aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "zinda"
زندہ طلسمات مشین پریس، حیدرآباد
ناشر
احمد جام زندہ پیل
مصنف
زندہ کول
شاعر
زندہ دلان حیدرآباد
انجمن زندہ دلانِ، سہارنپور
زندے رضا مہدی
بے دلی کیا یوں ہی دن گزر جائیں گےصرف زندہ رہے ہم تو مر جائیں گے
میں تمہارے ہی دم سے زندہ ہوںمر ہی جاؤں جو تم سے فرصت ہو
کس نے ٹھنڈا کیا آتشکدۂ ایراں کوکس نے پھر زندہ کیا تذکرۂ یزداں کو
امرا نشۂ دولت میں ہیں غافل ہم سےزندہ ہے ملت بیضا غربا کے دم سے
زندگی زندہ دلی کا ہے ناممردہ دل خاک جیا کرتے ہیں
کلاسیکی اور جدید شاعری میں زنداں کا استعارہ بہت مستعمل ہے اور دونوں جگہ اس کی معنویتی جہتیں بہت پھیلی ہوئی ہیں ۔ کلاسیکی شاعری میں زنداں کا سیاق خالص عشقیہ تھا لیکن جدید شعرا نے اس لفظ کو اپنے عہد کی سیاسی اور سماجی صورتحال سے جوڑ کر اس میں اور وسعتیں پیدا کی ہیں ۔ ہمارے اس انتخاب کو پڑھئے اور دیکھئے کہ تخلیق کار ایک ہی لفظ کو کتنے الگ الگ رنگوں میں برتتا ہے اور لفظ کس طرح معنی کی سطح پر اپنا سفر طے کرتا ہے ۔
ज़िंदाزِنْدَہ
فارسی
جیتا، ذِی حِس، ذی حیات، جاندار، ذی رُوح
ज़िंदाँزنداں
بندی خانہ، قید خانہ
ज़िंदीزِنْدی
نور (یزداں) اور ظُلمت (اہرمن) کے نظریے کا یا عقیدے کا قائل ، دہریہ ، بے دین ، وہ شخص جو نُور اور تاریکی کے اصول کا معتقد ہو.
ज़िनाزِنا
عربی
بنا شادی کے مباشرت، فحش کام، بدکاری، کسی عورت سے غیر شرعی یا غیر قانونی مباشرت
زندہ رود
جاوید اقبال
سوانح حیات
میرے لوگ زندہ رہیں گے
لیلی خالد
خواتین کے تراجم
زندہ مردے
جون برکے
ناول
دکن زندہ کردم
قیوم صادق
اشاریہ
زندہ ہوں
حمیدہ شاہین
شاعری
زندہ مسیح اور اناجیل اربعہ
میں زندہ آدمی ہوں
خالد حسین
خود نوشت
زندہ اپنی باتوں میں
فیاض رفعت
پسِ مرگ زندہ
نور عالم خلیل امینی
جب تک آنکھیں زندہ ہیں
نیلما ناہید درانی
مجموعہ
باز آؤ اور زندہ رہو
محمد حنیف رامے
زبان و ادب
آنکھ کی پتلی میں زندہ عکس
فیروز ناطق خسرو
نظم
آنکھ میں پانی رکھو ہونٹوں پہ چنگاری رکھوزندہ رہنا ہے تو ترکیبیں بہت ساری رکھو
بول کہ سچ زندہ ہے اب تکبول جو کچھ کہنا ہے کہہ لے
اصولوں پر جہاں آنچ آئے ٹکرانا ضروری ہےجو زندہ ہو تو پھر زندہ نظر آنا ضروری ہے
پیاسے رہے جاتے ہیں زمانے کے سوالاتکس کے لیے زندہ ہوں بتا بھی نہیں سکتا
تم سے بچھڑ کر زندہ ہیںجان بہت شرمندہ ہیں
ہزاروں شیر میرے سو گئے کاغذ کی قبروں میںعجب ماں ہوں کوئی بچہ مرا زندہ نہیں رہتا
کیسے کسی کی یاد ہمیں زندہ رکھتی ہےایک خیال سہارا کیسے ہو سکتا ہے
آباد ہم آشفتہ سروں سے نہیں مقتلیہ رسم ابھی شہر میں زندہ ہے کہ تم ہو
زندہ ہوں مگر زیست کی لذت نہیں باقیہر چند کہ ہوں ہوش میں ہشیار نہیں ہوں
ابھی زندہ ہے ماں میری مجھے کچھ بھی نہیں ہوگامیں گھر سے جب نکلتا ہوں دعا بھی ساتھ چلتی ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books