aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "sham-e-aah"
سیدہ شانِ معراج
born.1948
شاعر
شان حیدر بیباک امروہوی
مصنف
شان زہرہ
مدیر
شمع ادب، لکھنو
ناشر
کتب خانہ شان اسلام، لاہور
منشی شان الٰہی صاحب زبیری
مطبع شام اودھ، لکھنؤ
مطبع فیض منبع شام اودھ
شام ہمدرد، کراچی
پادشاہ لکھنوی
1803 - 1837
دفتر شمع ادب، سلطانپور
شب نور پبلی کیشنز، کولکاتا
شمع علم اکیڈمی، میرٹھ
شام بہار ٹرسٹ، امبالہ
مکتبہ شان ہند، دہلی
اجنبی شہر بے نمک چہرےکسے ہم راز دل کیا جائے
کس طرح چھوڑ دوں اس شہر کو اے موج نسیمیہیں جینا ہے مجھے اور یہیں مرنا ہے مجھے
بکھری ہوئی تھیں چار سو پھولوں کی پتیاںگلشن سنور سنور گیا باد صدا کے بعد
سن تو در خیال پہ فردا کی دستکیںخود کا حصار توڑ کے جاتی رتوں کو دیکھ
اک پل میں ہی بتلا گئیں دم توڑتی کرنیںوہ راز جو اے شامؔ نہ پایا مجھے دن بھر
وزیر علی صبا لکھنؤی تقریباً ۱۸۵۰ء میں لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ آتش کے شاگرد تھے۔ دو سو روپیہ واجد علی شاہ کی سرکار سے اور تیس روپیہ ماہوار نواب محسن الدولہ کے یہاں سے ملتا تھا۔ افیون کے بہت شوقین تھے۔ جو شخص ان سے ملنے جاتا اس کی تواضع منجملہ دیگر تکلفات افیون سے بھی ضرور کرتے۔ ۱۳؍جون ۱۸۵۵ء کو لکھنؤ میں گھوڑے سے گرکر انتقال ہوا۔ ایک ضخیم دیوان’’غنچۂ آرزو‘‘ ان کی یادگار ہے۔
شام کا تخلیقی استعمال بہت متنوع ہے ۔ اس کا صحیح اندازہ آپ ہمارے اس انتخاب سے لگا سکیں گے کہ جس شام کو ہم اپنی عام زندگی میں صرف دن کے ایک آخری حصے کے طور دیکھتے ہیں وہ کس طور پر معنی اور تصورات کی کثرت کو جنم دیتی ہے ۔ یہ دن کے عروج کے بعد زوال کا استعارہ بھی ہے اور اس کے برعکس سکون ،عافیت اور سلامتی کی علامت بھی ۔ اور بھی کئی دلچسپ پہلو اس سے وابستہ ہیں ۔ یہ اشعار پڑھئے ۔
شمع رات بھر روشی لٹانے کیلئے جلتی رہتی ہے ، سب اس سے فیض اٹھاتے ہیں لیکن اس کے اپنے دکھ اور کرب کو کوئ نہیں سمجھتا ۔ کس طرح سے سیاہ کالی رات اس کے اوپر گزرتی ہے اسے کوئی نہیں جانتا ۔ تخلیق کاروں نے روشنی کے پیچھے کی ان تمام ان کہی باتوں کو زبان دی ہے ۔ خیال رہے کہ شاعری میں شمع اور پروانہ اپنے لفظی معنی اور مادی شکلوں سے بہت آگے نکل کر زندگی کی متنوع صورتوں کی علامت کے طور پر مستعمل ہیں ۔
जा-ए-ग़म جائے غَم
رنج و افسوس کا مقام یا موقع
فارسی
मता'-ए-ग़म مَتاعِ غَم
غم کی دولت، مراد: غم جسے شاعر سرمایۂ معاملہ بندی سمجھتے ہیں
عربی
ग़म-ए-दिल غَمِ دِل
(مجازاً) محبت، عشق
عربی, فارسی
शर्म-ओ-हया شَرْم و حَیا
حیا، لاج اور لحاظ
شاخ آہو
ظفر نسیمی
مجموعہ
شمع شبستان رضا
صوفی اقبال احمد نوری
شام مسافر دشت
عصمت مظفری
اسلامیات
شان رحمت عالم
عبد الرزاق جانگڑا
شام شہریاراں
فیض احمد فیض
شان محبوب الہی
محمد امان علی ثاقب
شام شعر یاراں
مشتاق احمد یوسفی
طنز و مزاح
شام شہر یاراں
کچھ تو کہتی ہے سر شام سمندر کی ہواکبھی ساحل کی خنک ریت پہ جائیں تو سہی
آئی تو جیسے ہونے لگا مطلع غزلبیٹھی تو جیسے نظم کی تکمیل ہو گئی
تمام ذرے بکھر کر سمیٹ لیں گے مجھےیہ جانتا ہوں سر کہسار کیا ہوگا
ہر گوشے میں بکھرے ہوئے سناٹوں کے ڈر سےویرانیاں گھبرا کے نکل آئی ہیں گھر سے
ردائے خاک طلب دور تک بچھا بھی دےبرہنہ راہ کو پیراہن صدا بھی دے
لگ گئی ہے چپ سی اب ذہن ہنر خاموش ہےرابطہ جس دن سے ٹوٹا ہے لب اظہار سے
ہمارے بعد بھی رونق نہ آئی اس گھر پرچراغ ایک ہوا کو کئی بجھانے تھے
رحمتیں زحمتیں بن جاتی ہیں اکثر اے آہؔہو نہ یہ سیل بلا کالی گھٹا سے ڈریے
لئے اک نافۂ آہو پھرے ہو در بدر تم آہؔتمہیں اس کا سراپا اپنے اندر دیکھ لینا تھا
اب نہ وہ عشق نہ کچھ اس کی خبر باقی ہےہے سفر ختم اک آشوب سفر باقی ہے
تجھے خبر نہیں تعمیر نو کے پاگل پنچھتیں گریں تو پرندوں کے آشیانے گئے
سب اپنے اپنے افق پر چمک کے تھوڑی دیرمجھے تو دامن شام و سحر کی گرد ہوئے
شام غم افسردہ و حیراں تھے ہملوگ سمجھے بے سر و ساماں تھے ہم
جو شام ہو انوار شہادت سے منوراس شام کو ہم شام غریباں نہیں کہتے
یہ بات سچ ہے یہاں گفتگو عوام سے ہےمگر ادب کو گزر گاہ عام مت کرنا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books