aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "sadaa-e-kos-e-rehlat"
ادرہ ماہنامہ صدائے جعفریہ، حیدرآباد
ناشر
مکتبہ صدائے اردو، بھوپال
انتشارات صدا وسیمائی، جمہوری اسلامی ایران
صدائے ہند پریس، لاہور
مطبع صدائے عالم، رائے بریلی
مصنف
ایم اے راحت
1941 - 2017
صدر عالم ندوی
مدیر
صدر عالم صاحب
صدر عالم گوہر
born.1961
خواجہ امیر حسن سجزی دہلوی
1242 - 1325
صدر محکمہ معتمدی
صدر انجمن اسلامیہ، حیدرآباد
انجمن سادات امروہا، دہلی
انجمن سادات امروہہ، پاکستان
ایس اے رحمٰن
کاروان زندگی کا لگ رہا ہے چل چلاؤہر نفس ہم کو صدائے کوس رحلت ہو تو ہو
کارواں عمر کا ہے رخت بدوشہر نفس بانگ کوس رحلت ہے
بے صدا قریۂ احساس ہواانگلیاں اب نہ یہاں کان میں رکھ
میں ستاروں کو کبھی کا چھو چکا ہوتا صداؔآئی آڑے راستے میں بسکہ خودداری مری
نالۂ دل ہے جس کو تو سمجھے صدائے سازکب درد نو کو سمجھا تو اے نے نواز ہے
اپنے غیر روایتی خیالات کے لئے معروف پاکستانی شاعرہ ۔ کم عمری میں خود کشی کی۔
اس انتخاب میں سارہ شگفتہ کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی پانچ نظموں کو شامل کیا گیا ہے، جن میں زندگی کی ناہمواریاں، انسانی نفسیات اور مختلف النوع جذبات و احساسات انفرادیت سے اجتماعیت میں ڈھلتے نظر آتے ہیں اور جو ہر پڑھنے والے کے ذہن پر اپنا نقش چھوڑ جاتے ہیں
بوسہ پر شاعری عاشق کی بوسے کی طلب کی کیفیتوں کا بیانیہ ہے ، ساتھ ہی اس میں معشوق کے انکار کی مزے دار صورتیں بھی شامل ہو جاتی ہیں ۔ یہ طلب اور انکار کا ایک جھگڑا ہے جسے شاعروں کے تخیل نے بےحد رنگین اور دلچسپ بنادیا ہے ۔ اس مضمون میں شوخی ، مزاح ، حسرت اور غصے کی ملی جلی کیفیتوں نے ایک اور ہی فضا پیدا کی ہے ۔ ہمارا یہ چھوٹا سا انتخاب پڑھئے اور ان کیفیتوں کو محسوس کیجئے۔
صدائے اعظم
عبد الودود قاسمی
کشمیریت صدائے حقیقت
مکھن لال کول
صدائے العطش
ارمان شیام نگری
صدائے خاتون
نظم
صدائے خندۂ دل
مجیب احمد خاں
صدائے باز گشت
افسانہ
صدائے حق
عبدالحمید نعمانی
صدائے مشترک
عاصی رامپوری
صدائے صحر
محمد اسعد گیاوی
صدائے جموں و کشمیر
بھیم سنگھ
صدائے برگ گل
شبنم غازی پوری
شاعری
صدائے بازگشت
صدا انبالوی
انتخاب
صدائے ضمیر
خواجہ ضمیر
مجموعہ
صدائے شکست دل
نثار جیراجپوری
جاتے جاتے ہے یہ ملال صداؔآ کے دنیا میں کیا کیا ہم نے
رنگیں ادائے دہر کی گردن مروڑ دوناسور زندگی ہے تو زخموں کو پھوڑ دو
بہار شوق کی فضا عجیب گل کھلا گئیادائے ناز عاشقی نیاز کو سکھا گئی
لاکھ ہے اکرام تیرا ہم کو اے منصور پربوند کو کیسے بتا ہم کہہ دیں بحر بے کراں
صحرا ہے کوہ و دشت ہیں ویراں مزار ہیںجائے کہیں بھی جس کو بلاتا نہیں کوئی
فکر سخن سے کیا ملا بول کسی کو اے صداؔفکر معاش کر ذرا چھوڑ کے اب تو کام یہ
گر بارش رحمت پہ مرا حق نہیں مولیٰصحرا کی تپش سہنے کی طاقت مجھے دے دے
پاک بازی ہے بڑی توہین رحمت شیخ جیکیجئے کچھ تو خطا گر ہے یقیں غفار میں
نیند آئی ہی نہیں ہم کو نہ پوچھو کب سےآنکھ لگتی ہی نہیں دل ہے لگایا جب سے
شعر میں ساتھ روانی کے معانی بھی تو بھراے صداؔ قید تو کوزے میں سمندر کر دے
کیا تھی مشکل وصال حق میں صداؔتجھ سے بس رد نہ تیری ذات ہوئی
اور کچھ بھی نہیں جب اے صداؔ تم سے ہوتاشعر لکھ لکھ کے زمانے کو سناتے جاؤ
اس بار بخش دے مرے مولیٰ صداؔ کو توقید حصار ذات کی پھر سے سزا نہ دے
اے صداؔ ان کی نہ تقلید تو ہرگز کرناکر کے تقلید جو ہیں صاحب دیوان بنے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books