aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "shobe"
شوق مرادابادی
1920 - 1988
شاعر
شعیب شوبی
born.2000
شعبۂ تنظیم ابنائے قدیم دارالعلوم دیوبند، سہارنپور
مصنف
شعبہ اردو جامعہ عثمانیہ
مدیر
شعبہ نشر و اشاعت جامعہ چشتیہ خانقاہ حضرت شیخ العالم ردودلی شریف، فیض آباد
ناشر
شعبۂ اردو چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ
شعبۂ نشر و اشاعت، سیتامڑھی
شعبہ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی
شعبۂ لسانیات مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ
شعبۂ اردو فارسی، پشاور یونیورسٹی
شعبۂ تصنیف و تالیف جامعہ ملیہ اسلامیہ
شعبۂ اردو جی سی یونیورسٹی، لاہور
شعبہ رابطہ عامہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی
شعبہ نشر و اشاعت دار التربیت، سنسارپور، کھیری
بزم ادب شعبۂ اردو، کراچی
سب سے بڑی ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک کے جن اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اردو اور ہندی کے الگ الگ شعبے اور درجے یا کلاس ہیں انہیں توڑ کر ایک کردیا جائے۔...
جو بات کر رہی ہیں کمائی کے شعبے کیوہ ہیڈ ہیں لگائی بجھائی کے شعبے کی
کسی شعبے میں ہے بیوی کہیں سالے ہوں گےجانے کتنوں کے یہاں دال میں کالے ہوں گے
تم اس کی آنکھوں میں دیکھ لیناتمام شعبے ہیں رنگ و رس کے
وہ علم ہو کہ شجاعت ہر ایک شعبے میںجو منفرد ہو ہم ایسا امام رکھتے ہیں
शोए شوئے
شوہر، زوج
فارسی
shore shore
کِنارَہ
shove shove
دَھکیلْنا
shoe shoe
جُوتی
شب رفتہ
مجید امجد
مرثیہ
میر انیس
شب برأت کے فضائل و معمولات
محمد طفیل احمد مصباحی
اسلامیات
بہاروں میں شعلے
حامدی کاشمیری
معاشرتی
شب چراغ
وامق جونپوری
مجموعہ
شب گشت
عمیق حنفی
مسائل شب برات و شب قدر
محمد رفعت قاسمی
ایشیا کی شب تاریک
نامعلوم مصنف
عالمی تاریخ
جگر مہسوی
شب عریاں
تخت سنگھ
شعلے
احمد علی
یورپ کے شعبدے
دیناناتھ حافظ آبادی
ناول
شب تاب
شاہ حسین نہری
شاعری
قومی کتابیات
کلیم طاہری
اشاریہ
شعلے اور گیت
احمد شجاع پاشا
دونوں جہان تیری محبت میں ہار کےوہ جا رہا ہے کوئی شب غم گزار کے
تا قیامت شب فرقت میں گزر جائے گی عمرسات دن ہم پہ بھی بھاری ہیں سحر ہوتے تک
جو ہم پہ گزری سو گزری مگر شب ہجراںہمارے اشک تری عاقبت سنوار چلے
صحن خیال یار میں کی نہ بسر شب فراقجب سے وہ چاندنا گیا جب سے وہ چاندنی گئی
کہوں کس سے میں کہ کیا ہے شب غم بری بلا ہےمجھے کیا برا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا
نہ شعلہ میں یہ کرشمہ نہ برق میں یہ اداکوئی بتاؤ کہ وہ شوخ تند خو کیا ہے
وادیٔ نجد میں وہ شور سلاسل نہ رہاقیس دیوانۂ نظارۂ محمل نہ رہا
تیرا پہلو ترے دل کی طرح آباد رہےتجھ پہ گزرے نہ قیامت شب تنہائی کی
نہ اپنا رنج نہ اوروں کا دکھ نہ تیرا ملالشب فراق کبھی ہم نے یوں گنوائی نہ تھی
خوش ہوتے ہیں پر وصل میں یوں مر نہیں جاتےآئی شب ہجراں کی تمنا مرے آگے
پھر بھی یہ سمجھتے ہو ہیچ آرزو مندییہ شب زباں بندی ہے رہ خداوندی
ڈھلتی نہ تھی کسی بھی جتن سے شب فراقاے مرگ ناگہاں ترا آنا بہت ہوا
شب فرقت کا جاگا ہوں فرشتو اب تو سونے دوکبھی فرصت میں کر لینا حساب آہستہ آہستہ
تم آئے ہو نہ شب انتظار گزری ہےتلاش میں ہے سحر بار بار گزری ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books