aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "shajar"
ساغر صدیقی
1928 - 1974
شاعر
جوش ملیح آبادی
1898 - 1982
ساغر خیامی
1936 - 2008
شہاب جعفری
1930 - 2000
حمایت علی شاعر
1926 - 2019
آغا شاعر قزلباش
1871 - 1940
سریندر شجر
ساغر نظامی
1905 - 1984
سندیپ شجر
born.1977
ساغرؔ اعظمی
1944 - 2004
معین شاداب
born.1971
عبدالحلیم شرر
1860 - 1926
مصنف
شہپر رسول
born.1956
شاعر جمالی
1943 - 2008
شجر عباس
born.2001
سنا ہے اس کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغفسو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں
شجر حجر نہیں کہ ہمہمیشہ پا بہ گل رہیں
ہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہاں کا منظرکہیں مسجود تھے پتھر کہیں معبود شجر
شجر فطرت مسلم تھا حیا سے نمناکتھا شجاعت میں وہ اک ہستی فوق الادراک
سر سے پا تک وہ گلابوں کا شجر لگتا ہےبا وضو ہو کے بھی چھوتے ہوئے ڈر لگتا ہے
ہجر محبّت کے سفر میں وہ مرحلہ ہے , جہاں درد ایک سمندر سا محسوس ہوتا ہے .. ایک شاعر اس درد کو اور زیادہ محسوس کرتا ہے اور درد جب حد سے گزر جاتا ہے تو وہ کسی تخلیق کو انجام دیتا ہے . یہاں پر دی ہوئی پانچ نظمیں اسی درد کا سایہ ہے
استاد شاعروں کی یہ غزلیں ہر اس شخص کو مہ زبانی یاد ہونگی جنہیں کلاسک اردو شاعری کا شوق ہے - آپ بھی اسکا لطف لیں -
اگر آپ کو بس یوں ہی بیٹھے بیٹھے ذرا سا جھومنا ہے تو شراب شاعری پر ہمارا یہ انتخاب پڑھئے ۔ آپ محسوس کریں گے کہ شراب کی لذت اور اس کے سرور کی ذرا سی مقدار اس شاعری میں بھی اتر آئی ہے ۔ یہ شاعری آپ کو مزہ تو دے گی ہی ،ساتھ میں حیران بھی کرے گی کہ شراب جو بظاہر بے خودی اور سرور بخشتی ہے، شاعری میں کس طرح معنی کی ایک لامحدود کائنات کا استعارہ بن گئی ہے ۔
शजरشَجَر
عربی
درخت، پیڑ، روکھ
शररشَرَر
چنگاری، شرارہ، شرار
शजराشَجَرَہ
درخت، شجر، پیڑ، ایک درخت
शजरीشَجَری
पेड़ के आकार का, पेड़वाला, पेड़ सम्बन्धी।
سبز حروف کے شجر
سید اشتیاق عالم ضیا شاہبازی
نعت
شجر ممنوعہ
صدیق مجیبی
غزل
شجر معرفت
حی شاہ
اسلامیات
شجر ھائے سایہ دار
عبادت بریلوی
تذکرہ
شجر سایہ دار
افسانہ / کہانی
شجر طوبی
صبیحہ نسرین
شاعری
امیدوں کا شجر
عطیہ بی
کہانیاں/ افسانے
شجرہونے تک
باصر سلطان کاظمی
شجر غوثیہ ٹیکمال میں
سید احمد قادری
قادریہ
شجر اکیلا ہے
صابر دت
مجموعہ
شجر صدا
عمیق حنفی
دوسرا شجر
شجاع خاور
نظم
شمارہ نمبر -002
محمد صلاح الدین
شجر، برہان پور
شجر درد کے پھول
مطرب بلیاوی
شجر سایہ دار ازبیک ادیبوں کے افسانے
نامعلوم مصنف
بلندی پر انہیں مٹی کی خوشبو تک نہیں آتییہ وہ شاخیں ہیں جن کو اب شجر اچھا نہیں لگتا
جنوں کا حجم زیادہ تمہارا ظرف ہے کمذرا سا گملا ہے اس میں شجر لگے گا نہیں
خیال ہے خاندان کو اطلاع دے دوںجو کٹ گیا اس شجر کا شجرہ نکالنا ہے
وقت کی دھوپ میں تمہارے لیےشجر سایہ دار تھے ہم تو
وہ مسافر ہی کھلی دھوپ کا تھاسائے پھیلا کے شجر کیا کرتے
ہوا کا ہاتھ بٹاؤں گا ہر تباہی میںہرے شجر سے پرندے میں خود اڑا دوں گا
اے شجر حیات شوق ایسی خزاں رسیدگیپوشش برگ و گل تو کیا جسم پہ چھال بھی نہیں
تو نے دیکھا ہے کبھی ایک نظر شام کے بعدکتنے چپ چاپ سے لگتے ہیں شجر شام کے بعد
میں نظر بھر کے ترے جسم کو جب دیکھتا ہوںپہلی بارش میں نہایا سا شجر لگتا ہے
ویراں گلی کے موڑ پہ تنہا سا اک شجرتنہا شجر کے سائے میں چھوٹا سا اک مکان
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books