پھلبڑے فاصلے کا شکار غمزۂ راز دار
درد دل نے راز دار ہر دو عالم کر دیاخاک کو یہ فکر ہے اب اور کیا ہو جائیے
ہم اپنے راز پہ نازاں تھے شرمسار نہ تھےہر ایک سے سخن راز دار کرتے رہے
چراغ بزم ہیں ہم راز دار صحبت بزمبجھا دیے گئے ہیں یا جلا دیے گئے ہیں
خامشی کب تک رہے گی راز دار حرف شوقکہہ سکیں گے داستاں کب تک زبان دل سے ہم
راز دار گل و نسریں تو ہزاروں تھے مگرکوئی سمجھا ہی نہیں برگ پریشاں کی زباں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books