aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "rafii.a"
رفیعہ شبنم عابدی
born.1943
شاعر
محمد رفیع سودا
1713 - 1781
رافعہ زینب
born.1995
اشرف رفیع
born.1940
راہی معصوم رضا
1927 - 1992
مصنف
دواکر راہی
1914 - 1968
محمد رفیع
سعید راہی
عادل راہی
born.1993
احمد راہی
1923 - 2002
افتخار راغب
born.1973
غلام مرتضی راہی
born.1937
رفیع رضا
born.1962
رفیق سندیلوی
born.1961
جمنا پرشاد راہیؔ
خود کشی قتل انا ترک تمنا بیراگزندگی تیرے نظر آنے لگے حل کتنے
بھول جاتے ہیں تقدس کے حسیں پل کتنےلوگ جذبات میں ہو جاتے ہیں پاگل کتنے
خود فریبی ہے دغا بازی ہے عیاری ہےآج کے دور میں جینا بھی اداکاری ہے
کوئی اتنا بے سہارا کیسے ہو سکتا ہے یارایک منظر پر گزارا کیسے ہو سکتا ہے یار
ایک اک کر کے سبھی لوگ بچھڑ جاتے ہیںدل کے جنگل یوں ہی بستے ہیں اجڑ جاتے ہیں
زمانے بیت گئے مگر محمد رفیع آج بھی اپنی آواز کی ساحری کے زور پر ہرکسی کے دل پر اپنی حکومت جمائے ہوئے ہیں ، ان کے گائے ہوئے بھجن ، اورنغموں کی گونج آج بھی سنائی دیتی ہے۔ آج ہم آپ کے لئے کچھ مشہورو معروف شاعروں کی ایسی غزلیں لے کر حاضر ہوئے ہیں جنہیں محمد رفیع نے اپنی آواز دی ہے اور ان غزلوں کے حسن میں لہجے اور آواز کا ایسا جادو پھونکا ہے کہ آدمی سنتا رہے اور سر دھنتا رہے ۔
رفتار شاعری
राफ़ि'आرافِعَہ
(معماری) زینے کی سیڑھی کی اُونچائی، زینے کی دو سیڑھیوں کے درمیان کا کھڑا تختہ
रफ़ी'अرَفِیعَہ
رفیع (رک) کی تانیت.
रफ़्ताرَفْتَہ
فارسی
گیا ہوا، جو جا چکا ہو
रफ़'आرفعہ
عربی
vowel sound ('u' as in put), denoted by the diacritical symbol pesh (ُ) on a letter in Urdu and related languages
اردو نثر کا آغاز اور ارتقاء
رفیعہ سلطانہ
تنقید
اردو ادب کی ترقی میں خواتین کا حصہ
ملا وجہی اور انشائیہ
سوانح حیات
انمول کہانیاں
افسانہ
ہندوستان میں شیعیت اور عزاداری
تاریخ اسلام
موسم بھیگی آنکھوں کا
شاعری
سائنسی زاوئے
رفیعہ منظور الامین
سائنس
اگلی رت کے آنے تک
دود چراغ محفل
ڈرامہ
مجذوب شیرازی
مقالات/مضامین
کوئی بات اُٹھا نہ رکھنا
رفیعہ نوشین
خواتین کی تحریریں
کرشن چندر، ممبئی اور اردو کہانی
افسانہ تنقید
اردو شاعری میں تذکرۂ فاطمۃ الزہرا
فن اور فنکار
سائنسی زاویئے
رفیعؔ اور اقبالؔ کی سرزمیں پرغزل خواں ہیں اہل زباں کیسے کیسے
اب کہاں وہ وقت کے بے لوث یاری چاہیئےعمر کے اس دور میں اب ذمہ داری چاہیئے
تیری ہر بات کے انداز نرالے ہیں رفیعؔتجھ سے وابستہ ہر اک راز سے ڈر لگتا ہے
کس سلیقے سے خیالوں کو زباں دے دے کرمجھ کو اس شخص نے باتوں میں لگائے رکھا
آپ ملیے رفیعؔ سے اک دنپھر یہ دیکھیں کہ دوستی کیا ہے
تیری غزلوں کے سب نقوش رفیعؔہو بہو اس صدی سے ملتے ہیں
مئی کا آگ لگاتا ہوا مہینہ تھاگھٹا نے مجھ سے مرا آفتاب چھینا تھا
یہ کون بلا رہا ہے ''ہم ہیں اے جوش''آزادؔ شررؔ رفیعؔ شاعرؔ ابرارؔ
پردے مری نگاہ کے بھی درمیاں نہ تھےکیا کہیے ان کے جلوے کہاں تھے کہاں نہ تھے
ابر چھایا تھا فضاؤں میں تری باتوں کاکتنا دل کش تھا وہ منظر بھری برساتوں کا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books