aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "rekht"
ریختہ
عطیہ کار
شمع بھلیسی
born.1972
شاعر
ریکھا راج ونشی
ریختہ کتابیں
ناشر
ریکھا
مصنف
Rekhta
شکیل احمد
born.1987
ریکھا سوریا
فن کار
ریکھا بھاردواج
born.1997
میں یہ جانتا تھا مرا ہنر ہے شکست و ریخت سے معتبرجہاں لوگ سنگ بدست تھے وہیں میری شیشہ گری رہی
شکست و ریخت سے مجھ کو گزارتا ہے وہیاسی کے چہرے پہ گرد ملال دیکھتا ہوں
شکست و ریخت بدن کی اب اپنے بس میں نہیںاسے بتاؤں کہ وہ رمز آشنا تھا بہت
تذکرہ لکھتے ہو کیا میری شکست و ریخت کالفظ کی بستی میں معنی کو کھنڈر کرتے ہو کیوں
شکست و ریخت زمانے کی خوب ہے مخدومؔخودی تو ٹوٹی تھی خوئے بتاں بھی ٹوٹی ہے
کچھ اچھی اور معتبر خواتین کی خود نوشتوں کی ایک منتخب فہرست یہاں پیش کی جارہی ہے
ریختہ نے اپنے قارئین کے تجربے سے ایسے قدیم و جدید شاعروں کی کتابوں کا انتخاب کیا ہے جن کو سب سے زیادہ پڑھا گیا جاتا ہے، آپ بھی اس تجربے میں شریک ہوسکتے ہیں۔
روسی ادب کے اردو تراجم یہاں پڑھیں، اس صفحہ پر چنندہ روسی تراجم دستیاب ہیں، جنہیں ریختہ نے اپنے ای بک قارئین کے لیے منتخب کیا ہے۔
रेख़्ताریخْتَہ
فارسی
اردو زبان کا ابتدائی نام، اردو زبان جو مختلف زبانوں کا مرکب ہے
रेख़्तریخت
سنسکرت, فارسی
۱. ٹوٹ پُھوٹ ، قلع قمع ، ردّوبدل (شکست کے ساتھ مُستعمل).
रेख़्तेریخْتے
ریختہ کی جمع
रेखाریکھا
سنسکرت
ہتھیلیوں پر بنی ہوئی قدرتی لکیریں جنھیں دست شناس قسمت کی لکیریں کہتے ہیں
ریخت
طاہرہ اقبال
افسانہ
نگوڑیات
ساجد سجنی لکھنوی
ریختی
قاعدۂ ہندی ریختہ
جان گل کرسٹ
لسانیات
دیوان ہاشمی
ہاشمی بیجاپوری
دیوان
ریختہ ولی
ولی دکنی
انتخاب
لکشمن ریکھا
منظر کاظمی
کلیات ریختی
ایاز احمد
رخت سفر
محمد انور حارث
تذکرۂ ریختہ گویاں
سید فتح علی حسینی گردیزی
تذکرہ
داستان ریختہ
خواجہ عبدالمجید
خطبات
دکن میں ریختی کا ارتقا
بدیع حسینی
ریختی تنقید
مضامین ریختی
ریختۂ غالب
نور الحسن ہاشمی
مٹھی بھر چاندنی
مجموعہ
لکشمن ریکھا کے پار
قاضی مشتاق احمد
قصہ / داستان
دل کی شکست و ریخت کی میرے تو لے خبرہر گھر کی دیر پائی کو تعمیر شرط ہے
مقدر میں مرے ساگرؔ شکست و ریخت اتنی ہےمیں جس کو اپنا کہہ دوں وہ ستارا ٹوٹ جاتا ہے
اب کے شکست و ریخت کا کچھ اور ہے سبباب کے یہ زخم تیری جفا نے نہیں دیا
کتنی شکست و ریخت ہوئی کچھ نہیں پتامجھ کو ملا نہیں ابھی قبضہ وجود کا
شکست و ریخت کا منظر مری آنکھوں میں رہنے دومجھے اپنے ہی خوابوں کی ابھی قیمت چکانی ہے
مجھے تو دل نے عجب وسوسوں میں ڈال دیاشکست و ریخت کسی طرز کا کلام نہ ہو
شکست و ریخت کیسی فتح کیسیکہ جب کوئی مقابل ہی نہیں تھا
شکست و ریخت سے ملتی ہے زندگی کو نمودمرے وجود کا عنصر ترے کمال میں ہے
شکست و ریخت کے با وصف ہم کھڑے ہیں ابھیفصیل شہر کے دیرینہ بام و در کی طرح
ان کا اچانک ترک تعلقمری شکست و ریخت کا ساماں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books