aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "zillat-e-arbaab-e-nazar"
ساقی ارباب ذوق
عطیہ کار
حلقۂ ارباب ذوق، حیدرآباد
ناشر
حلقۂ ارباب ذوق، نئی دہلی
حلقۂ ارباب ذوق
مدیر
حلقۂ ارباب ذوق، لاہور
بزم ارباب سخن، کراچی
بزم ارباب ادب، کلکتہ
انجمن ارباب اردو، حیدرآباد
حلقۂ ارباب ادب، بھوپال
حلقۂ ارباب ادب، امرتسر
حلقۂ ارباب فکر، دہلی
حلقہ ارباب دانش
حلقہ ارباب فکر، حیدرآباد
حلقہ ارباب اردو، کڑگاؤں
مہتمم حلقۂ ارباب فکر
بیتابیٔ ارباب نظر باقی ہےبے چارگیٔ زخم جگر باقی ہے
آج بھی کوئی نہیں پوچھتا اہل دل کوآج بھی ذلت ارباب نظر ہے کہ جو تھی
جلوۂ ارباب دنیا دیکھیےسوانگ ہے یہ بھی تماشا دیکھیے
عبث ہے پیش ارباب سخن عزم سخن مجھ کووفا کہنے نہ دے گی قصۂ رنج و محن مجھ کو
جانے کیا قیمت ارباب وفا ٹھہرے گیمیں اگر عرض کروں گا تو خطا ٹھہرے گی
نظیر اکبرآبادی اپنے رنگ کے ایک انوکھے شاعر تھے . انکی شاعری میں ہندوستانی تہذیب کے تمام تمام رنگ دیکھنے کو ملتے ہیں- انکی شاعری مذہبی اور ثقافتی اتحاد کا بہترین نمونہ ہے- پیش ہیں ہولی پر نظیر کی مقبول نظمیں-
ارباب نظر
ناصر الدین انصار
خاکے/ قلمی چہرے
پروفیسر عبدالحق
زبان و ادب
حلقہ ارباب ذوق
یونس جاوید
ادبی تحریکیں
مسلک ارباب حق
شاہ وجیہ الدین احمد خان
نئی تحریریں
قیوم نظر
انتخاب
حلقہ ارباب ذوق اور اردو نظم
زرینہ زریں
تنقید
ارباب علم و ادب کی تصاویر
حافظ ملت ارباب علم و دانش کی نظر میں
محمد طفیل احمد مصباحی
ارباب نثر اردو
مولوی سید محمد
امام احمد رضا
یسین اختر مصباحی
سوانح حیات
رحیل صدیقی
تذکرہ
سید محمد قادری
چند ارباب کمال
ضیاء الدین اصلاحی
رحیم الدین کمال
کنیز فاطمہ اور ارباب زمانہ
قاضی عزیز الدین
کیا کام انہیں پرسش ارباب وفا سےمرتا ہے تو مر جائے کوئی ان کی بلا سے
اندیشۂ ارباب حرم ساتھ رہے گاجنت بھی ملے گی تو یہ غم ساتھ رہے گا
بے مہرئ ارباب وطن کم تو نہیں ہےہاں دیکھنا اس دل کی چبھن کم تو نہیں ہے
حریف شیوۂ ارباب گلستاں نہ ہوافریب خوردہ رنگینی جہاں نہ ہوا
حادثات دہر میں وابستۂ ارباب دردلی جہاں کروٹ کسی نے انقلاب آ ہی گیا
ہم نشیں تیری بھی آنکھوں میں جھلکتا ہے دھواںتو بھی منجملۂ ارباب نظر لگتا ہے
حسن کی جلوہ گہہ ناز کا افسوں تسلیمیہی قرباں گۂ ارباب نظر کیوں ہو جائے
میں تو آواز تھا کیسے نظر آتا اے نورؔصرف رسوائیٔ ارباب نظر ہونی تھی
ابھرے گا یقیناً کوئی دم میں کوئی سورجبیتابیٔ ارباب نظر یوں ہی نہیں ہے
تم ہی اچھے تھےجو منجملۂ ارباب نظر رہتے تھے
چلو اچھا ہی ہوا مفت لٹا دی یہ جنسہم کو ملتا صلۂ حسن نظر ہی کتنا
یہ کیا خبر تھی کہ اے رنج رائگاں نفسیدھواں بھی سینۂ اہل نظر سے نکلے گا
یہاں شعور کے ناخن تو ہم بھی رکھتے ہیںمگر یہ عقدۂ فکر و نظر کہاں کھولیں
عجب شے ہے فضاؔ ذہن و نظر کی یہ اسیری بھیمسلسل دیکھتے رہنا برابر سوچتے رہنا
اس آئنہ میں کوئی عکس یوں نہ ابھرے گانظر سے سلسلۂ دانش نظر باندھو
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books