aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "shalabh"
بہادر شاہ ظفر
1775 - 1862
شاعر
وصی شاہ
born.1976
بیدم شاہ وارثی
1876 - 1936
فرحت عباس شاہ
born.1964
بلّھے شاہ
1680 - 1757
آبرو شاہ مبارک
1685 - 1733
قلی قطب شاہ
1566 - 1611
واجد علی شاہ اختر
1823 - 1887
شاہ نصیر
1756 - 1838
شہاب جعفری
1930 - 2000
آفتاب شاہ عالم ثانی
1728 - 1806
بلہے شاہ
آغا حجو شرف
1812 - 1887
شاہ نیاز احمد بریلوی
1775 - 1852
مصنف
معین شاداب
born.1971
میرے بعد آنے والوں سے کہنا شلبھؔایک بیگانہ دنیا میں کم ہو گیا
خوں کے ہر اک سوال کا زندہ جواب ہوںاے شاعر شباب ترا انتخاب ہوں
گاہ قریب شاہ رگ گاہ بعید وہم و خواباس کی رفاقتوں میں رات ہجر بھی تھا وصال بھی
تیرا فراق جان جاں عیش تھا کیا مرے لیےیعنی ترے فراق میں خوب شراب پی گئی
آئے کچھ ابر کچھ شراب آئےاس کے بعد آئے جو عذاب آئے
اگر آپ کو بس یوں ہی بیٹھے بیٹھے ذرا سا جھومنا ہے تو شراب شاعری پر ہمارا یہ انتخاب پڑھئے ۔ آپ محسوس کریں گے کہ شراب کی لذت اور اس کے سرور کی ذرا سی مقدار اس شاعری میں بھی اتر آئی ہے ۔ یہ شاعری آپ کو مزہ تو دے گی ہی ،ساتھ میں حیران بھی کرے گی کہ شراب جو بظاہر بے خودی اور سرور بخشتی ہے، شاعری میں کس طرح معنی کی ایک لامحدود کائنات کا استعارہ بن گئی ہے ۔
शराबी شَرابی
شراب پینے والا، نشے میں مست، متوالا
عربی
शरफ़ شَرَف
بزرگی، بڑائی
शादाबी شادابی
سرسبزی، تروتازگی، سیرابی، دلکشی، خوبصورتی
فارسی
शग़बा شَغَبَہ
शरीर की वह खाल जो अधिक करने से खुरदरी, काली और मोटी पड़ जाय, (वि.) अप- मानित, तिरस्कृत, जलील।।
اختیارات شرح اردو مختارات
ابوالحسن علی ندوی
خواتین کی تحریریں
شرح بانگ درا
شفیق احمد
شرح
اردو مکتوب نگاری
شاداب تبسم
تنقید
نامعلوم مصنف
اردو کے نثری اسالیب
شہاب ظفر اعظمی
شرح دیوان غالب اردو
سعید الدین احمد
دیوان
شہاب نامہ
قدرت اللہ شہاب
خود نوشت
کتاب مرقوم
مولانا جلال الدین رومی
ضرب کلیم
یوسف سلیم چشتی
شرح ارمغان حجاز
انتخاب دیوان مومن
ظہیر احمد صدیقی
شاعری
نظم
شاداں بلگرامی
مفتاح العلوم شرح مثنوی مولانا روم
مولوی محمد نذیر عرشی
ترجمۂ اردو شرح اسباب
طب
پیوں شراب اگر خم بھی دیکھ لوں دو چاریہ شیشہ و قدح و کوزہ و سبو کیا ہے
جب کبھی بکتا ہے بازار میں مزدور کا گوشتشاہراہوں پہ غریبوں کا لہو بہتا ہے
قمریاں شاخ صنوبر سے گریزاں بھی ہوئیںپتیاں پھول کی جھڑ جھڑ کے پریشاں بھی ہوئیں
کس کی آنکھوں میں سمایا ہے شعار اغیارہو گئی کس کی نگہ طرز سلف سے بے زار
گزرنے پاتی تو شاداب ہو بھی سکتی تھییہ تیرگی جو مری زیست کا مقدر ہے
جب شاخ کوئی ہاتھ لگاتے ہی چمن میںشرمائے لچک جائے تو لگتا ہے کہ تم ہو
پھر صبا سایۂ شاخ گل کے تلےکوئی قصہ سناتی رہی رات بھر
یہاں لباس کی قیمت ہے آدمی کی نہیںمجھے گلاس بڑے دے شراب کم کر دے
اور جام ٹوٹیں گے اس شراب خانے میںموسموں کے آنے میں موسموں کے جانے میں
تم نے کیا نہ یاد کبھی بھول کر ہمیںہم نے تمہاری یاد میں سب کچھ بھلا دیا
بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھیجیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی
لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میںکس کی بنی ہے عالم ناپائیدار میں
تمہاری آنکھوں کی توہین ہے ذرا سوچوتمہارا چاہنے والا شراب پیتا ہے
خود حسن و شباب ان کا کیا کم ہے رقیب اپناجب دیکھیے اب وہ ہیں آئینہ ہے شانا ہے
جواں ہونے لگے جب وہ تو ہم سے کر لیا پردہحیا یک لخت آئی اور شباب آہستہ آہستہ
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books