aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "zulf"
کہتا ہے کوئی جیم کوئی لام زلف کوکہتا ہوں میں ظفرؔ کہ مسطح ہے کاف زلف
یہ کعبے میں کہاں لے آئے میرے ہم سفر مجھ کودل وحشی تو شیدا لیلیٰٔ زلف صنم کا ہے
سیف زلفی
1934 - 1991
شاعر
تسلیم الہی زلفی
born.1947
شکن زلف عنبریں کیوں ہےنگہ چشم سرمہ سا کیا ہے
آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہوتے تککون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تک
یہ زلف اگر کھل کے بکھر جائے تو اچھااس رات کی تقدیر سنور جائے تو اچھا
مانگے ہے پھر کسی کو لب بام پر ہوسزلف سیاہ رخ پہ پریشاں کیے ہوئے
آنکھ ہے ترک زلف ہے صیاددیکھیں دل کا شکار کون کرے
شاعری میں زلف کا موضوع بہت دراز رہا ہے ۔ کلاسیکی شاعری میں تو زلف کے موضوع کے تئیں شاعروں نے بے پناہ دلچسپی دکھائی ہے یہ زلف کہیں رات کی طوالت کا بیانیہ ہے تو کہیں اس کی تاریکی کا ۔اور اسے ایسی ایسی نادر تشبہیوں ، استعاروں اور علامتوں کے ذریعے سے برتا گیا ہے کہ پڑھنے والا حیران رہ جاتا ہے ۔ شاعری کا یہ حصہ بھی شعرا کے بے پناہ تخیل کی عمدہ مثال ہے ۔
ज़ुल्फ़زُلْف
فارسی
پیشانی کے اوپر اور سر کے سامنے کے بالوں کی لٹ جو کان کے قریب ہوتی ہے، کاکل، گیسو
ज़ुल्फ़ाزُلْفَہ
پیالہ، تشت
ज़ुल्मظُلْم
عربی
کسی بات میں کمی یا بیشی جو حق و انصاف کے خلاف ہو، نا انصافی، زیادتی
गुलेگُلے
ہندی
شمالی ہندوستان کا ایک درخت
زلف پریشاں
عبد الحمید عدم
غزل
زلف میں الجھی دھوپ
ملک زادہ جاوید
مجموعہ
ہم زلف
شوکت تھانوی
افسانہ
زلف یار
حسین علوی
رومانی
وہ زلف پریشاں ہے ابھی
سرفراز ابد
رات اور زلف
کرن کاشمیری
ناول
یه فسانه زلف دراز كا
بہزاد فاطمی
آرٹیکل کلیکشن
زلفی
محمد عنایت اللہ خاں
محمد عنایت اللہ
میری کتابیں
میرا دوست زلفی
پیلو مودی
شبان ہجراں دراز چوں زلف و روز وصلت چوں عمر کوتاہسکھی پیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں
آہ کو چاہیئے اک عمر اثر ہوتے تککون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تک
حضرت زلف غالیہ افشاںنام اپنا صبا صبا کیجے
چہرے پہ مرے زلف کو پھیلاؤ کسی دنکیا روز گرجتے ہو برس جاؤ کسی دن
تو جو اے زلف پریشان رہا کرتی ہےکس کے اجڑے ہوئے دل میں ہے ٹھکانا تیرا
چھلکے ہوئے تھے جام پریشاں تھی زلف یارکچھ ایسے حادثات سے گھبرا کے پی گیا
اپنے سر اک بلا تو لینی تھیمیں نے وہ زلف اپنے سر لی ہے
جو دیکھتے تری زنجیر زلف کا عالماسیر ہونے کی آزاد آرزو کرتے
اسے کیوں ہم نے دیا دل جو ہے بے مہری میں کامل جسے عادت ہے جفا کیجسے چڑھ مہر و وفا کی جسے آتا نہیں آنا غم و حسرت کا مٹانا جو ستم میں ہے یگانہجسے کہتا ہے زمانہ بت بے مہر و دغا باز جفا پیشہ فسوں ساز ستم خانہ بر اندازغضب جس کا ہر اک ناز نظر فتنہ مژہ تیر بلا زلف گرہ گیر غم و رنج کا بانی قلق و دردکا موجب ستم و جور کا استاد جفا کاری میں ماہر جو ستم کیش و ستم گر جو ستم پیشہ ہےدلبر جسے آتی نہیں الفت جو سمجھتا نہیں چاہت جو تسلی کو نہ سمجھے جو تشفی کو نہجانے جو کرے قول نہ پورا کرے ہر کام ادھورا یہی دن رات تصور ہے کہ ناحقاسے چاہا جو نہ آئے نہ بلائے نہ کبھی پاس بٹھائے نہ رخ صاف دکھائے نہ کوئیبات سنائے نہ لگی دل کی بجھائے نہ کلی دل کی کھلائے نہ غم و رنج گھٹائے نہ رہ و رسمبڑھائے جو کہو کچھ تو خفا ہو کہے شکوے کی ضرورت جو یہی ہے تو نہ چاہو جو نہچاہو گے تو کیا ہے نہ نباہو گے تو کیا ہے بہت اتراؤ نہ دل دے کے یہ کس کام کا دلہے غم و اندوہ کا مارا ابھی چاہوں تو میں رکھ دوں اسے تلووں سے مسل کر ابھی منہدیکھتے رہ جاؤ کہ ہیں ان کو ہوا کیا کہ انہوں نے مرا دل لے کے مرے ہاتھ سے کھویا
ہو رہا ہے جہان میں اندھیرزلف کی پھر سرشتہ داری ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books