aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "rukhsat"
رخسار ناظم آبادی
born.1959
شاعر
رخسانہ امروہوی
born.1951
رخسانہ نور
رخسانہ نکہت لاری ام ہانی
born.1953
مصنف
رخسانہ صبا
رخسانہ جبیں
born.1955
پروین رخسانہ
ڈاکٹر رخسانہ بیگم
ڈاکٹر رخسانہ عالم
رخسانہ نگار عدنانی
رخسانہ نازنین
رخسانہ صدیقی
رخسانہ سلطانہ
مدیر
رخسانہ سہام مرزا
رکسن پبلیکیشن، پونے
ناشر
حال دل ہم بھی سناتے لیکنجب وہ رخصت ہوا تب یاد آیا
ہم تو رخصت ہوئے اوروں نے سنبھالی دنیاپھر نہ کہنا ہوئی توحید سے خالی دنیا
ہاتھ ہلا کر رخصت ہوگااس کی صورت ہجر کا چاند
اب کے مایوس ہوا یاروں کو رخصت کر کےجا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے
منتظر ہیں دم رخصت کہ یہ مر جائے تو جائیںپھر یہ احسان کہ ہم چھوڑ کے جاتے بھی نہیں
شاعری میں محبوب کے جسمانی اعضا کے بیان والا حصہ بہت دلچسپ اور رومان پرور ہے ۔ یہاں آپ محبوب کے رخسار کا بیان پڑھ کر خود اپنے بدن میں ایک جھرجھری سی محسوس کرنے لگیں گے ۔ ہم یہاں نئی پرانی شاعری سے رخسار کو موضوع بنانے والے کچھ اچھے شعروں کا انتخاب آپ کے لئے پیش کر رہے ہیں ۔
रुख़्सतرُخْصَت
عربی
چُھٹّی
रुख़्सारرُخْسار
فارسی
گال، کلّا، عذار
रुख़्सतीرُخْصَتی
روانگی، دُلہن کی رُخصتی، وداع، سلامی
रुख़ाرُخا
بطور لاحقہ مستعمل ، دو رُخا ، چار رُخا.
دستور العمل رخصت
نامعلوم مصنف
جدید دستور العمل رخصت
مولوی محمد رحمت اللہ
میری رخصت
سی سری کرشن
عام قواعد رخصت
قواعد رخصت ملازمان ریاست رامپور
مجموعہ احکام رخصت فوج بے قاعدہ سرکار عالی
محمد نوازالدین
ڈائری
رہنمائے رخصت
سید غلام احمد صمدانی
قواعد رخصت ملازمین علاقہ سیول
دفتر صدر محاسب سرکار عالی
فرہنگ کلیات اقبال
لغات و فرہنگ
طمانچہ برخسار یزید
خواجہ حسن نظامی
تاریخی
اردو ترجمہ رقعات حضرت اورنگ زیب عالمگیر
سلطان اورنگ زیب عالمیر
خط
رقعات اکبر
اکبر الہ آبادی
خطوط
رقعات عالمگیر
مقالات/مضامین
رخصتی نامہ
لئیق احمد نعمانی
نظم
رقعات مرشدی
محمد فخرالدین فخر جہاں
کچھ تو دے اے فلک ناانصافآہ و فریاد کی رخصت ہی سہی
اس کو رخصت تو کیا تھا مجھے معلوم نہ تھاسارا گھر لے گیا گھر چھوڑ کے جانے والا
بدن بیٹھا ہے کب سے کاسۂ امید کی صورتسو دے کر وصل کی خیرات رخصت کیوں نہیں کرتے
وہ یاد اب ہو رہی ہے دل سے رخصتمیاں پیاروں کی پیاری جا رہی ہے
رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیاوہ کیوں گیا ہے یہ بھی بتا کر نہیں گیا
اب تم کبھی نہ آؤ گے یعنی کبھی کبھیرخصت کرو مجھے کوئی وعدہ کیے بغیر
دل سے رخصت ہوئی کوئی خواہشگریہ کچھ بے سبب نہیں آتا
وہ دوپہر اپنی رخصت کی ایسا ویسا دھوکا تھیاپنے اندر اپنی لاش اٹھائے میں جھوٹا زندہ تھا
عجیب ہوتے ہیں آداب رخصت محفلکہ وہ بھی اٹھ کے گیا جس کا گھر نہ تھا کوئی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books