aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "soyaa"
سیا سچدیو
born.1967
شاعر
سومیہ یادو
born.1998
سویا مانے یاسر
مصنف
کرشنا ستیہ نند
آج ملنے کی خوشی میں صرف میں جاگا نہیںتیری آنکھوں سے بھی لگتا ہے کہ تو سویا نہ تھا
اتنے روشن چہرے پر بھیسورج کا ہے سایا چاند
آغوش میں زمیں کی سویا ہوا ہو سبزہپھر پھر کے جھاڑیوں میں پانی چمک رہا ہو
نیند کا ہلکا گلابی سا خمار آنکھوں میں تھایوں لگا جیسے وہ شب کو دیر تک سویا نہیں
بے چین اس قدر تھا کہ سویا نہ رات بھرپلکوں سے لکھ رہا تھا ترا نام چاند پر
سایہ شاعری ہی کیا عام زندگی میں بھی سکون اور راحت کی ایک علامت ہے ۔ جس میں جاکر آدمی دھوپ کی شدت سے بچتا ہے اور سکون کی سانسیں لیتا ہے ۔ البتہ شاعری میں سایہ اور دھوپ کی شدت زندگی کی کثیر صورتوں کیلئے ایک علامت کے طور پر برتی گئی ہے ۔ یہاں سایہ صرف دیوار یا کسی پیڑ کا ہی سایہ نہیں رہتا بلکہ اس کی صورتیں بہت متنوع ہوجاتی ہیں۔ اسی طرح دھوپ صرف سورج ہی کی نہیں بلکہ زندگی کی تمام ترتکلیف دہ اور منفی صورتوں کا استعارہ بن جاتی ہے ۔
सोयाسویا
سونا (رک) کا ماضی (تراکیب میں مستعمل).
सायाسایا
چھاؤں، پناہ، آسیب
सायाسایَہ
فارسی
روشنی کے سامنے کسی مُجَسّم شے کے حائل ہو جانے کی وجہ سے پیدا ہونی والی تاریکی، پرچھائیں
सियाسِیا
stitched
غلام عباس سوانح و فن کا تحقیقی جائزہ
تنقید
منظر جاگتا سوتا ہوا
محمد سلیم الرحمٰن
مجموعہ
موت کا سایہ
جیمس ہیڈلے چیز
جادو، جنات، آسیب، سایا کا قرآنی آیات سے علاج
مولانا محمد طاہر
اسلامیات
بادل کا سایہ
شہناز کنول
رومانی
چالاک سونا
ونیتا کرشنا
پرتھم بکس
شجر ھائے سایہ دار
عبادت بریلوی
تذکرہ
شجر سایہ دار
افسانہ / کہانی
سایہ شیطان
ڈینس وھیٹلی
جاسوسی
ڈاکٹر فومانچو کا سایہ
کشن چند ماتھر تسلیم دہلوی
قصہ / داستان
سوئے حجاز
حیدر قریشی
سفر نامہ
ڈھلتا سورج بڑھتا سایہ
منجو قمر
ڈرامہ
دھوپ اور سایہ
بیدار بھوپالی
زندگی مجھ سے اور کیا لے گی
شاعری
سحر پر سکوں ہے یہاں، سایہ دار میں
ناول
ترک تعلقات پہ رویا نہ تو نہ میںلیکن یہ کیا کہ چین سے سویا نہ تو نہ میں
میں رات ٹوٹ کے رویا تو چین سے سویاکہ دل کا زہر مری چشم تر سے نکلا تھا
مل کر جدا ہوئے تو نہ سویا کریں گے ہماک دوسرے کی یاد میں رویا کریں گے ہم
کون دہرائے پھر وہی باتیںغم ابھی سویا ہے جگائے کون
بھیگ چلیں اب رات کی پلکیںتو اب تھک کر سویا ہوگا
دل منافق تھا شب ہجر میں سویا کیسااور جب تجھ سے ملا ٹوٹ کے رویا کیسا
کھلی آنکھوں میں سپنا جھانکتا ہےوہ سویا ہے کہ کچھ کچھ جاگتا ہے
سویا ہوا تھا شہر کسی سانپ کی طرحمیں دیکھتا ہی رہ گیا اور چاند ڈھل گیا
بدن چراتے ہوئے روح میں سمایا کرمیں اپنی دھوپ میں سویا ہوا ہوں سایا کر
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books