aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "zindo.n"
زندہ طلسمات مشین پریس، حیدرآباد
ناشر
زندے رضا مہدی
زندہ کول
شاعر
احمد جام زندہ پیل
مصنف
ابراہیم زیدان
زندہ دلان حیدرآباد
انجمن زندہ دلانِ، سہارنپور
اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہےسر آدم ہے ضمیر کن فکاں ہے زندگی
مقبرے بنتے ہیں زندوں کے مکانوں سے بلندکس قدر اوج پہ تکریم ہے انسانوں کی
کتابوں کی دنیا مردوں اور زندوں دونوں کے بیچ کی دنیا ہے۔...
میں وہ مردہ ہوں کہ آنکھیں مری زندوں جیسیبین کرتا ہوں کہ میں اپنا ہی ثانی نکلا
تن بے روح سے بے زار ہے حقخدائے زندہ زندوں کا خدا ہے
کلاسیکی اور جدید شاعری میں زنداں کا استعارہ بہت مستعمل ہے اور دونوں جگہ اس کی معنویتی جہتیں بہت پھیلی ہوئی ہیں ۔ کلاسیکی شاعری میں زنداں کا سیاق خالص عشقیہ تھا لیکن جدید شعرا نے اس لفظ کو اپنے عہد کی سیاسی اور سماجی صورتحال سے جوڑ کر اس میں اور وسعتیں پیدا کی ہیں ۔ ہمارے اس انتخاب کو پڑھئے اور دیکھئے کہ تخلیق کار ایک ہی لفظ کو کتنے الگ الگ رنگوں میں برتتا ہے اور لفظ کس طرح معنی کی سطح پر اپنا سفر طے کرتا ہے ۔
ज़िंदाँزنداں
فارسی
بندی خانہ، قید خانہ
ज़िंदानزِندان
قیدخانہ، مجس، جیل خانہ، جیل
'आलम-ए-ज़िंदाँعَالَمِ زِنْدَاں
عربی, فارسی
جیل خانہ کے حالات
दीवार-ए-ज़िंदाँدِیوَار زِنْدَاں
جیل کی دیوار، قید خانے کی دیوار
زندہ رود
جاوید اقبال
سوانح حیات
زنداں نامہ
فیض احمد فیض
مجموعہ
عورت: زندگی کا زنداں
زاہدہ حنا
مقالات/مضامین
مشاہدات زنداں
حسرتؔ موہانی
خود نوشت
زندگی زنداں دلی کا نام ہے
ظفراللہ پوشنی
انتخاب
زنداں کے شب و روز
زینب الغزالی
میرے لوگ زندہ رہیں گے
لیلی خالد
خواتین کے تراجم
پس دیوار زنداں
شورش کاشمیری
زندہ مردے
جون برکے
ناول
نقوش زنداں
رضیہ سجاد ظہیر
تاریخ و تنقید
دکن زندہ کردم
قیوم صادق
اشاریہ
زینوں سے گزرتی زندگی
شاہد رضا
زندہ ہوں
حمیدہ شاہین
شاعری
میں ایسے شخص کو زندوں میں کیا شمار کروںجو سوچتا بھی نہیں خواب دیکھتا بھی نہیں
موج کی طرح بہا درد کے دریاؤں میںاس طرح زندہ بچا کون مگر جی نکلا
یہ ہم زندوں سے ممکن ہی نہیں ہےجو کچھ مردوں سے مردے بولتے ہیں
بہت دنوں سے میں زندوں میں تھا نہ مردوں میںغزل ہوئی تو مرے دشت میں غزال آیا
ہیں نہ زندوں میں نہ مردوں میں کمر کے عاشقنہ ادھر کے ہیں الٰہی نہ ادھر کے عاشق
دو ابرو اور دو لب جاں بخش یار کےزندوں کو قتل کر چکے مردے جلا چکے
زندوں کی ہے زباں کی مزیداری شب براتمردوں کی روح کی ہے مددگاری شب برات
یہاں تو رسم ہے زندوں کو دفن کرنے کیکسی بھی قبر سے مردہ کہاں نکلتا ہے
اسیر حال نہ مردوں میں ہیں نہ زندوں میںزبان کٹتی ہے آپس میں گفتگو کرتے
کتنے آداب سے مقتل کو سجایا گیا ہےپھر تری بزم سے زندوں کو اٹھایا گیا ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books