aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "toshak"
آشو توش
born.1984
شاعر
ادارہ تیشہ، حیدرآباد
ناشر
شیشۂ و تیشہ، بنگلور
مکتبۃ الشرق، کراچی
کیسے تکیے کیسے توشک کیسا ہوتا ہے پلنگمیں وہ غافل ہوں مرے گھر آ کے پچھتاتی ہے نیند
توشک کے پھول بن گئے انگارے ہجر میںدہکا کی ایک آگ سی سارے پلنگ پر
دھوپ میں توشک پھیلانےکپڑے بستر بند سکھانے
توشک بالا پوش رضائی ہے بھولے مجنوں برسوں تکجب دکھلاوے زلف سجن کی بن میں آوتے ابروں کو
خوشی شادمانی کی کتنی بڑی اور حسیں سلطنت میرے زیر نگیں ہےیہ مخمل سا توشک نما سبزہ
آئینے کو موضوع بنانے والی یہ شاعری پہلے ہی مرحلے میں آپ کو حیران کر دے گی ۔ آپ دیکھیں گے کہ صرف چہرہ دیکھنے کے لئے استعمال کیا جانے والا آئینہ شاعری میں آکر معنی کتنی وسیع اور رنگا رنگ دنیا تک پہنچنے کا ذریعہ بن گیا اور محبوب سے جڑے ہوئے موضوعات کے بیان میں اس کی علامتی حیثیت کتنی اہم ہوگئی ہے ۔یقیناً آپ آج آئینہ کے سامنے نہیں بلکہ اس شاعری کے سامنے حیران ہوں گے جو آئینہ کو موضوع بناتی ہے ۔
آئینے کو موضوع بنانے والی یہ شاعری پہلے ہی مرحلے میں آپ کو حیران کر دے گی ۔ آپ دیکھیں گے کہ صرف چہرہ دیکھنے کے لئے استعمال کیا جانے والا آئینہ شاعری میں آکر معنی کتنی وسیع اور رنگا رنگ دنیا تک پہنچنے کا ذریعہ بن گیا اور محبوب سے جڑے ہوئے موضوعات کے بیان میں اس کی علامتی حیثیت کتنی اہم ہوگئی ہے ۔یقیناً آپ آج آئینہ کے سامنے نہیں بلکہ ا س شاعری کے سامنے حیران ہوں گے جو آئینہ کو موضوع بناتی ہے ۔
گناہ ایک خالص مذہبی تصور ہے لیکن شاعروں نے اسے بہت مختلف طور سے لیا ہے ۔ گناہ کا خوف میں مبتلا کر دینے والا خیال ایک خوشگوار صورت میں تبدیل ہوگیا ہے ۔ یہ شاعری آپ کو گناہ ، ثواب ،خیر وشر کے حوالے سے بالکل ایک نئے بیانیے سے متعارف کرائے گی۔
पोशाकپوشاک
فارسی
لباس، پہننے کے کپڑے
गोशाگوشا
گوشہ
तोशाتوشا
तोशकتوشَک
روئی دار بستر، گبّھا
تیشہ
ظفر گورکھپوری
مجموعہ
توشۂ آخرت
حمید ویشالوی
نعت
انوار الاولیا
خلیل الرحمٰن نندن پوری
تاریخ تصوف
تحقق آراضی ہند
شیخ جلال الدین تھانیسری
زاد الاخرۃ
امام محمد غزالی
فلسفہ تصوف
شیشہ و تیشہ
کنہیا لال کپور
آگہی کا تیشہ
مبارک انصاری
غزل
توشۂ آخرت
ابن قیم الجوزیہ
شاہد صدیقی
نثر
شیشہ وتیشہ
عاقبت کا توشہ
نکہت حسن
کہانیاں/ افسانے
سید مظفر علی خاں
تیشہ کرب
تیشۂ فرہاد
طفیل دارا
توزک تیموری
سبحان بخش
عجب چراغ ہوں دن رات جلتا رہتا ہوںمیں تھک گیا ہوں ہوا سے کہو بجھائے مجھے
اس سفر میں نیند ایسی کھو گئیہم نہ سوئے رات تھک کر سو گئی
ہم سخن تیشہ نے فرہاد کو شیریں سے کیاجس طرح کا کہ کسی میں ہو کمال اچھا ہے
اے شخص میں تیری جستجو سےبے زار نہیں ہوں تھک گیا ہوں
راتوں کو چلنے والے رہ جائیں تھک کے جس دمامید ان کی میرا ٹوٹا ہوا دیا ہو
بچھڑ کر اس کا دل لگ بھی گیا تو کیا لگے گاوو تھک جائے گا اور میرے گلے سے آ لگے گا
تھکنا بھی لازمی تھا کچھ کام کرتے کرتےکچھ اور تھک گیا ہوں آرام کرتے کرتے
تھک گیا میں کرتے کرتے یاد تجھ کواب تجھے میں یاد آنا چاہتا ہوں
تھک جاتا تھا بادل سایہ کرتے کرتےاور پھر میں بادل پہ سایہ کرتا تھا
تھک ہار کے بیٹھے ہیں سر کوئے تمناکام آئے تو پھر جذبۂ ناکام ہی آئے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books