ADVERTISEMENT

طنز پر اشعار

طنز کے ساتھ عموما مزاح

کا لفظ بھی جڑا ہوتا ہے کیونکہ گہرا طنز تبھی قابل برداشت اور ایک معنی میں اصلاحی ہوتا ہے جب اس کا اظہار اس طور کیا جائے کہ اس کے ساتھ مزاح کا عنصر بھی شامل ہو ۔ طنزیہ پیرائے میں ایک تخلیق کار اپنے آس پاس کی دنیا اور سماج کی ناہمواریوں کو نشانہ بناتا ہے اور ایسے پہلوؤں کو بے نقاب کرتا ہے جن پر عام زندگی میں نظر نہیں جاتی اور جاتی بھی ہے تو ان پر بات کرنے کا حوصلہ نہیں ہوتا ۔

ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن

دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے

مرزا غالب

کوئی ہندو کوئی مسلم کوئی عیسائی ہے

سب نے انسان نہ بننے کی قسم کھائی ہے

ندا فاضلی

بات تک کرنی نہ آتی تھی تمہیں

یہ ہمارے سامنے کی بات ہے

داغؔ دہلوی

ہم ایسی کل کتابیں قابل ضبطی سمجھتے ہیں

کہ جن کو پڑھ کے لڑکے باپ کو خبطی سمجھتے ہیں

اکبر الہ آبادی
ADVERTISEMENT

ہم کیا کہیں احباب کیا کار نمایاں کر گئے

بی اے ہوئے نوکر ہوئے پنشن ملی پھر مر گئے

اکبر الہ آبادی

رکھنا ہے کہیں پاؤں تو رکھو ہو کہیں پاؤں

چلنا ذرا آیا ہے تو اترائے چلو ہو

کلیم عاجز

مے بھی ہوٹل میں پیو چندہ بھی دو مسجد میں

شیخ بھی خوش رہیں شیطان بھی بے زار نہ ہو

اکبر الہ آبادی

رقیبوں نے رپٹ لکھوائی ہے جا جا کے تھانے میں

کہ اکبرؔ نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں

اکبر الہ آبادی
ADVERTISEMENT

قوم کے غم میں ڈنر کھاتے ہیں حکام کے ساتھ

رنج لیڈر کو بہت ہے مگر آرام کے ساتھ

اکبر الہ آبادی

لیڈروں کی دھوم ہے اور فالوور کوئی نہیں

سب تو جنرل ہیں یہاں آخر سپاہی کون ہے

اکبر الہ آبادی

دل خوش ہوا ہے مسجد ویراں کو دیکھ کر

میری طرح خدا کا بھی خانہ خراب ہے

عبد الحمید عدم

شیخ اپنی رگ کو کیا کریں ریشے کو کیا کریں

مذہب کے جھگڑے چھوڑیں تو پیشے کو کیا کریں

اکبر الہ آبادی
ADVERTISEMENT

عاشقی کا ہو برا اس نے بگاڑے سارے کام

ہم تو اے.بی میں رہے اغیار بے.اے. ہو گئے

اکبر الہ آبادی

مٹھیوں میں خاک لے کر دوست آئے وقت دفن

زندگی بھر کی محبت کا صلا دینے لگے

ثاقب لکھنوی

ہوئے اس قدر مہذب کبھی گھر کا منہ نہ دیکھا

کٹی عمر ہوٹلوں میں مرے اسپتال جا کر

اکبر الہ آبادی

سنا یہ ہے بنا کرتے ہیں جوڑے آسمانوں پر

تو یہ سمجھیں کہ ہر بیوی بلائے آسمانی ہے

احمد علوی
ADVERTISEMENT

سنے گا کون میری چاک دامانی کا افسانہ

یہاں سب اپنے اپنے پیرہن کی بات کرتے ہیں

کلیم عاجز

مرعوب ہو گئے ہیں ولایت سے شیخ جی

اب صرف منع کرتے ہیں دیسی شراب کو

اکبر الہ آبادی

اٹھتے ہوؤں کو سب نے سہارا دیا کلیمؔ

گرتے ہوئے غریب سنبھالے کہاں گئے

کلیم عاجز

ملی ہے دختر رز لڑ جھگڑ کے قاضی سے

جہاد کر کے جو عورت ملے حرام نہیں

امیر مینائی
ADVERTISEMENT

پی لیں گے ذرا شیخ تو کچھ گرم رہیں گے

ٹھنڈا نہ کہیں کر دیں یہ جنت کی ہوائیں

عرش ملسیانی

ہجو نے تو ترا اے شیخ بھرم کھول دیا

تو تو مسجد میں ہے نیت تری مے خانے میں

جگر مراد آبادی

کہتی ہے اے ریاضؔ درازی یہ ریش کی

ٹٹی کی آڑ میں ہے مزا کچھ شکار کا

ریاضؔ خیرآبادی