aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "shower"
پیڑوں کی طرح حسن کی بارش میں نہا لوںبادل کی طرح جھوم کے گھر آؤ کسی دن
آنسو جو رکا وہ کشت جاں میںبارش کی مثال آ گیا ہے
تری انجمن میں ظالم عجب اہتمام دیکھاکہیں زندگی کی بارش کہیں قتل عام دیکھا
ابن انشا
1927 - 1978
شاعر
حمایت علی شاعر
1926 - 2019
آغا شاعر قزلباش
1871 - 1940
شاعر جمالی
1943 - 2008
شاعر لکھنوی
1917 - 1989
جارج پیش شور
1823 - 1894
پیر شیر محمد عاجز
بوم میرٹھی
1888 - 1954
پروین شیر
شیر محمد خاں ایمان
died.1806/7
شیر افضل جعفری
1909 - 1989
شوزیب کاشر
شیر سنگھ ناز دہلوی
1898 - 1962
شاعر فتح پوری
شوق مرادابادی
1920 - 1988
شاور کے نیچے گھلتی جاتی ہے شاممیری آنکھوں پر اک ٹاول لپٹی ہے
شاور سے جب بادل برسےزلفیں کھولے شام نہائے
تازہ دم ہونے کو اداسیلے کر غم کا شاور نکلی
اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دونہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے
اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سواراحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
راکھی کی ڈور سے بندھی خوبصورت شاعری
متفرق اشعار کی ۲۰ بہترین کتابیں استفادے کے لئے حاضر ہیں۔
اگر آپ کو بس یوں ہی بیٹھے بیٹھے ذرا سا جھومنا ہے تو شراب شاعری پر ہمارا یہ انتخاب پڑھئے ۔ آپ محسوس کریں گے کہ شراب کی لذت اور اس کے سرور کی ذرا سی مقدار اس شاعری میں بھی اتر آئی ہے ۔ یہ شاعری آپ کو مزہ تو دے گی ہی ،ساتھ میں حیران بھی کرے گی کہ شراب جو بظاہر بے خودی اور سرور بخشتی ہے، شاعری میں کس طرح معنی کی ایک لامحدود کائنات کا استعارہ بن گئی ہے ۔
shower shower
ہلکی بارش
shocker shocker
بول چال: بھیانک ، مکروہ، وحشت ناک چیز یا شخص۔.
shopper shopper
گاہَک
shooter shooter
کا فاعل۔.
شعر شور انگیز
شمس الرحمن فاروقی
شرح
شعور
ذیشان الحسن عثمانی
افسانہ
کلیات انور شعور
انور شعور
کلیات
فن شعر و شاعری اور روح بلاغت
حمیداللہ شاہ ہاشمی
زبان
شعرالہند
عبد السلام ندوی
شاعری تنقید
میر کی کویتا اور بھارتیہ سندریہ بود
شعور فردا
محمد سعید اسعد
خطوط
پاکستانی ادب- 1992
قمر جمیل
انتخاب
شعروسخن
سلور کنگ
آغا حشر کاشمیری
ڈرامہ
آہنگ شعر
ابو ظفر عبدالواحد
علم عروض / عروض
شعر العجم
شبلی نعمانی
رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آآ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ
دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہےلمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے
جو گزاری نہ جا سکی ہم سےہم نے وہ زندگی گزاری ہے
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکندل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے
کر رہا تھا غم جہاں کا حسابآج تم یاد بے حساب آئے
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بد ناموہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
عشق نے غالبؔ نکما کر دیاورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے
نہ جی بھر کے دیکھا نہ کچھ بات کیبڑی آرزو تھی ملاقات کی
محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کااسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے
اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیںجس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلےخدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
ہوش والوں کو خبر کیا بے خودی کیا چیز ہےعشق کیجے پھر سمجھئے زندگی کیا چیز ہے
مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میںتو میرا شوق دیکھ مرا انتظار دیکھ
ایک مدت سے تری یاد بھی آئی نہ ہمیںاور ہم بھول گئے ہوں تجھے ایسا بھی نہیں
اور کیا دیکھنے کو باقی ہےآپ سے دل لگا کے دیکھ لیا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books