aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "ruKHsat-e-raftan"
پاس ناموس نے پھر رخصت رفتن چاہیشہرت حسن وہی الفت رسوا ہے وہی
شراب پی چکے بے چارہ کو اجازت دوکھڑا ہے دیر سے رخصت کو اے نگار لحاظ
کیسے کیسے لوگ آئے اور رخصت ہو گئےاے شکیلؔ اچھا نہیں اس درجہ اترانا ترا
اتنی فرصت دے کہ رخصت ہو لیں اے صیاد ہممدتوں اس باغ کے سایہ میں تھے آزاد ہم
گوشہ گیری میں حرص افزوں ہوصبح شبنم کو فکر رفتن ہے
وہ بے وفا نہ آیا بالیں پہ وقت رفتنسو بار ہم نے دیکھا سر کو اٹھا اٹھا کر
عشق ان کو ہے جو یار کو اپنے دم رفتنکرتے نہیں غیرت سے خدا کے بھی حوالے
بہار آئی ہے اب تو اے جنوں ہو سلسلہ جنباںکہ ہم مدت سے قصد رفتن ویرانہ رکھتے ہیں
پھول مرجھائے ہوئے نبض چمن افسردہرخصت فصل بہاراں ہے غزل کیا کہیے
دیکھ اے اہل نظر سبزۂ خط میں لب لعلرنگ یاقوت چھپا ہے خط ریحاں میں آ
گرم رفتن ہے کیا سمند عمرنہ لگے جس کو باؤ کا گھوڑا
للہ اے ہجوم تمنا ذرا ٹھہریہ وقت رخصت نفس جاں گداز ہے
رخصت جنبش لب عشق کی حیرت سے نہیںمدتیں گزریں کہ ہم چپ ہی رہا کرتے ہیں
رخصت عرض تمنا نہیں ملتی نہ ملےقصۂ شوق نگاہوں سے سنانا ہے ہمیں
تھا زمانے میں ایک رنگیں طبعرخصت موسم بہار ہے آج
رنج و غم آئے بیشتر درپیشراہ رفتن ہے اب مگر درپیش
جب کرم رخصت بیباکی و گستاخی دےکوئی تقصیر بجز خجلت تقصیر نہیں
مستی میں آج توڑیں گے کوزے شراب کےتوبہ کے ساتھ رخصت ماہ تمام ہے
آہ نہیں رخصت افشائے رازقصہ تو معلوم ہے سارا مجھے
ہیں یاد ہائے رفتہ کے دیوار و در کہاںوہ سنگ آستاں کہاں وہ رہ گزر کہاں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books