aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "savaad-e-shaam-e-mohabbat"
مطبع فیض منبع شام اودھ
ناشر
مطبع شام اودھ، لکھنؤ
شام ہمدرد، کراچی
دفتر شمع ادب، سلطانپور
شام بہار ٹرسٹ، امبالہ
نور شمع نور
مصنف
سیدہ شانِ معراج
born.1948
شاعر
شان حیدر بیباک امروہوی
منصور ابن محمد
اے ۔ محمد سیٹھ
شان زہرہ
مدیر
شمع ادب، لکھنو
سید آل محمد مرحوم
سجاد سخن
سکندر ابن محمد
سواد شام غم میں یوں تو دیر تک جلا چراغنہ جانے کیوں تھکا تھکا اداس اداس تھا چراغ
اے خدا شمع محبت کو فروزاں کر دےداغ دل کو مرے صد رشک گلستاں کر دے
سواد شام سے ڈرتا ہوا نظر آیافروغ مہر بھی مرتا ہوا نظر آیا
سواد شام نہ رنگ سحر کو دیکھتے ہیںبس اک ستارۂ وحشت اثر کو دیکھتے ہیں
سواد شام سفر کا ملال کچھ بھی نہیںکروں میں عرض بھی کیا عرض حال کچھ بھی نہیں
ذیشان ساحل اردو نظم کے منفرد اور حساس لہجے کے شاعر ہیں جنہوں نے جدید دور کی پیچیدہ کیفیات کو سادہ مگر گہرے استعاروں کے ذریعے بیان کیا ہے۔ ان کی نظموں میں ایک خاموش احتجاج، ایک تہہ دار تنقید، اور ایک فکری نرمی پائی جاتی ہے جو قاری کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔ ان کے ہاں دکھ، خاموشی، اور وقت جیسے موضوعات کا جمالیاتی اظہار نمایاں ہے۔
وزیر علی صبا لکھنؤی تقریباً ۱۸۵۰ء میں لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ آتش کے شاگرد تھے۔ دو سو روپیہ واجد علی شاہ کی سرکار سے اور تیس روپیہ ماہوار نواب محسن الدولہ کے یہاں سے ملتا تھا۔ افیون کے بہت شوقین تھے۔ جو شخص ان سے ملنے جاتا اس کی تواضع منجملہ دیگر تکلفات افیون سے بھی ضرور کرتے۔ ۱۳؍جون ۱۸۵۵ء کو لکھنؤ میں گھوڑے سے گرکر انتقال ہوا۔ ایک ضخیم دیوان’’غنچۂ آرزو‘‘ ان کی یادگار ہے۔
محبت پر یہ شاعری آپ کے لیے ایک سبق کی طرح ہے، آپ اس سے محبت میں جینے کے آداب بھی سیکھیں گے اور ہجر و وصال کو گزارنے کے طریقے بھی۔ یہ پہلا ایسا خوبصورت مجموعہ ہے جس میں محبت کے ہر رنگ، ہر کیفیت اور ہر احساس کو قید کرنے والے اشعار کو اکٹھا کر دیا گیا ہے۔ آپ انہیں پڑھیے اور محبت کرنے والوں کے درمیان شئیر کیجیے۔
سواد شام
غبار بھٹی
مجموعہ
سوادِ شام
انیتا سونی
رپورٹ سفر حجاز و شام و مصر
محمد ظہور الحق
سفرنامۂ یورپ و بلاد روم و شام و مصر
منشی محبوب عالم
سرخی شام سفر
اختر سعید خان
سر لوح شام فراق پھر
سباس گل
تذکرۂ شمع اردو
ساحل بلگرامی
رونامہ با تصویر
خواجہ حسن نظامی
حصار شام و سحر
شہناز مسرت
خواتین کی تحریریں
مقالات شام ہمدرد
حکیم محمد سعید دہلوی
سفر نامۂ روم و مصر و شام
شبلی نعمانی
ترجمہ
سفرنامہ روم و مصر و شام
سفر نامہ
چشم سر شام
حسن عزیز
مقالات/مضامین
سواد شام پہ سورج اترنے والا ہےٹھہر بھی جا کہ یہ منظر ابھرنے والا ہے
تو اگر شمع محبت کو فروزاں کر دےتیرگی ظلم کی چاک اپنا گریباں کر دے
سواد شام میں سب وحشیوں کا جلسہ ہولہو کا راگ ہو اور نغمہ ساز پیاسا ہو
سواد شام سے ڈرتا ہوا میںپھر اپنے آپ میں سمٹا ہوا میں
صبح کے جلوؤں میں پوشیدہ سواد شام ہےعشق کے آغاز ہی میں عشق کا انجام ہے
مری صدا ہے گل شمع شام آزادیسنا رہا ہوں دلوں کو پیام آزادی
صبح ازل و شام ابد کچھ بھی نہیںاک وسعت موہوم ہے حد کچھ بھی نہیں
سواد شام محبت ہے دود بے آتشطلوع صبح تمنا ہے آتش بے دود
منظر شام الم بھی نہیں دیکھے جاتےکیا ستم ہے کہ ستم بھی نہیں دیکھے جاتے
سواد شام سے تا صبح بے کنار گئیترے لیے تو میں ہر بار ہار ہار گئی
صبح بہار و شام خزاں کچھ نہ کچھ تو ہوبے نام زندگی کا نشاں کچھ نہ کچھ تو ہو
اے شمع دل افروز شب تار محبتبخشے ہے یہی گرمی بازار محبت
نہیں وہ شمع محبت رہی تو پھر عاصمؔیہ کس دعا سے مرے گھر میں روشنی سی ہے
زوال شام ہجراں کا اشارہ دیکھتا ہوں میںچراغوں کے بدن کو پارہ پارہ دیکھتا ہوں میں
چراغ شام غریبی تھا میں زمانے میںکسی نے آ کے نہ ٹھنڈا کیا جلا کے مجھے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books