aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "satirist"
ستیش دوبے ستیارتھ
born.1985
شاعر
ستیش شکلا رقیب
born.1961
ستیش چندر
مصنف
ستیش مختلف
ستیش بترا
1936 - 1988
ستیش چندر سریواستو
مدیر
میں نے کہا ندیمؔ تو بولے کہ جرنلسٹمیں نے کہا رئیسؔ تو بولے سٹائرسٹ
(اس کہانی کا مصنف الفیم ذوذولیا روس کا پہلا طنزیہ نگار(Satirist) ہے الفیم ۱۸۹۱ ء میں پیدا ہوا۔ اس نے اپنی تعلیم کا زمانہ اوڈز نامی تجارتی گاؤں میں بسر کیا۔ اس کی تیز قوتِ مشاہدہ کی وجہ سے اس کی دیہاتی زندگی کا اس کے کردار اور اس کی تخلیقی تحریروں پر بہت اثر پڑا۔ چونکہ الفیم انقلابی سرگرمیوں میں بڑی گرم جوشی سے حصہ لیا کرتا تھا اس لئے وہ کئی بار جی...
آئیے پاس بیٹھیے میرےمل کے کچھ فاصلے بناتے ہیں
میری تو جان ہی نکل گئی جبدوست کہہ کر مجھے پکارا گیا
پھر نہ دل سے کبھی نکالا گیاجو مری زندگی میں آیا گیا
مزاحیہ شاعری بیک وقت کئی ڈائمنشن رکھتی ہے ، اس میں ہنسنے ہنسانے اور زندگی کی تلخیوں کو قہقہے میں اڑانے کی سکت بھی ہوتی ہے اور مزاح کے پہلو میں زندگی کی ناہمواریوں اورانسانوں کے غلط رویوں پر طنز کرنے کا موقع بھی ۔ طنز اور مزاح کے پیرائے میں ایک تخلیق کار وہ سب کہہ جاتا ہے جس کے اظہار کی عام زندگی میں توقع بھی نہیں کی جاسکتی۔ یہ شاعری پڑھئے اور زندگی کے ان دلچسپ علاقوں کی سیر کیجئے۔
دیر وحرم اور ان سے وابستہ افراد کے درمیان کی کشمکش اور جھگڑے بہت پرانے ہیں اور روز بروز بھیانک روپ اختیار کرتے جارہے ہیں ۔ شاعروں نے اس موضوع میں ابتدا سے ہی دلچسپی لی ہے اور دیر وحرم کے محدود دائرے میں بند ہوکر سوچنے والے لوگوں کو طنز کا نشانہ بنایا ہے ۔ دیر وحرم پر ہمارے منتخب کردہ ان اشعار کو پڑھ کو آپ کو اندازہ ہوگا کہ شاعری کی دنیا کتنی کھلی ہوئی ، کشادہ اور زندگی سے بھرپور ہے ۔
طنز کے ساتھ عموما مزاح کا لفظ بھی جڑا ہوتا ہے کیونکہ گہرا طنز تبھی قابل برداشت اور ایک معنی میں اصلاحی ہوتا ہے جب اس کا اظہار اس طور کیا جائے کہ اس کے ساتھ مزاح کا عنصر بھی شامل ہو ۔ طنزیہ پیرائے میں ایک تخلیق کار اپنے آس پاس کی دنیا اور سماج کی ناہمواریوں کو نشانہ بناتا ہے اور ایسے پہلوؤں کو بے نقاب کرتا ہے جن پر عام زندگی میں نظر نہیں جاتی اور جاتی بھی ہے تو ان پر بات کرنے کا حوصلہ نہیں ہوتا ۔
satirist satirist
مرے دونو جہاں تم شاد کرتی ہویوں اپنی زلف جب آزاد کرتی ہو
ہم نئے زاویے بناتے ہیںآپ کے واسطے بناتے ہیں
ساعت عیش دو روزہ تری حاجت کیا ہےغم جاوید نکالے گا مرا کام کہ تو
کبھی اس پر یوں بھی میرا اثر جائےگلی سے میری گزرے تو ٹھہر جائے
گلے ملتے ہیں آؤ دل لگاتے ہیںنظر میں دنیا کی پاگل ہو جاتے ہیں
یوں بھی تو رشتہ جو تھا وہ بچا لیا جاتابڑھا کے ہاتھ جو ان سے ملا لیا جاتا
رات دن خرچ ہو رہا ہوں میںاب زیادہ نہیں بچا ہوں میں
تیرے جانے کا غم کم نہیںچشم پھر بھی مری نم نہیں
ساعت عیش کے ارماں کا نتیجہ معلومغم سے دامن کو چھڑانے میں بڑا وقت لگا
دل تمہارا توڑ سکتی ہے کبھی بھیلڑکیوں سے کم نہیں ہے زندگی بھی
خواب ایسا حسیں دکھائی دیاپھر مجھے کچھ نہیں دکھائی دیا
ٹکڑوں میں ملک جب بھی بٹتا ہےجسم کا کوئی حصہ کٹتا ہے
جو بھی سیکھا کتابوں سے بتاؤ ابچلو یہ کارواں آگے بڑھاؤ اب
دوستی ہے دھرم میرا ذات میریدشمنوں سے پوچھیے اوقات میری
بات میری زندگی اور موت کی ہےآپ کا کیا کہہ دیا بس دوستی ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books