aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "ranjish"
راجیش ریڈی
born.1952
شاعر
روش صدیقی
1909 - 1971
راز دہلوی
born.1983
شمیم روش
born.1956
روش ندیم
رحیم رامش
مصنف
گرو رجنیش اوشو
زین رامش
born.1963
راجیش کمار اوج
رجنیش سچن
یوسف روش
نجیب رامش
رنجیت چوہان
فن کار
راجیش گوہر
رجنیش کمار
مدیر
رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آآ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ
مہربانی کو محبت نہیں کہتے اے دوستآہ اب مجھ سے تری رنجش بے جا بھی نہیں
مرے طائر نفس کو نہیں باغباں سے رنجشملے گھر میں آب و دانہ تو یہ دام تک نہ پہنچے
ہم نے رنجش میں یہ نہیں سوچاکچھ سخن تو زباں کے تھے ہی نہیں
रंजिश رَنْجِش
کشیدگی، خفگی، آزردگی، ناخوشی، کدورت
فارسی
रंजिश करना رَنْجِش کَرنا
آزردہ کرنا، رنج پہنچانا
रंजिश होना رَنجِش ہونا
غمگین ہونا، آزردہ ہونا، رنجور ہونا، رنجیدہ ہونا
रंजिश-ए-बेजा رَنجِش بیجا
بلاوجہ کی کشیدگی، خفگی، شکررنجی
رنجش
محمد علیم اسماعیل
افسانہ
ادھورا آسماں
ونود آسودانی
غزل
تعلیمات
اخلاقیات
وجود
مجموعہ
مغرب کی منافقت
عالمی
مہاراجہ رنجیت سنگھ والئ پنجاب
ہندوستانی تاریخ
رولرز آف انڈیا
روش علاج باالادویہ
بشیرالدین عصری
طب
افسون تکلم
انتخاب
رامش و رنگ
جوش ملیح آبادی
رنجیت سنگھ
ڈی۔ آر۔ سود
طالب بنارسی : حیات اور کارنامے
راجیش مشرا
تحقیق
رو بہ رو
راجیش آنند اسیر
حالات زندگی اور تنقیدی و تاثراتی مضامین
مضامین
تشو پیپر لکھی نظمیں
نظم
باہمی ربط میں رنجش بھی مزا دیتی ہےبس محبت ہی محبت ہو ضروری تو نہیں
ہر چند کہ ہر روز کی رنجش ہے قیامتہم کوئی دن اس کو بھی مگر دیکھ رہے ہیں
ہم سے عبث ہے گمان رنجش خاطرخاک میں عشاق کی غبار نہیں ہے
پردۂ آزردگی میں تھی وہ جان التفاتجس ادا کو رنجش بے جا سمجھ بیٹھے تھے ہم
کسی رنجش کو ہوا دو کہ میں زندہ ہوں ابھیمجھ کو احساس دلا دو کہ میں زندہ ہوں ابھی
نہیں ایسا بھی کہ اک عمر کی قربت کے نشےایک دو روز کی رنجش سے ٹھکانے لگ جائیں
تیری رنجش کی انتہا معلومحسرتوں کا مری شمار نہیں
کس نے کہا تھا ٹوٹی ہوئی ناؤ میں چلودریا کے ساتھ آپ کی رنجش فضول ہے
ہمیں رنجش نہیں دریا سے کوئیسلامت گر رہے صحرا ہمارا
آپ کی رنجش بے جا ہی بہت ہے مجھ کودل پہ ہر تازہ مصیبت نہیں دیکھی جاتی
اس سے کہنا کہ کبھی آ کے ملےہم سے رنجش کا سبب جو بھی ہو
میں بولوں تو چپ ہوتے ہیں اب آپ جبھی تکیہ رنجش بے جا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
ہمیں قرینۂ رنجش کہاں میسر ہےہم اپنے بس میں جو ہوتے ترا گلا کرتے
اس نے سونپا نہیں مجھ کو مرے حصے کا وجوداس کی کوشش ہے کہ مجھ سے مری رنجش بھی رہے
اب میں ہوں اور لطف و کرم کے تکلفاتیہ کیوں حجاب رنجش بے جا بنا دیا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books