aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "shelf"
یاد تو ہوں گی وہ باتیں تجھے اب بھی لیکنشیلف میں رکھی ہوئی بند کتابوں کی طرح
شیلف میں رکھی ہوئی اپنی کتابوں میں سےکوئی دیوان اٹھاؤ گے تو یاد آؤں گا
شیلف پر رکھی کتابیں سوچتی ہیں رات دنگھر سے دفتر کا سفر کتنا سہانا ہو گیا
جواد شیخ
born.1985
شاعر
شیخ ابراہیم ذوقؔ
1790 - 1854
نظیر اکبرآبادی
1735 - 1830
مصحفی غلام ہمدانی
1747 - 1824
امداد علی بحر
1810 - 1878
جوشش عظیم آبادی
1737 - 1801
شوکت پردیسی
1924 - 1995
ڈاکٹر یاسین عاطر
born.1955
شیخ ایاز
1923 - 1997
مصنف
شاد لکھنوی
1805 - 1899
عاصی فائقی
born.1930
شیخ علی بخش بیمار
1789 - 1854
شیخ الطاف
born.1998
عبدالغنی شیخ
born.1936
انور شیخ
کتابیںطاق میں اور شیلف پر
شیلف پہ الٹا کر کے رکھ دو اور بسرا دوگل دانوں میں پھول سجاؤ خواب کا کیا ہے
آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے استاد اور ملک الشعرا۔ غالب کے ساتھ ان کی رقابت مشہور ہے
بے خودی شعور کی حالت سے نکل جانے کی ایک کیفیت ہے ۔ ایک عاشق بے خودی کو کس طرح جیتا ہے اور اس کے ذریعے وہ عشق کے کن کن مقامات کی سیر کرتا ہے اس کا دلچسپ بیان ان اشعار میں ہے ۔ اس طرح کے شعروں کی ایک خاص جہت یہ بھی ہے کہ ان کے ذریعے کلاسیکی عاشق کی شخصیت کی پرتیں کھلتی ہیں ۔
یوں تو بظاہر اپنے آپ کو تکلیف پہنچانا اور اذیت میں مبتلا کرنا ایک نہ سمجھ میں آنے والا غیر فطری عمل ہے ، لیکن ایسا ہوتا ہے اور ایسے لمحے آتے ہیں جب خود اذیتی ہی سکون کا باعث بنتی ہے ۔ لیکن ایسا کیوں ؟ اس سوال کا جواب آپ کو شاعری میں ہی مل سکتا ہے ۔ خود اذیتی کو موضوع بنانے والے اشعار کا ایک انتخاب ہم پیش کر رہے ہیں ۔
shelfshelf
طاقْچَہ
ख़ेलाخیلَہ
رک : خیلا
खेलीکھیلی
چھوٹی نالی، کیاری
खेलाکھیلا
کھیلنا سے حالیۂ تمام، تراکیب میں مستعمل
کوئی کوئی بات
مجموعہ
بیاض سحر
بیگم شیخ تراب علی
قصہ / داستان
نیل کنٹھ اور نیم کے پتے
دی سیکریٹس آف دی سیلف
علامہ اقبال
شاعری
فرینکنسٹائن
میری شیلے
لداخ : تہذیب و ثقافت
تاریخ
اقبال ھِز پویٹری اینڈ میسیج
شیخ اکبر علی
قصیدہ حضرت شیخ فریدالدین عطار
قصیدہ
قرآنی اصطلاحات
سید حامد علی
اسلامیات
اسرار خودی
برج شرف
تقی عابدی
انتخاب
علامہ اقبال۔ غارت گر ملّت
شاعری تنقید
شیخ فرید گنج شکر
ساہیوال جیل کی ڈائری
اقبال کی شاعری اور اس کا پیغام
اقبالیات تنقید
دل کے شیلف میں شاہدؔ کتنییادوں کے البم ہوتے ہیں
تمام لفظوں میں روشن ہر اک باب میں ماںجنوں کے شیلف میں ہے عشق کی کتاب میں ماں
ہر شیلف پر سجے ہیں مگر دشمنوں کے سرناداں تیرا دماغ ہے مقتل نہ کر اسے
اس نے کتاب کھول کے رکھ دی ہے شیلف میںمیری قبائے وصل کو کب مل سکا وجود
چور ذہن کےپچھلے شیلف پے
شیلف میں ادھر ادھر رکھی ہوئیکتابوں کو
ایک بجھتے ہوئے خواب کی روشنیخوب صورت دکانوں کے آراستہ شیلف میں
کمرے کی شیلف پر ہے سجی بدھ کی مورتیگلدان میں چنی ہوئی جنگل کی گھاس ہے
کچھ اس طرح دیا ترتیب عاقبت کا گھرگناہ شیلف پہ رکھے ثواب ردی میں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books