aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "rahmaan"
نشور واحدی
1912 - 1983
شاعر
رحمان فارس
born.1976
خلیل الرحمن اعظمی
1927 - 1978
شمس الرحمن فاروقی
1935 - 2020
مصنف
عامر عثمانی
1920 - 1975
حفیظ میرٹھی
1922 - 2000
صبا افغانی
1922 - 1986
عبدالرحمان احسان دہلوی
1768 - 1851
محسنؔ بھوپالی
1932 - 2007
عزیز نبیل
فہیم جوگاپوری
عرش صدیقی
1927 - 1997
عبید الرحمان
1961 - 2014
سہیل عظیم آبادی
1911 - 1979
شفیق الرحمان
1920 - 2000
یوں تو مرنے کے لیے زہر سبھی پیتے ہیںزندگی تیرے لیے زہر پیا ہے میں نے
بیٹھے ہیں چین سے کہیں جانا تو ہے نہیںہم بے گھروں کا کوئی ٹھکانا تو ہے نہیں
کہانی ختم ہوئی اور ایسی ختم ہوئیکہ لوگ رونے لگے تالیاں بجاتے ہوئے
نہ جانے کس کی ہمیں عمر بھر تلاش رہیجسے قریب سے دیکھا وہ دوسرا نکلا
وقت کی گردشوں کا غم نہ کروحوصلے مشکلوں میں پلتے ہیں
سفر میں رہبر کا کردار ہمیشہ مشکوک رہا ہے ۔ قافلے کے لٹنے کے پیچھے رہبر کی دغابازیاں تصور کی گئی ہیں ۔ شاعروں نے اس مضمون کو ایک وسیع تر استعاراتی سطح پر برتا ہے اور نئے نئے پہلو تلاش کئے ہیں ۔ یہ شاعری نئی حیرتوں کے ساتھ نئے حوصلے پیدا کرتی ہے ۔ ایک انتخاب حاضر ہے ۔
राहाँ راہاں
سرسوں کے دانے ، لاہا
रहमान رَحْمان
रहमान رَحْمٰن
بندوں پر دنیا و آخرت میں رحم کرنے والا، خدا تعالیٰ کا اسم صفت
عربی
रहमत رَحْمَت
اللہ تعالیٰ کی طرف سے دین و دُنیا میں ہر قسم کی بخشش اور سلامتی، درود و سلام، رحم، نرم دلی، مہربانی، کرم شفقت، عنایت، شاباش، آفرین، مرحبا، کلمۂ تحسین و آفرین
شعر شور انگیز
شرح
مخزن تصوف
عبدالرحمٰن حیا
سماع اور دیگر اصطلاحات
لغات روز مرہ
لغات و فرہنگ
اردو ہندی ڈکشنری
ضیاء الرحمن صدیقی
عروض آہنگ اور بیان
علم عروض / عروض
میر کی کویتا اور بھارتیہ سندریہ بود
شاعری تنقید
آئینہ اورنگ زیب
سید ظل الرحمٰن
ہندوستانی تاریخ
اردو کی نئی کتاب
افسانے کی حمایت میں
افسانہ تنقید
تنقیدی افکار
تنقید
اردو ادب کی تاریخ
تاریخ
ہاؤ ٹو ریڈ اقبال؟
اقبالیات تنقید
انداز گفتگو کیا ہے
اردو میں ترقی پسند ادبی تحریک
ادبی تحریکیں
بھلا ہوا کہ کوئی اور مل گیا تم ساوگرنہ ہم بھی کسی دن تمہیں بھلا دیتے
صدائیں دیتے ہوئے اور خاک اڑاتے ہوئےمیں اپنے آپ سے گزرا ہوں تجھ تک آتے ہوئے
جانے کیوں اک خیال سا آیامیں نہ ہوں گا تو کیا کمی ہوگی
کس سے امید کریں کوئی علاج دل کیچارہ گر بھی تو بہت درد کا مارا نکلا
نظر میں دور تلک رہ گزر ضروری ہےکسی بھی سمت ہو لیکن سفر ضروری ہے
نماز اپنی اگرچہ کبھی قضا نہ ہوئیادا کسی کی جو دیکھی تو پھر ادا نہ ہوئی
بنے بنائے سے رستوں کا سلسلہ نکلانیا سفر بھی بہت ہی گریز پا نکلا
جہاں تھے مومنؔ غالبؔ میرؔجہاں تھے رحمنؔ اور رسخانؔ
خاک اڑتی ہے رات بھر مجھ میںکون پھرتا ہے در بدر مجھ میں
رحمان کی رحمت ہو کہ بھگوان کی مورتہر کھیل کا میدان یہاں بھی ہے وہاں بھی
نکالے گئے اس کے معنی ہزارعجب چیز تھی اک مری خامشی
سامنے ماں کے جو ہوتا ہوں تو اللہ اللہمجھ کو محسوس یہ ہوتا ہے کہ بچہ ہوں ابھی
شجر نے پوچھا کہ تجھ میں یہ کس کی خوشبو ہےہوائے شام الم نے کہا اداسی کی
جاتے جاتے دیا اس طرح دلاسا اس نےبیچ دریا میں کوئی جیسے کنارہ نکلا
تری وفا میں ملی آرزوئے موت مجھےجو موت مل گئی ہوتی تو کوئی بات بھی تھی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books