aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "talKHi-e-kaam"
تلخیٔ کام و دہن دنیا سے جو مجھ کو ملیجھلکیاں اس کی نہ آئیں کچھ مری تحریر میں
بہ قدر ذوق طلب مے عطا ہو رندوں کویہ میکدہ ہے یہاں رسم بیش و کم کیوں ہو
ملی جو فرصت یک لمحہ زندگی کے لئےہزار کام نکل آئے آدمی کے لئے
تلخیٔ کام و دہن سے کہیں غم دھلتے ہیںظالمو تلخیٔ ایام کی کچھ بات کرو
تلخیٔ کام و دہن کب سے عذاب جاں ہےاب تو یہ زہر رگ و پے میں اتر بھی جائے
تلخیص بحرالفصاحت
نجم الغنی خان نجمی رامپوری
شاعری تنقید
ڈرامے کا تاریخی و تنقیدی پس منظر
محمد اسلم قریشی
تنقید
تجدید تعلیم و تبلیغ
عبد الباری
تعلیمی ترک موالات کا مقصد
ابوالکلام آزاد
مسلمانان ہند کا تعلیمی مسلئہ
محفوظ الرحمٰن نامی
مسلمانان دہلی کی تعلیمی ترقی کا سرچشمہ انگلو عربک کالج
پبلیسٹی سب کمیٹی انگلو عربک کالج دہلی
جاپان اور اس کا تعلیمی نظم و نسق
سید راس مسعود
تعلیم
شہید کربلا کا دفاع
حسن احمد صدیقی
تاریخ اسلام
فقہ اسلامی کا تاریخی پس منظر
محمد تقی امینی
اسلامیات
تخت طاؤس
محمد عبداللطیف خان کشتہؔ
تاریخ
مشاہیر اسلام علی مرتضی
سید محمد منظور علی رضوی
جادۂ تسخیر
محمد حیدر علی خاں
سوانح حیات
حقوق انسانی کا تاریخی ارتقاء
شکیل احمد حبیبی
خیابان بیخزان
مولوی محمد مرتضیٰ خاں بہادر
ملفوظات
ممالک اسلامیہ تاریخی حیثیت اور وسائل کا جائزہ
رانا رحمان ظفر
اسی مے خوار کی عظمت ہے ساقی کی نگاہوں میںجسے زمزمؔ گوارہ تلخیٔ کام و دہن بھی ہے
تیرے بغیر تلخی کام و دہن حرامدرد جگر ہے لذت درد جگر نہیں
رگ و پے میں جب اترے زہر غم تب دیکھیے کیا ہوابھی تو تلخیٔ کام و دہن کی آزمائش ہے
تلخیٔ کام و دہن کشمکش ذہن و وجودایک ہستی کے لئے یہ سر و ساماں کیوں ہے
لذت کشان ساغر عشرت کو کیا خبررنج خمار تلخیٔ کام و دہن سے پوچھ
آؤ علاج تلخئ کام و گلو کریںکچھ دیر شغل جام رہے گفتگو کریں
نہ راس آئی کبھی مجھ کو بزم کم نظراںفضاؔ بھی بیٹھ کے ان پاگلوں میں کیا کرتا
ہم سے مل کے فطرت کے پیچ و خم کو سمجھو گےہم جہان فطرت کا اک سراغ ہیں یارو
یہ کن دکھوں نے چم و خم تمام چھین لیاشعاع مہر سے ہم بھی شرر کی گرد ہوئے
سرور بادۂ ہستی کو اس دور تباہی میںشہید تلخیٔ کام و دہن کہنا ہی پڑتا ہے
تلخی کام و دہن کی آبیاری کے لیےدعوت شیراز ابر و باد کر لیتے ہیں ہم
سچ تھا وہ زہر گوارا ہی کسی کو نہ ہواتلخی ذائقۂ کام و زیاں میں ہی تھا
خال و خط کے ورق لمحۂ رفتہ کب کا چرا لے گیاکیا چھپاتے ہیں اب میری بے چہرگی کی خبر آئنے
آئنہ صاف دل اتنا بھی نہیں اب کہ تمہیںاصل چہرے کے خط و خال دکھا ہی دے گا
لہو ہی کتنا ہے جو چشم تر سے نکلے گایہاں بھی کام نہ عرض ہنر سے نکلے گا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books